پی پی ایس سی سے منتخب کنسلٹنٹ ڈاکٹرز کی تعیناتیاں فوری طور پر کی جائیں؛پروفیسر ڈاکٹر شاہد ملک

میرٹ پر منتخب ڈاکٹرز کے تقرری آرڈرز روکنا آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے؛ صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن

لاہور ( محمد منصور ممتاز سے )

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کے صدر ڈاکٹر شاہد ملک نے پنجاب پبلک سروس کمیشن (PPSC) کے تحت میرٹ پر منتخب ہونے والے کنسلٹنٹ ڈاکٹرز کی تعیناتیوں میں بلاجواز تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ڈاکٹر شاہد ملک نے کہا کہ مختلف شعبہ جات میں سینکڑوں کنسلٹنٹ ڈاکٹرز تمام قانونی اور انتظامی مراحل مکمل کرنے کے باوجود تاحال اپنی تقرری کے منتظر ہیں، حالانکہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی جانب سے باقاعدہ سفارشات جاری کی جا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تقرری آرڈرز کو روکنا نہ صرف آئینِ پاکستان بلکہ میرٹ کے بنیادی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ محکمہ صحت کے بعض افسران سیکرٹری صحت کی ایما پر تقرری آرڈرز روک کر بیٹھے ہیں، جس کے باعث سرکاری اسپتالوں میں کنسلٹنٹس کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے اور مریضوں کو براہِ راست نقصان پہنچ رہا ہے۔
صدر PMA کے مطابق پی پی ایس سی کے تحت کنسلٹنٹس کی میرٹ لسٹیں درج ذیل تاریخوں کو جاری کی گئیں:
07 مارچ 2025 کنسلٹنٹ ریڈیولوجسٹ
11 مارچ 2025 کنسلٹنٹ یورولوجسٹ
25 مارچ 2025 کنسلٹنٹ پیتھالوجسٹ
07 اپریل 2025 کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک
11 اپریل 2025 کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ
17 اپریل 2025 کنسلٹنٹ سرجن
21 اپریل 2025 کنسلٹنٹ اینستھیٹسٹ
19 جون 2025 کنسلٹنٹ فزیشن
02 جولائی 2025 کنسلٹنٹ پیڈیاٹرکس
25 اگست 2025 گائناکالوجسٹ
ڈاکٹر شاہد ملک نے مزید بتایا کہ 22 جولائی 2025 بروز منگل منتخب امیدواران جب اپنے تقرری آرڈرز کے حصول کے لیے سیکرٹری صحت کے دفتر گئے تو نہ صرف انہیں آرڈرز جاری کرنے سے انکار کیا گیا بلکہ توہین آمیز اور سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں دفتر سے باہر نکال دیا گیا، جو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔
صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین ناانصافی کا فوری نوٹس لیں، تقرری آرڈرز بلا تاخیر جاری کروائیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں، تاکہ میرٹ کی بالادستی قائم ہو اور نوجوان، محنتی ڈاکٹرز کو ان کا جائز حق مل سکے۔
ڈاکٹر شاہد ملک نے واضح کیا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اس معاملے پر خاموش نہیں رہے گی اور اگر ضرورت پڑی تو تمام قانونی اور جمہوری آپشنز استعمال کیے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *