پٹرول کی قیمت 360 روپے تک پہنچ جانے کا خدشہ، حکومت کا آئی ایم ایف کا مطالبہ پورا کرنے کا فیصلہ، تیل کی قیمتوں میں اضافے کا تمام بوجھ عوام پر منتقل کیا جائےگا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مارچ2026ء) حکومت عوام پر مہنگائی کا “ایٹم بم” گرانے کیلئے تیار، پٹرول کی قیمت 360 روپے تک پہنچ جانے کا خدشہ، حکومت کا آئی ایم ایف کا مطالبہ پورا کرنے کا فیصلہ، تیل کی قیمتوں میں اضافے کا تمام بوجھ عوام پر منتقل کیا جائےگا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ طے کیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہونے کا تمام بوجھ عوام پر منتقل کیا جائے گا۔ سابق وزیر خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا ایران جنگ جاری رہی تو پاکستان میں پٹرول کی قیمت 360 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عید سے قبل عوام پرمہنگائی کا تباہ کن بم گرائے جانے کا امکان ہے، مشرقِ وسطی میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کے اثرات پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں جاری جنگ سے بدلتی صورتحال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری دیدی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات اسٹاک اور کھپت پر کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ کی جانب سے وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات کی ہفتہ وار قیمتوں کے تعین کے بارے میں سفارشات پیش کیں جسے وزیراعظم نے منظور کرلیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ای سی سی پیٹرولیم مصنوعات کی ہفتہ وار قیمتوں کے بارے میں سفارشات دے گی، ای سی سی سے منظوری کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی سمری کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔ وزیر اعظم نے یہ ہدایت بھی کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت سے متعلق ڈیش بورڈ بنایا جائے، جس کے ذریعے صوبوں کے ساتھ رئیل ٹائم ڈیٹا شیئر ہو اور پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کی نگرانی کی جائے۔