اٹھارہویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا خطاب

اٹھارہویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان ایک جامع اور اعلیٰ سطحی آگاہی و تربیتی پروگرام تھا جس کا مقصد بلوچستان کے مختلف طبقات کو قومی سلامتی، ریاستی پالیسیوں، ترقیاتی ترجیحات اور درپیش چیلنجز سے براہِ راست آگاہ کرنا تھا۔ اس ورکشاپ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندگان، سول سوسائٹی کے ارکان، ماہرینِ تعلیم، وکلا، صحافیوں، نوجوان رہنماؤں، قبائلی عمائدین اور سرکاری افسران نے شرکت کی۔

ورکشاپ کے دوران شرکاء کو پاکستان کے آئینی ڈھانچے، قومی سلامتی کے تقاضوں، داخلی و خارجی چیلنجز، دہشت گردی کے بدلتے ہوئے رجحانات، فتنہ انگیز بیانیوں، ہائبرڈ وار، اور ریاست کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہمات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ خصوصی طور پر بلوچستان کے تناظر میں علیحدگی پسند تحریکوں، بیرونی سرپرستی، فتنۃُ الہندوستان کے کردار، اور نوجوانوں و خواتین کے استحصال جیسے حساس موضوعات کو مدلل انداز میں زیرِ بحث لایا گیا۔

ورکشاپ میں معاشی ترقی، گوادر اور سی پیک کی اسٹریٹجک اہمیت، بلوچستان میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبے، تعلیم و صحت کے شعبوں میں اصلاحات، روزگار کے مواقع اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ پر بھی تفصیلی سیشنز منعقد ہوئے۔ شرکاء کو یہ باور کرایا گیا کہ پائیدار ترقی اور امن صرف ریاستی اقدامات سے نہیں بلکہ مقامی آبادی کی شمولیت، اعتماد سازی اور درست معلومات کی فراہمی سے ہی ممکن ہے۔

ایک اہم پہلو میڈیا اور بیانیے کی جنگ تھا، جس میں بتایا گیا کہ کس طرح منفی اور گمراہ کن اطلاعات کے ذریعے ریاست اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور اس کا مؤثر توڑ سچ، تحقیق اور ذمہ دارانہ اظہار ہے۔ شرکاء کو اس بات پر بھی آمادہ کیا گیا کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں واپس جا کر مثبت، تعمیری اور حقیقت پر مبنی بیانیے کو فروغ دیں۔اٹھارہویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان نے شرکاء کو ریاستی اداروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے، سوالات اٹھانے اور کھلے مکالمے کے ذریعے ابہام دور کرنے کا موقع فراہم کیا۔ مجموعی طور پر یہ ورکشاپ بلوچستان اور وفاق کے درمیان اعتماد سازی، قومی یکجہتی کے فروغ اور نوجوان نسل کو منفی اثرات سے بچانے کی ایک اہم اور مؤثر کاوش ثابت ہوئی۔

قومی سلامتی ورکشاپ میں یہ انتہائی اہم جزو ہے کہ پاکستان کے سپہ سالار
چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کرتے ہوئے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ بھارت کے زیرِ سرپرستی چلنے والے آلہ کار اور پراکسی نیٹ ورکس بلوچستان میں بدامنی پھیلانے، تشدد کو ہوا دینے اور ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم سیکیورٹی فورسز ان مذموم عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنانے کے لیے پُرعزم ہیں تاکہ بلوچستان کو دہشت گردی اور عدم استحکام سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں بلوچستان کے حوالے سے منعقدہ اٹھارہویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی، قومی سلامتی میں اس کے کردار اور پاکستان کے لیے اس کی اسٹریٹجک اہمیت کا جامع جائزہ لینا تھا۔ ورکشاپ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمائندگان، نوجوان رہنما، ماہرینِ تعلیم، سول سوسائٹی، میڈیا اور سرکاری افسران نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان کے عوام کی قربانیوں، ثابت قدمی اور حب الوطنی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان نہ صرف رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے بلکہ قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع اور علاقائی رابطوں کے اعتبار سے پاکستان کی خوشحالی اور مستقبل کی ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے، اور اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔

فیلڈ مارشل نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں کیے جانے والے وسیع البنیاد ترقیاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انفراسٹرکچر کی بہتری، تعلیم و صحت کے منصوبے، روزگار کے مواقع، گوادر اور سی پیک جیسے اسٹریٹجک منصوبے، اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات ایک مثبت اور درست سمت کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان اقدامات کا محور عوامی فلاح ہونا چاہیے تاکہ صوبے کی وسیع معاشی صلاحیتوں کو براہِ راست عام لوگوں کے فائدے کے لیے بروئے کار لایا جا سکے۔

انہوں نے سول سوسائٹی کے تعمیری کردار کو بھی سراہا، بالخصوص اس حوالے سے کہ کس طرح سول سوسائٹی منفی پروپیگنڈے، جھوٹے بیانیوں اور گمراہ کن اطلاعات کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی اور دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ حقائق پر مبنی بیانیہ فروغ پائے اور مفاد پرست سیاسی ایجنڈوں کو مسترد کیا جائے جو بلوچستان کے مسائل کو ذاتی یا گروہی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ناگزیر ہے تاکہ صوبے کے مستقبل کو طویل مدتی استحکام اور خوشحالی سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

سیکیورٹی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کے زیرِ سرپرستی چلنے والے پراکسی نیٹ ورکس بلوچستان میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، تخریبی کارروائیوں اور ترقیاتی منصوبوں پر حملوں کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیکیورٹی فورسز ان عناصر کے خلاف بلا امتیاز اور مؤثر کارروائیاں جاری رکھیں گی اور ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت امن و ترقی کے عمل کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی، خواہ وہ براہِ راست ہو یا بالواسطہ، کا بھرپور، مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے بلکہ خطے میں امن کے فروغ کے لیے بھی ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے۔

فیلڈ مارشل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، فلاح و بہبود اور قومی وحدت کے لیے ہر سطح پر پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد اور تعاون سیکیورٹی فورسز کی سب سے بڑی طاقت ہے اور اسی باہمی اعتماد کے ذریعے دہشت گردی، انتہا پسندی اور بیرونی سازشوں کو شکست دی جا سکتی ہے۔

ورکشاپ کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا جس میں شرکاء نے بلوچستان کی سلامتی، ترقی، نوجوانوں کے کردار اور مستقبل کے امکانات سے متعلق سوالات کیے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تفصیلی اور جامع جوابات دیتے ہوئے شرکاء کو بلوچستان کی ترقی اور امن کے لیے جاری اور آئندہ اقدامات سے متعلق مزید بصیرت فراہم کی۔ یہ سیشن شرکاء کے لیے نہ صرف آگاہی کا ذریعہ بنا بلکہ اعتماد سازی اور کھلے مکالمے کی ایک مؤثر مثال بھی ثابت ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *