پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بنیادی مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، نظم و ضبط قائم رکھنا اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصے سے ایسے واقعات بار بار سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے ایک سنجیدہ سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا واقعی قانون نافذ ہو رہا ہے یا پھر طاقت اور اختیار کا اظہار کیا جا رہا ہے؟
جب ریاستی اختیار انصاف، تحمل اور قانون کی بالادستی کے بجائے سرعام تذلیل، سختی اور طاقت کے مظاہرے کی شکل اختیار کر لے تو معاشرے میں قانون کا احترام پیدا نہیں ہوتا بلکہ خوف جنم لیتا ہے۔ اور جب خوف حد سے بڑھ جائے تو اس کے بطن سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔ یہی نفرت بعض اوقات محب وطن شہری نہیں بلکہ باغی، مجرم اور ریاست سے بدظن افراد کو جنم دیتی ہے، جو بعد ازاں ملک و قوم کے لیے نقصان اور معاشرتی انتشار کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے پر جامع، مؤثر اور دانشمندانہ حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔
حال ہی میں لاہور میں ایک واقعہ سامنے آیا جہاں ایک ٹریفک وارڈن اور ایک خاتون کے درمیان تلخ کلامی کے دوران خاتون کو دھکا دینے کی ویڈیو منظر عام پر آئی۔ یہاں مقصد نہ تو صرف وارڈن کو قصوروار قرار دینا ہے اور نہ ہی خاتون کو مکمل طور پر بے قصور ثابت کرنا، بلکہ سوال اس طرزِ عمل پر ہے کہ ایسے حساس معاملات میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟
اسی طرح ایک اور واقعہ میں ایک خاتون اسسٹنٹ کمشنر کی ویڈیو منظر عام پر آئی، جس میں وہ اپنی فورس کے ساتھ شہریوں کے خلاف کارروائی کرتی دکھائی دیں۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو تپتی دھوپ میں بغیر کسی چھت کے سرکاری ڈالے میں ڈال کر لے جایا جا رہا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کسی نے خلاف ورزی کی بھی ہے تو کیا اس کی سزا سرعام تذلیل اور غیر انسانی رویہ ہے؟
کس کس واقعے کا ذکر کیا جائے؟ تقریباً ہر روز عوام کی تذلیل کا کوئی نہ کوئی نیا انداز دیکھنے کو ملتا ہے۔ کہیں دکانداروں کو بازار میں ذلیل کیا جاتا ہے، کہیں ٹھیلے والوں کو مارا پیٹا جاتا ہے، کہیں معمولی خلاف ورزی پر گالی گلوچ اور دھکم پیل ہوتی ہے، اور کہیں شہریوں کو سرعام عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔
گزشتہ دنوں ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا، جس میں ایک وفاقی ادارے کے اہلکار ایک باپ کو اس کے بیٹے کے سامنے تھپڑ مارتے دکھائی دیے۔ یہ منظر صرف ایک فرد پر تشدد نہیں تھا بلکہ ایک خاندان کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کا واقعہ تھا۔ اگر کوئی بیٹا اپنے باپ کو سرعام بے عزت ہوتے دیکھے تو اس کے دل و دماغ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ یہ سوال ہر صاحبِ دل انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ کسی دکاندار، سبزی فروش، ٹھیلے والے یا چھوٹے کاروبار کرنے والے شہری کے خلاف اگر قیمتوں میں اضافہ، تجاوزات یا معمولی نوعیت کی خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو قانون کے مطابق نوٹس دینے، جرمانہ کرنے یا قانونی کارروائی کے بجائے سرعام اس کی تذلیل کی جاتی ہے۔ کہیں تشدد کیا جاتا ہے، کہیں سخت زبان استعمال کی جاتی ہے، اور کہیں اسے لوگوں کے سامنے رسوا کیا جاتا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا قانون نافذ کرنے کا مطلب شہری کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا ہے؟ اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اس کے لیے ملک میں قوانین، عدالتیں اور ضابطے موجود ہیں۔ سزا دینا ریاست کا حق ہے، لیکن تذلیل کرنا کسی بھی قانون کا حصہ نہیں۔
ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ جب پولیس کسی ملزم کو گرفتار کرتی ہے تو میڈیا کے سامنے اس کے چہرے پر نقاب ڈال دیا جاتا ہے تاکہ اس کی شناخت اور عزت محفوظ رہے، لیکن دوسری طرف معمولی نوعیت کی خلاف ورزی کرنے والے شہری کو بازاروں اور سڑکوں پر سرعام ذلیل کیا جاتا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ویڈیوز بنائی جاتی ہیں اور وہ سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہتی ہیں۔ یہ دوہرا معیار کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
اختیار ایک امانت ہے۔ یونیفارم یا سرکاری عہدہ کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ شہریوں کی عزتِ نفس کو پامال کرے۔ طاقت کا اصل مقصد انصاف قائم کرنا ہے، خوف پیدا کرنا نہیں۔
حکومتِ وقت، وزیراعلیٰ پنجاب، وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان اور متعلقہ اداروں کے سربراہان کو اس حساس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے، لیکن قانون کے مطابق، انسانی وقار کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔ سزا جرم کے مطابق ہونی چاہیے، سرعام تذلیل اور تشدد کسی بھی مہذب معاشرے کا شیوہ نہیں۔
ریاست کی طاقت کا اصل حسن انصاف، تحمل اور قانون کی بالادستی میں ہے، نہ کہ شہریوں کو سرعام ذلیل کر کے اپنی طاقت دکھانے میں۔ کیونکہ جب اختیار انصاف کے بجائے طاقت کا مظاہرہ بن جائے تو معاشرے میں قانون کا احترام نہیں بلکہ خوف جنم لیتا ہے، اور جب خوف نفرت میں بدل جائے تو اس کے نتائج صرف ایک فرد نہیں بلکہ پوری ریاست اور معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
قانون کی بالادستی کا تقاضا یہ ہے کہ انصاف نظر بھی آئے اور محسوس بھی ہو، کیونکہ ایک مہذب ریاست کی پہچان طاقت نہیں بلکہ انصاف ہوتا ہے۔
قانون کا نفاذ یا طاقت و اختیار کا اظہار؟
