فلم انڈسٹری کو تفریح رہنے دیں


تحریر-نظام الدین

دنیا بھر میں مختلف اقسام کی فلمیں بنائی جاتی ہیں، جو عمومی طور پر ناظرین کے لیے تفریح کا ذریعہ ہوتی ہیں،ان میں دستاویزی” فلمیں جو حقیقی واقعات اور لوگوں کی بائیو گرافی پر مبنی ہوتی ہیں۔ کچھ افسانوی ڈرامائی اور آرٹس انداز کی فلمیں بنتی ہیں، ان میں انسانی جذبات، ذاتی تعلقات، معاشرتی مسائل، زندگی کے سنجیدہ پہلو، حقیقت سے قریب تر کہانیاں۔
کامیڈی مزاح، اور ایکشن موضوع ہوتے ہیں،،،، مگر بھارت کی کچھ فلمیں اب تفریح کا ذریعہ نہیں رہیں وہ بھارتی بیانیے اس کے مفادات کا ہتھیار بنتی جا رہی ہیں ان فلموں میں حقیقت سے زیادہ بھارتی نکتہ نظر غالب نظر آتا ہے،پچھلے کئی سالوں سے اسی تکنیک کو مضبوطی سے اختیار کیا ہوا ہے مثلاً جذباتی وطن پرستی سفارتی پالیسی کو ایک الے کے طور پر برتنا، مسلم معاشرے اور پاکستان سے تعصب برتنا ، سیاسی جھوٹ اور پروپیگنڈہ تخلیق کرنا مقصد ہو اور وہ فلم خوبصورت ہو مگر فلم کے اندر سچ کی ملاوٹ میں زہر لپیٹ کر لوگوں کے اذہان کو آلودہ کرنا مقصد ہو تو وہ فلم تفریح نہیں پاکستان مخالف سمجھی جاسکتی ہے؟ ان ہی فلمی دنیا میں تازہ اضافہ بھارتی فلم دھورندھر ہے، بھارت، پاکستان کے درمیان تنازعات پر مبنی فلم میں پاکستانی پولیس افسر چھودری اسلم ، رحمان بلوچ جیسے حقیقی کردار کی طرح حمزہ نامی ایک بھارتی جاسوس کا کردار بھی تخلیق کیا گیا ہے جس میں اسےکراچی میں ایک انتہائی خطرناک مشن پر دکھایا گیا ہے ، حمزہ نامی کردار دراصل بھارت کے میجر موہت شرما سے تخلیق کیا گیا ہے ،جس نے بھارت میں ابتدائی کمیشن: 5th بٹالین آف دی مدراس رجمنٹ 1999 میں لیا تھا پھر راشٹریہ رائفلز اور 1st پیرا (اسپیشل فورسز) میں بھیجا گیا،جموں و کشمیر کے علاقوں میں تعینات رہا بیلاگام میں کمانڈوز کو تربیت دینے کے لیے انسٹرکٹر بھی مقرر ہوا مارچ 2009 میں جموں و کشمیر کے کپواڑہ سیکٹر میں ہلاکت ہوئی،
بھارتی فلم انڈسٹری نے اس کردار پر فلم بنائی قتل و دہشت گردی کے مناظر کے ساتھ کراچی کو ایک بے قابو وحشی معاشرے کے طور پر پیش کیا اور بھارتی ریاست نے اسے کسی بھی بحث سے محفوظ رکھا تو یہ محض ایک تفریح نہیں رہی بلکہ یہ فلم ایک سوچنے والا آئینہ بن گئی جو مجبور کرتی ہے کہ ہم پوچھیں اور سوچیں کیا یہ بیانیہ آئندہ کراچی کے باشندوں کے لیے ذہنی اجازت نامہ تیار کر رہا ہے ؟؟ دراصل بھارت کی سیاست جس طرح دو حصوں میں تقسیم ہے وہاں کی فلم انڈسٹری بھی دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے جنوبی ہند کی سیاست اور سول سوسائٹی تاریخی طور پر زیادہ اینٹی کولونیل ، مرکز مخالف اور سماجی انصاف پر مبنی ہے، اسی لیے وہاں کا سینما اندرونی جبر، طبقاتی ناانصافی اور مقامی طاقت کے خلاف سوال اٹھاتا ہے، نہ کہ بیرونی دشمن تراشتا ہے۔
اس کے برعکس شمالی ہند میں بی جے پی کی سیاست عالمی سامراجی مفادات اور کارپوریٹ ایڈیشن سے جڑی ہوئی ہے، جہاں ہندو، مسلم، پاکستان اور بھارت دشمنی اسی نوآبادیاتی تقسیم کی محافظ ہے۔بالی ووڈ میں فلمیں، ریاستی میڈیا اور سیاسی ڈسکورس کی مسلسل تکرار کے ذریعے بن رہیں ہیں، اور عوام کو اصل معاشی و ریاستی سوالات سے ہٹا کر شناختی تصادم میں الجھائے رکھتی ہیں۔گلوبل اقدار جیسے سیکس ، مغربی فیمینزم ، فیملی سسٹم مودی نیو لبرل معیشت کا نتیجہ ہیں ۔اس تناظر میں جنوبی ہند میں پاکستان مخالف بیانیے کی کمی کسی اتفاق یا معصومیت کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک مختلف اینٹی کولونیل سیاسی شعور اور روایت کا اظہار ہے اور شائد سوشلزم زیادہ ہے۔جبکہ شمالی ہند کا سینما اسی استحصالی ساخت کو ثقافتی طور پر مضبوط کرتا جارہا ہے، جبکہ پاکستانی فلم انڈسٹری یہ سب تماشا دیکھ تو رہی ہے مگر جواب دینے کی جرت نہیں رکھتی ؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *