تحریر ۔نظام الدین
میرے ایک وکیل دوست نے آڈیو پیغام کے ذریعے مجھ سے سوال کیا کہ کیا اشرف طائی پریس کانفرنس کر کے اپنے کراٹے سینٹر کو بچانے کے لیے حکومت سے درخواست کر رہے ہیں؟ آخر اس زمین کی ملکیت کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ انہی کی فرمائش پر یہ مضمون تحریر کر رہا ہوں۔
(کے جی اے) گراؤنڈ سے میری بچپن کی یادیں وابستہ ہیں۔ 1974 میں، جب میں اسکول سے فارغ ہو کر کالج میں داخل ہوا، تو اس گراؤنڈ کے ایک کونے میں باڈی بلڈنگ کلب قائم تھا، جسے جناب عابد اسلام نے گوان ایسوسی ایشن سے کرائے پر حاصل کیا تھا۔ اسی دور میں اشرف طائی ہل پارک میں کراٹے سکھاتے تھے۔ عابد اسلام نے انہیں اپنے کلب کے ساتھ کراٹے کی تربیت کے لیے جگہ فراہم کی۔ ابتدا میں عابد اسلام کرایہ ادا کرتے رہے، مگر جب کراٹے سینٹر مستحکم ہوگیا تو طائی صاحب خود کرایہ دینے لگے۔
میں بھی اس زمانے میں طائی صاحب کا شاگرد رہا ہوں۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے ایک خاتون سے شادی کی، جو غالباً طلاق یافتہ اور امریکن گرین کارڈ ہولڈر تھیں۔ بعد ازاں وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ امریکا منتقل ہوگئے۔ ان کی عدم موجودگی میں عابد اسلام اور ان کے شاگرد منظور عالم نے سینٹر سنبھالا۔ منظور عالم خداداد کالونی کے رہائشی تھے۔
کافی عرصے بعد جب طائی صاحب امریکا سے واپس آئے تو انہوں نے منظور عالم کو کلب سے الگ کردیا، جبکہ عابد اسلام بدستور اپنا باڈی بلڈنگ کلب چلاتے رہے۔ بعد میں منظور عالم نے نشتر پارک میں اپنا الگ کراٹے سینٹر قائم کرلیا۔ عابد اسلام کے انتقال کے بعد طائی صاحب اور گوان ایسوسی ایشن کے درمیان کرائے کے معاملات پر تنازع پیدا ہوگیا، جو بالآخر عدالتوں تک جا پہنچا۔ اس دوران اخبارات میں بھی اس تنازع کی خبریں شائع ہوتی رہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ میرا گراؤنڈ جانا بھی ختم ہوگیا۔ برسوں بعد جب میں اپنے پوتے کو طائی کراٹے سینٹر میں داخل کروانے گیا تو ماحول مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ طائی صاحب کی دوسری اہلیہ نے تمام معاملات سنبھال رکھے تھے۔ طائی صاحب سے ملاقات میں یہ محسوس ہوا کہ وہ اب بہت کم لوگوں کو پہچانتے ہیں، غالباً وہ کسی نفسیاتی عارضے کا شکار ہوچکے تھے۔
(کے جی اے) گراؤنڈ کی زمین برطانوی دور میں کراچی گوان ایسوسی ایشن کو 99 سالہ لیز پر دی گئی تھی۔ موجودہ تنازع کی بنیادی وجہ اسی لیز کی مدت کا اختتام بتایا جاتا ہے۔ کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کا مؤقف ہے کہ لیز ختم ہونے کے بعد زمین کی ملکیت خود بخود ادارے کو منتقل ہوجاتی ہے، اگر اس کی تجدید نہ کرائی گئی ہو۔
اپریل 2026 کے حالیہ واقعات میں (کے ایم سی) نے گراؤنڈ کے بعض حصوں کو سیل کر کے اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کی، تاہم گوان ایسوسی ایشن نے اس اقدام کو چیلنج کردیا۔ ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین 1886 سے ان کے زیرِ استعمال ہے اور یہ ایک نجی ممبرشپ کلب ہے، جس کے پاس تمام تاریخی دستاویزات موجود ہیں۔ ان کے مطابق لیز کی تجدید کے لیے قانونی تقاضے بھی پورے کیے جاچکے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت سندھ ہائی کورٹ اور دیگر قانونی فورمز پر زیرِ سماعت ہے۔ عدالت نے متعدد مواقع پر (کے ایم سی) کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی قدیم لیز شدہ جائیداد پر کارروائی سے قبل مکمل قانونی عمل اختیار کیا جائے اور محض نوٹس کی بنیاد پر کسی ادارے کو بے دخل نہ کیا جائے۔
بعض رپورٹس کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) بھی اس زمین کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کر رہا ہے تاکہ ماضی میں لیز کی تجدید کے عمل میں کسی بے ضابطگی کا تعین کیا جاسکے۔
کراچی میونسپل کارپوریشن کے ساتھ ساتھ لائینز ایریا ری ڈیولپمنٹ پراجیکٹ (لاریپ) بھی اس زمین کو اپنی حدود میں شامل قرار دیتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس تنازع کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ لائینز ایریا میں زمینوں کے معاملات پہلے ہی کئی دہائیوں سے تنازعات کا شکار رہے ہیں، اور “چائنا کٹنگ” جیسے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
جب دو سرکاری ادارے ایک ہی زمین پر دعویٰ کریں تو ایک عام شہری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کہیں پسِ پردہ کوئی تیسرا فریق تو سرگرم نہیں؟ اگرچہ تاحال کسی بلڈر یا ٹائیکون کا نام سامنے نہیں آیا، اور نہ ہی کوئی سرکاری دستاویز اس کی تصدیق کرتی ہے، لیکن کراچی کی تاریخ ایسے واقعات سے خالی نہیں جہاں ادارہ جاتی تنازعات کے بعد زمینیں نجی ہاتھوں میں چلی گئیں۔
اصل مسئلہ صرف ایک زمین یا ایک سینٹر کا نہیں، بلکہ پورے نظام کی کمزوری کا ہے۔ جب ادارے آپس میں متفق نہ ہوں، ریکارڈ غیر واضح ہو، اور مقدمات برسوں تک عدالتوں میں زیرِ التوا رہیں، تو ایسے خلا میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی فائدہ اٹھاتا ہے۔
اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو ضروری ہے کہ: زمین کی ملکیت کا مکمل اور شفاف ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے،
(کے ایم سی) اور (لاریپ) کے دعوؤں کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں،
اشرف طائی سینٹر کو تحفظ یا متبادل جگہ فراہم کی جائے،
اور سب سے بڑھ کر اس زمین کے مستقبل کو شفاف بنایا جائے۔
یہ معاملہ صرف ایک شخصیت یا ادارے کا نہیں، بلکہ ایک اصول کا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا کراچی میں اب بھی کوئی زمین محفوظ ہے؟
یا ہر قیمتی جگہ آخرکار طاقتور ہاتھوں میں چلی جاتی ہے؟
جب دو ادارے ایک ہی زمین کے مالک بن جائیں، تو اصل خطرہ وہ نہیں ہوتے…
اصل خطرہ وہ ہوتا ہے جو خاموشی سے تیسری قطار میں کھڑا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔