والدین سے بڑھ کر انسان کیلیئے دنیا میں اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں
پاکپتن(ڈسٹرکٹ بیورو چیف)یہ حقیقت ہے کہ انسان کو والدین کی قربانیوں اور محبت کا اصل احساس تب ہوتا ہے جب وہ خود والدین بنتےہیں۔جب تک اپنی اولاد نہیں ہوتی، ہمیں یہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ راتوں کو جاگنا کتنا مشکل ہے بچوں کی ضد برداشت کرنا کتنا صبر مانگتا ہے اور ایک ایک نوالہ چھوڑ کر اپنے بچوں کے لیے بچا لینا کتنا بڑا ایثار ہے۔قاری خواجہ صاحب نے خصوصی خطاب میں کہا کہ جب ہم اپنے بچوں کو دیکھ کر مسکراتے ہیں، تب احساس ہوتا ہے کہ ہمارے والدین بھی ہمیں ایسے ہی دیکھتے ہوں گے۔جب ہمارے دل میں اپنی اولاد کے لیے بے حد دعا نکلتی ہے، تب سمجھ آتا ہے کہ ہمارے ماں باپ نے بھی دن رات ہمارے لیے دعائیں مانگی ہوں گی اور جب ذرا سی بیماری میں ہمارا دل بیقرار ہو جاتا ہے، تب اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس درد سے گزرے ہوں گے جب ہم بیمار پڑتے تھے۔والدین کی محبت بے حساب ہے، اور ان کی محنت کا حق کبھی ادا نہیں ہوسکتا۔ اولاد ہونے کے بعد انسان کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سمجھ آتی ہے۔نئے سال کی ابتدا پر ہم نیت کریں کہ اپنے والدین کی فرمانرداری اور اُن کی خوب خدمت کریں گے اور خوب اپنے لیئے دُعائیں سمیٹیں گے۔ اللّٰہ جن کے والدین زندہ ہیں ان کا سایہ ہمیشہ سلامت رکھے ان کی صحت و عمر میں برکت عطا فرمائے اور جن کے والدین اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ان کی مغفرت فرمائے ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں بدل دے اور آخرت میں انہیں سرخرو فرمائے-آمین
نئے سال کا پیغام وقت گزر جانے سے پہلے وقت کی قدر کرنا سیکھیں۔