تحریر: نعمان احمد دہلوی
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ یہ مقدس مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے، جو رحمتوں، مغفرت اور جہنم سے نجات کا سبب بنتا ہے۔ جیسے جیسے قمری کیلنڈر کے مطابق شعبان کا مہینہ ختم ہونے کو آتا ہے، مسلمانوں کے دلوں میں ایک خاص جوش و خروش پیدا ہوتا ہے۔ رمضان نہ صرف روزے کا مہینہ ہے بلکہ قرآن مجید کی تنزیل کا مہینہ بھی ہے، جو ہدایت اور روشنی کا منبع ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ میں روزے کی فرضیت بیان فرمائی ہے: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ (سورۂ بقرہ: 183)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ روزہ ایک قدیم عبادت ہے جو تقویٰ اور اللہ کی اطاعت کو بڑھاتی ہے۔ ایک اور آیت میں رمضان کی خصوصی حیثیت بیان کی گئی ہے: رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، لوگوں کے لیے ہدایت اور ہدایت کی واضح دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا۔ پس جو کوئی تم میں سے اس مہینے کو پائے تو اسے روزہ رکھنا چاہیے (سورۂ بقرہ: 185)۔ یہ آیات رمضان کو قرآن سے جوڑتی ہیں اور روزے کو فرض قرار دیتی ہیں، جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ یہ مہینہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نہیں بلکہ روحانی تربیت کا ہے۔
احادیث مبارکہ میں بھی رمضان کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے (صحیح بخاری: 1899)۔ یہ حدیث رمضان کی برکتوں کو واضح کرتی ہے کہ اس مہینے میں شیطانی وسوسوں سے تحفظ ملتا ہے اور نیکیوں کا موقع بڑھ جاتا ہے۔ ایک اور مستند حدیث میں ارشاد ہے: جو شخص رمضان کو ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھے گا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے (صحیح بخاری: 1901)۔ یہ احادیث ہمیں ترغیب دیتی ہیں کہ رمضان کو خالص نیت سے گزارا جائے تاکہ مغفرت حاصل ہو۔
اب بات کرتے ہیں رمضان کی آمد سے قبل ضروری تیاریوں کی۔ سب سے پہلے روحانی تیاری ہے۔ رمضان ایک موقع ہے گناہوں سے توبہ کرنے کا۔ شعبان کے آخری ایام میں زیادہ سے زیادہ استغفار، نوافل اور تلاوت قرآن کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں سب سے زیادہ روزے رکھتے تھے تاکہ رمضان کی تیاری ہو۔ دوسری اہم چیز نیت کی صفائی ہے۔ روزے کی نیت صرف بھوک برداشت کرنا نہیں بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ رمضان سے پہلے اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور بری عادتوں سے چھٹکارا پائیں، جیسے غیبت، جھوٹ یا غصہ۔
جسمانی تیاری بھی ضروری ہے۔ رمضان میں روزے رکھنے کے لیے صحت کا خیال رکھیں۔ اگر کوئی بیماری ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ رمضان سے پہلے صحت مند غذا اپنائیں، پھل، سبزیاں اور پانی کا استعمال بڑھائیں تاکہ جسم روزے کی سختی برداشت کر سکے۔ گھر میں ضروری اشیاء کا ذخیرہ کریں، جیسے کھجوریں، دودھ، پھل اور سبزیاں۔ افطار اور سحری کے لیے صحت بخش کھانوں کی فہرست تیار کریں تاکہ غذائیت کی کمی نہ ہو۔ خاص طور پر بوڑھے، بچے اور حاملہ خواتین کو اپنی صحت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
ذہنی اور نفسیاتی تیاری رمضان کو کامیاب بناتی ہے۔ رمضان ایک چیلنج ہے، اس لیے صبر اور تحمل کی مشق کریں۔ رمضان سے پہلے شیڈول بنائیں: تلاوت قرآن کا وقت، تراویح کی تیاری، اور نیند کا توازن۔ خاندان کے ساتھ مل کر پلان کریں تاکہ سب مل کر اس مہینے سے فائدہ اٹھائیں۔ رمضان میں صدقہ و خیرات کا خصوصی اہتمام ہوتا ہے، اس لیے رمضان سے پہلے زکوٰۃ اور فطرانہ کا حساب لگائیں۔ غریبوں اور مسکینوں کی مدد کے لیے فنڈز الگ کریں۔ مسجدوں میں اعتکاف کی تیاری کریں اگر ممکن ہو۔
معاشرتی سطح پر تیاری بھی اہم ہے۔ رمضان اتحاد کا مہینہ ہے۔ پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے روابط بڑھائیں، اگر کوئی ناراضی ہے تو معافی مانگیں۔ رمضان سے پہلے کمیونٹی پروگرامز میں حصہ لیں جیسے قرآن کلاسز یا لیکچرز۔ بچوں کو رمضان کی اہمیت سکھائیں تاکہ وہ بھی روزے رکھنے کے لیے تیار ہوں۔ ماحولیاتی تیاری میں گھر کو صاف ستھرا رکھیں، عبادت کی جگہ تیار کریں۔
رمضان کی آمد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی عارضی ہے اور اللہ کی طرف رجوع ضروری ہے۔ یہ تیاریاں نہ صرف رمضان کو بابرکت بناتی ہیں بلکہ پورے سال کی زندگی کو بہتر کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مہینے کی برکتوں سے مالا مال فرمائے۔ آمین۔
استقبالِ رمضان