تحریر-نظام الدین
ممبر قومی اسمبلی جناب فاروق ستار سےشادی کی تقریب میں طویل عرصے بعد ملاقات ہوئی کچھ پرانی باتیں یادیں بھی تازہ ہوگئیں ماضی میں تواکثران سےملاقات ہوتی رہتی تھی جب وہ مئیرکراچی اور میں بلدیہ عظمیٰ کےکتب خانے میں ملازمت کرتا تھا، فاروق ستار نئے کتب خانے بنانے پرانوں کی زیبائش وآرائش پرخصوصی دلچسپی رکھتے تھے اس وقت جناب سیف الرحمن گرامی انفارمیشن کلچرل اسپورٹس اینڈ کتب خانہ جات کے عہدوں پر خدمات انجام دے رہے تھے ان کی ہدایت پر بلدیہ عظمیٰ اور کمشنرآفس سے برطانوی دور کی تاریخی کتابوں نقشوں سرکاری گزٹ 19ویں اور 20 ویں صدی کے سرکاری آرڈرز اور دیگر دستاویزات کی نئی کاپیاں بناکر کتب خانوں میں محفوظ کرنے کی میری زمہ داری تھی مجھے اس سلسلے میں کچھ ریکارڈ کمشنر آفس سے حاصل کرنے کے لیے جانا ہواتو وہاں کی نایاب دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور خفیہ خزانے کا ریکارڈ دیکھنے کا موقع ملا کراچی کمشنر آفس سے حاصل کردہ ریکارڈ کو عام طورپرکمشنر ریکارڈ کےنام سے جاناجاتاہے،زیادہ تر یہ ریکارڈ انگریزی جبکہ کچھ فارسی اور ہندی میں بھی تھا 1857کے برطانوی ریکارڈ کو محکموں کے مطابق الگ الگ ریکوں میں رکھا گیا تھا جس کومسٹر رچرڈسن نے1913 میں 192 مخطوطہ فائلوں کے اشاریہ اور کیٹلاگ بنائے تھے1851میں بمبئی حکومت کے دفتر اور ضلعی افسران کے دفاتر میں ریکارڈ رکھنے کا نظام مرتب کیا گیا تھا اس نظام کے تحت مختلف مضامین کو مخصوص مقررہ نمبر الاٹ کیے گئے تھے ہر مضمون کی سرخی کو کئی ذیلی سرخیوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور ہر ذیلی سرخی بمبئی پریزیڈنسی سے مختلف تاریخی، مالیاتی اور واضح قدر کا ایک بھرپور ذریعہ تھیں برطانوی حکومت نے برصغیر میں آرکائیوز کے تحفظ کے ریکارڈ رومز بنائے تھے ریکارڈ روم میں محفوظ تمام ریکارڈ کمشنر آفسز کا تھا۔اس میں سندھ کے اہم سرکاری دفترجو بمبئی پریذیڈنسی کے تحت کام کرتے تھے کراچی کمشنر آفس کے ریکارڈ روم میں، ابتدائی ریکارڈوں کا انتظام اورذخیرہ1831کے اوائل میں شروع ہوا تھافائلوں کو ریکوں پر تاریخ کے مطابق ترتیب دیا گیا تھا وہ تمام ریکارڈ چھ رینجز میں تھے جن میں 62 ریک تھے ان کو 558
کمپارٹمنٹس میں تقسیم کیا گیا تھا۔ریکارڈ کے ہر سیٹ کو ایک ساتھ رکھا گیا تھا اور درج ذیل ترتیب کے مطابق درجہ بندی کی گئی تھی جنہیں انڈیکس یا فائلوں کی فہرست میں اپنایا گیا تھا سندھ مشن کی فائلیں جن میں 1843میں میانی کی لڑائی تک کے واقعات کو بیان کرنے والے کاغذات شامل تھے، 1843 سے1847 تک سندھ میں ان کی انتظامیہ کے بارے میں سر چارلس نیپئر کے ریکارڈ کو1847 کے بعد کے ریکارڈ سے الگ رکھا گیا تھا۔ذیلی ترتیب کی بنیادان میں موجود خط وکتابت کی نوعیت کے مطابق تھی۔1843 سے 1847 تک کےریکارڈ کی جانچ سے پتہ چلا کہ سرکاری کام کو محکموں میں تقسیم نہیں کیا گیا تھا۔ یہ عمل اکتوبر 1847 تک جاری رہا جب سر چارلس رٹائرڈ ہوگے تو ستمبر1847 میں پہلی مرتبہ سرکاری کام کو محکموں میں تقسیم کیا گیا تھا، یہ ریکارڈ متعلقہ اداروں کے درمیان خط و کتابت، سرکلر، ہدایات، یادداشتیں ، نوٹوں کے تبادلے، معاہدوں وغیرہ پر مشتمل تھے،1931 میں کمشنر سندھ 1857 میں بغاوت سے پہلے کے ریکارڈ کے مندرجات کا حروف تہجی کی فہرست، سندھ میں کمشنر کے دفتر اور ضلعی کمیشن کے ذریعے پرنٹنگ پریس 1857 سے 1909 تک کمشنر کے دفتر کی لائبریری میں رکھی فائلوں کا کیٹللاک رپورٹوں کا ایک اہم سلسلہ بمبئی پریذیڈنسی کی 1861سے
1933کی سالانہ انتظامی رپورٹ اور اس میں صوبہ سندھ کے ہر محکمے کی سالانہ انتظامی رپورٹیں بھی تھیں۔ مردم شماری کی رپورٹیں زبانوں، نسلی گروہوں، ذاتوں اور قبائل کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہیں ۔ یہ تمام رپورٹ آئی او ایل آر لندن میں محفوظ کرنے کے خطوط بھی تھے، یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد یہ بتانا ہے انگریزوں نے برصغیر کے جو شہر بسائے وہ پھتر،مٹی،یاسڑک سے نہیں بسائے بلکہ تاریخ، ریکارڈ اور تسلسل کے تحت بسائے تھے برصغیر کے ساحل پر بسے دو بڑے شہر بمبئی اورکراچی اسی حقیقت کی زندہ مثال ہیں۔دونوں ایک وقت میں برطانوی انتظامیہ کے تحت بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ تھے، مگر آج ایک ترقی کا استعارہ ہے اور دوسرا سوالات کا شہر۔ بمبئی کی بنیاد کوئی فطری عظمت نہیں تھی۔ یہ سات چھوٹے جزائر پر مشتمل علاقہ تھا جنہیں پرتگال نے 1534ء میں حاصل کیا اور پھر1661میں اپنی شہزادی کیتھرین آف براگانزا کی شادی کے موقع پرانگلینڈ کو جہیز میں دے دیا۔ بعد ازاں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ان جزائر کو زمین بھرائی کے ذریعے جوڑ کر ایک عظیم بندر گاہ میں بدل دیا یوں بمبئی وہ شہر بنا جو سمندر سے زمین چھین کر کھڑا کیا گیا۔اس کے برعکس کراچی کبھی جزیرہ نہیں تھا۔ یہ ہمیشہ برِ اعظم کا حصہ رہا۔ شمال میں حب ندی، مشرق میں ملیر ندی اور جنوب میں بحیرہ عرب کراچی کی قدرتی حدود تھیں۔ یہاں ابتدا میں ماہی گیر بستیاں تھیں، جسے 1843ء میں جنرل چارلس نیپئر نے فتح کیا اور انتظامی طور پر بمبئی پریزیڈنسی میں شامل کر دیا۔ یہ وہ موڑ تھا جہاں کراچی ایک مقامی بندرگاہ سے برطانوی اسٹریٹجک شہر بننے لگا۔انگریزوں کی حکمرانی کی اصل طاقت بندوق نہیں بلکہ فائلیں تھی۔ وہ حکومت کاغذ پر کرتے تھے۔ زمین کی پیمائش، قبائل کا اندراج، پانی کے ذرائع، بندرگاہ کی گہرائی، آبادی کی تقسیم، حتیٰ کہ ہواؤں کی سمت تک ریکارڈ میں درج تھی۔اس نظام کو گزٹیئر کہا جاتا ہے۔ بمبئی پریزیڈنسی گزٹیئر، سندھ گزٹیئر اور کراچی ڈسٹرکٹ گزٹیئر آج بھی اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ کراچی، منوڑا، کیماڑی اور کینٹونمنٹ کس منصوبہ بندی سے تعمیر کیے گئے۔
کمشنر اور ڈپٹی کمشنر دفاتر میں لینڈ سیٹلمنٹ رپورٹس، سروے آف انڈیا کے نقشے، پورٹ ٹرسٹ کی فائلیں اور فوجی خطوط موجود تھے کراچی اس وقت بمبئی کی ملٹری اور تجارتی توسیع سمجھا جاتا تھا۔ کپاس، اناج، افیون، اسلحہ اور فوجی رسد بمبئی سے کراچی اور یہاں سے وسط ایشیا کی طرف بھیجی جاتی تھی۔ اسی لیے کراچی میں ریلوے، بندر گاہ، فریئر ہال، ایمپریس مارکیٹ اور کینٹ جیسے ادارے قائم کیے گئے تھے اصل سانحہ تقسیم کے بعد شروع ہوا۔ نئی ریاست کو ورثے میں شہر تو ملا مگر اس کا ریکارڈ سنبھالنے کا نظام نہیں ملا۔ کچھ فائلیں ضائع ہوئیں، کچھ دفاتر سے غائب ہوئیں، کچھ زمینوں کے ساتھ دفن ہو گئیں۔ کمشنر آفس کی وہ روح، جو شہر کو دستاویزی بنیاد پر چلاتی تھی، آہستہ آہستہ ختم ہو گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کراچی منصوبہ بندی سے نکل کر تجر بہ گاہ بن گیا۔
بمبئی نے اپنے پرانے گزٹیئر، ماسٹر پلان اور شہری تسلسل کو محفوظ رکھا۔ وہاں آج بھی پرانی رپورٹس نئی پالیسی کی بنیاد بنتی ہیں۔کراچی میں ہرحکومت شہر کو نئے سرے سے ایجاد کرنے نکل پڑتی ہے۔کبھی بلدیاتی تجربہ ، کبھی صوبائی کنٹرول، کبھی وفاقی مداخلت مگر کہیں بھی پرانی فائلوں کو بنیاد نہیں بنایا جاتا۔
یہ بھی بھولنا نہیں چاہیے کہ کراچی کسی خالی میدان پر نہیں بنا تھا۔ یہاں مچھیرے اور بلوچ ساحلی قبائل آباد تھے، جیسے بمبئی میں کولی قبائل تھے۔ دونوں شہر ماہی گیروں سے بندرگاہ اور بندرگاہ سے ترقی یافتہ شہر بنے۔ فرق یہ پڑا کہ ایک نے اپنی شہری یادداشت بچا لی اور دوسرے نے اسے سیاست کی نذر کر دیا۔آج کراچی کے مسائل سڑکوں، پانی یا ٹریفک تک محدود نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے شہر کو فائلوں کے بجائے فیس بک پوسٹ سے چلاتے ہیں۔ کمشنر آفس، سندھ آرکائیوز، بورڈ آف ریونیو اور پرانے گزٹیئرز وہ آئینہ تھے جن میں کراچی کی اصل صورت آج بھی دیکھی جا سکتی ہے اگر ہم دیکھناچاہیں۔
کیونکہ شہرکنکریٹ سے نہیں ریکارڈ سے بنتے ہیں،