ٹھٹھہ ڈسٹرکٹ رپوٹر(ایم اعجازچانڈیومھرانوی):
عوامی پریس کلب ملیر اور ساکرو ادبی فورم کی جانب سے سال 2025 کے آخری ڈوبتے سورج کو الوداع کہنے اور ملیر سے تعلق رکھنے والے سندھ کے متحرک سیاسی، سماجی اور قومی رہنما سید خدا ڈنو شاہ کے اعزاز میں ایک یادگار “سرمئی شام” تاریخی مقام بھنبھور کے ساحل پر انتہائی شاندار انداز میں منائی گئی۔
تقریب میں ضلع ملیر کے علاوہ ضلع ٹھٹہ کے علاقوں ساکرو، کیٹی بندر، کھارو چھان، گھارو، گجو اور گرد و نواح سے سیاسی، سماجی، ادبی کارکنوں اور شہریوں نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی۔ سمندر کی موجوں، ڈوبتے سورج اور تاریخی بھنبھور کے پس منظر میں منعقدہ اس تقریب نے ایک منفرد اور روح پرور منظر پیش کیا۔
تقریب سے سندھ کلچرل فورم کے چیئرمین صادق لاکو، کے بی لاشاری، الہجڑیو برفت، عوامی پریس کلب ملیر کے صدر جمشید زہرانی، غفور شاہ تقویٰ اور دیگر معزز شخصیات نے خطاب کرتے ہوئے سید خدا ڈنو شاہ کی مسلسل جدوجہد، انتھک محنت، اصولی سیاست، قومی شعور اور سندھ سے بے لوث محبت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ سید خدا ڈنو شاہ جیسی شخصیات محض افراد نہیں ہوتیں بلکہ ایک تحریک، فکر اور تاریخ بن جاتی ہیں۔
اس موقع پر سید خدا ڈنو شاہ نے اپنی عزت افزائی پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تقریب میں شریک تمام دوستوں، ساتھیوں اور منتظمین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی دھرتی، اس کے لوگ اور ان کی جدوجہد ہی ان کا اصل سرمایہ ہیں۔
تقریب میں قومی فنکاروں، ادیبوں اور شاعروں نے اپنے فن کا شاندار مظاہرہ کیا۔
سال 2025 کے آخری سورج کو حضرت شاہ لطیفؒ کی وائیوں کی گونج میں الوداع کہا گیا اور نئے سال 2026 کا پُرعزم استقبال کیا گیا۔
شرکاء نے بھنبھور کے آثار کے قریب سمندر کنارے بھنبھور کی پہاڑی پر قطاریں بنا کر قومی انداز میں پھولوں کی بارش کی۔ قومی شاعر غفور شاہ تقویٰ نے شاہ لطیفؒ کی وائی پڑھی جبکہ سید خدا ڈنو شاہ نے سندھ اور وطنِ عزیز کی خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔
قومی یکجہتی، وطن کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے نئے عزم کے ساتھ یہ یادگار تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
تاریخی مقام بھنبھور پر ساکرو ادبی فورم اور عوامی پریس کلب ملیر کے زیرِ اہتمام سال 2025 کے آخری سورج کو الوداع، سید خدا ڈنو شاہ کے ساتھ یادگار سرمئی شام منائی گئی۔