کوئٹہ(ویب ڈیسک )رنگوں اور خوشبوؤں کا تہوار بسنت لاہور کے بعد وادی کوئٹہ پہنچ گیا، بسنت منانے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، جہاں 13 سے 15 فروری تک پتنگ بازی اور ثقافتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ بسنت کی تقریبات کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں منائی جائیں گی، جہاں پتنگ بازی، موسیقی اور مقامی ثقافتی رنگ نمایاں ہوں گے۔ شہر میں پہلے ہی پتنگوں، ڈور اور بسنت سے متعلق اشیا کی فروخت شروع ہو چکی ہے، جس سے بازاروں میں گہما گہمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ دکانداروں کے مطابق گزشتہ چند روز میں پتنگوں کی فروخت میں واضح اضافہ ہوا ہے، جبکہ نوجوان طبقہ بسنت کے تہوار کو لے کر خاصا پرجوش دکھائی دے رہا ہے۔ کوئٹہ کے باسی محمد شعیب نے کہا کہ کوئٹہ جیسے شہر میں جہاں تفریحی مواقع محدود ہیں، بسنت جیسے ثقافتی تہوار نہ صرف عوام کے لیے خوشی کا باعث بنتے ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ لاہور کے بعد کوئٹہ میں بسنت کا انعقاد شہر کے مثبت تشخص کو اجاگر کرے گا اور سیاحت کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب بعض شہریوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بسنت کی تقریبات کو قانونی اور محفوظ دائرے میں رکھا جائے تاکہ ماضی کی تلخ یادیں نہ دہرائی جائیں۔ اگر مناسب نگرانی اور ضابطہ اخلاق پر عمل کیا جائے تو بسنت ایک صحت مند اور خوشگوار تہوار بن سکتا ہے۔ منتظمین کے مطابق 13 سے 15 فروری تک جاری رہنے والی بسنت کی تقریبات کوئٹہ میں ایک نئے ثقافتی باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہیں، جس سے شہریوں کو روزمرہ کے مسائل سے کچھ دیر کے لیے نجات اور خوشیوں کے رنگ میسر آئیں گے۔
لاہور کے بعد کوئٹہ میں بھی بسنت، شہری تہوار کے لیے کتنے تیار؟