خدا جو نظر سے دکھائی دے

تحریر-نظام الدین

وجود خدائے واحد کے حوالے سے گزشتہ دنوں بھارت میں مصنف جاوید اختر اور مفتی شمائل ندوی کےدرمیاں بحث اور دلائل کوئی نئے نہیں صدیوں پرانے ہیں،اس کے جوابات بھی اتنے ہی پرانے ہیں جب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو خدا کی عبادت کی طرف بلایا تو فرعون نے اپنی ریاست کے کاریگروں کو حکم دیا ایک اونچے پہاڑ پر اونچی عمارت بناو تاکہ اس پر چڑھ کر خدا کو”دیکھوں”جب وہ اُس عمارت پرچڑھے اور وہاں سے خُدا کو نہ دیکھا تو کہا خُدا تو کہیں نظر نہیں آرہا اِس لِئے خُدا کا کوئی وجود نہیں ہے، جب سائنس نے ترقی شروع کی اور سوویت یونین کے یوری گاگرین خلاء میں جانے اور زمین پر واپس آنے والا پہلا انسان بن گیا تو سوویت رہنما نکیتا خروشچیو نے کہاروس خلاء میں گیا ہے اور وہاں خدا کو کہیں بھی نہیں دیکھا؟ فرعون، نکیتاخر شچیو اور جاوید اختر جیسے کروڑوں انسانوں نے اپنی حیثیت اور محدود دائرہ کار میں خدا کو”دیکھنے” کی کوشش کی،اور جب اُس محدود تماشے میں خدا کو نہیں دیکھا تو کہہ گئے خدا نہیں ہے، دنیا میں الہامی اور دیگر مذاھب میں بھی کائنات کے ایک مالک کے تصور سے منکر موجود تھے ، ہیں اور رہیں گے ،جو کائنات کے ایک مالک کو تسلیم نہیں کرتے، یہودی پس منظر سے تعلق رکھنے والے خدا کو یہوداہ کہتے ہیں مگر ان میں ایک یہودیوں فلسفی باروخ اسپینوزا نے تو ایسی فکر پیش کی جسے”ہمہ اوست” کہا جاتا تھا اس کے نزدیک خدا اور کائنات الگ الگ نہیں تھے،
ڈائیگورس تاریخ کاوہ پہلا “ملحد”تھا جس نے یونانی دیوتاؤں کے وجود کا کھلم کھلا انکار کیا ،الیشع بن ابویہ یہودی جو کہتا تھا کائنات کا انتظام چلانے والا کوئی نہیں ،سینت تھامس اکوائنس نے تو خدا کے وجود پر پانچ دلائل تراشے تھے ان ہی دلائل کے اردگرد موجودہ دور میں بحت و مباحثہ جاری رہتا ہے، اسلامی تاریخ میں ابن الراوندی سب سے بڑا منکر خدا سمجھا جاتا ہے، اسی طرح تاریخ کے پنوں میں ایسے لاکھوں مذہبی رہنما اور مفکرین گزرے ہیں جنہوں نے ایک خاص وقت تک مذہب کی تبلیغ کی مگر بعد میں خدا کے وجود سے انکار کردیا ،موجودہ دور یعنی”2003 میں توامریکہ میں برطانوی الحادی خیالات کے مصنف رچرڈ ڈاکنز کے نام پر ایک تنظیم کی بنیاد رکھ دی گئی اور اس تنظیم نے ہر سال دنیا بھر کے ان افراد کو جو مزاھب اور خدا کے منکر تھے ایوارڈ دینا شروع کیا 2019 سے پہلے یہ ایوارڈ ایتھسٹ الائنس آف امریکہ دیتی تھی مگر اب سینٹر فار انکوائری نے یہ زمہ داری سنبھال لی اس کا پہلا ایوارڈ مصنف جیمز رینڈی کو دیا تھا جبکہ برصغیر میں پہلا ایوارڈ حاصل کرنے والا مصنف جاوید اختر ہے،
دراصل یہ خدا کے منکر خدا کے جود کو خدا کے ماننے والوں سے ایسے خدا کا مطالبہ کرتے ہیں جو نظر سے انہیں دکھائی دے؟ اور تجرباتی لیبارٹری کی سطح پر ثابت کریں جو ابتدا سے کبھی ثابت ہوا نہیں اور نہ یہ قیامت تک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اگر ایسا ثبوت مل جائے تو پھر تو دنیا کا یہ امتحان ہی ختم ہوجائے گا اور سب لوگ خدا کے ماننے والے بن جائیں گے انسان نے بلا آخر غیب پر ہی ایمان لانا ہے کہ خدا ہے جس کا ذکر قران میں ہے،
الَّذِينَيُؤْمِنُونَبِالْغَيْبِ اور یہی اصل ایمان ہے ،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *