کشمیر ضمیر عالم کا امتحان

تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری
یوم یکجہتی کشمیر یہ دن پاکستان اور اہل کشمیر کے اس گہرے اور مضبوط رشتے کی تجدید کرتا ہے جو ایمان، تاریخ، قربانی اور مشترکہ دکھ درد سے بندھا ہوا ہے۔ یہ یکجہتی کسی وقتی سیاسی ضرورت کا نتیجہ نہیں بلکہ دلوں میں رچی بسی وہ وابستگی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔
کشمیر کی سرزمین قدرتی حسن، روحانی سکون اور تہذیبی عظمت کی پہچان رہی ہے، مگر بدقسمتی سے یہ حسین وادی گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم و جبر کی سیاہ داستان کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ بھارتی تسلط کے بعد سے اہل کشمیر کو ایسے مظالم کا سامنا ہے جن کی مثال جدید تاریخ میں کم ملتی ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، پیلٹ گنز کے ذریعے معصوم بچوں کی بینائی چھین لینا، گھروں کی تلاشی کے نام پر بے حرمتی، خواتین کی عزتوں پر حملے اور مسلسل کرفیو یہ سب وہ مظالم ہیں جو کشمیری عوام کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا دیے گئے ہیں۔
بھارتی فوجی محاصرہ کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا کھلی جیل نما خطہ بنا چکا ہے، جہاں لاکھوں فوجی نہتے عوام پر مسلط ہیں۔ اظہار رائے پر پابندی، ذرائع ابلاغ کی خاموشی، انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی بندش اور سیاسی قیادت کی قید نے کشمیری عوام کی آواز دبانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ظلم جتنا بڑھتا ہے، مزاحمت اتنی ہی مضبوط ہو جاتی ہے۔ کشمیری عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کے زور پر کسی قوم کی خواہش آزادی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
ان مظالم کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ماؤں نے اپنے بیٹوں کی شہادتوں کو صبر و استقامت سے قبول کیا، بہنوں نے اپنے بھائیوں کی جدائی کو حوصلے میں بدلا اور نوجوانوں نے خوف کے بجائے امید کو اپنا راستہ بنایا۔ یہ قربانیاں محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ایسی جدوجہد کی علامت ہیں جو حق اور باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچ دیتی ہے۔
پاکستان اور اہل کشمیر کا رشتہ محض ہمسائیگی یا سیاسی مفادات تک محدود نہیں بلکہ یہ دلوں کی ہم آہنگی اور نظریاتی یگانگت کا رشتہ ہے۔ پاکستان کا ہر فرد کشمیری عوام کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے۔ یہاں کے بچے کشمیر کے نام سے مانوس ہیں، نوجوان اس جدوجہد کو اپنا فرض جانتے ہیں اور بزرگ اسے تقسیم برصغیر کا ادھورا باب قرار دیتے ہیں۔ مساجد میں ہونے والی دعائیں، گھروں میں ہونے والی گفتگو اور قومی سطح پر اٹھنے والی آوازیں اس بات کی گواہی ہیں کہ کشمیر پاکستان کے شعور اور ضمیر میں زندہ ہے۔
یوم یکجہتی کشمیر اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی اصولی اور اخلاقی حمایت کی ہے۔ عالمی فورمز پر، سفارتی محاذ پر اور ہر ممکن پلیٹ فارم پر پاکستان نے بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا ہے اور کشمیری عوام کی آواز دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ یہ حمایت کسی وقتی مصلحت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی مؤقف ہے، کیونکہ پاکستان کا قیام ہی مظلوم کی حمایت اور انصاف کے اصول پر ہوا تھا۔
یہ دن اقوام عالم اور بالخصوص اقوام متحدہ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا دن بھی ہے۔ دنیا کا وہ ادارہ جو امن، انصاف اور انسانی حقوق کا علمبردار ہونے کا دعوی کرتا ہے، کشمیر کے معاملے پر دہائیوں سے خاموش کیوں ہے؟ اقوام متحدہ کی وہ قراردادیں جو کشمیری عوام کو حق خودارادیت دیتی ہیں، آج تک عمل درآمد کی منتظر کیوں ہیں؟ اگر عالمی قوانین صرف طاقتور کے لیے ہیں اور مظلوم کے لیے نہیں تو پھر عالمی انصاف کے دعوے کس قدر کھوکھلے ہیں؟
بھارت کے مظالم پر عالمی طاقتوں کی خاموشی اور دوہرا معیار ایک تلخ حقیقت ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی علمبردار جب اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت آنکھیں بند کر لیتے ہیں تو ظلم کو تقویت ملتی ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر اقوامِ عالم کو یہ پیغام دیتا ہے کہ خاموشی بھی جرم ہوتی ہے اور تاریخ ایسی خاموشیوں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔ کشمیری عوام کسی ہمدردی کے محتاج نہیں بلکہ اپنے تسلیم شدہ حق کے عملی نفاذ کے منتظر ہیں۔
اہل کشمیر کا عزم، ان کی استقامت اور ان کا غیر متزلزل یقین اس بات کا اعلان ہے کہ اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، سحر ضرور طلوع ہوتی ہے۔ شہداء کا لہو رائیگاں نہیں جاتا، مظلوم کی آہ آخرکار عرش تک پہنچتی ہے اور تاریخ کا پہیہ آخرکار انصاف کی طرف ہی مڑتا ہے۔
پاکستان کی عوام اس یقین کے ساتھ اہل کشمیر کے ساتھ کھڑی ہیں کہ آزادی کا سورج ایک دن ضرور وادی کشمیر میں طلوع ہو گا۔ یہ یکجہتی محض ایک دن تک محدود نہیں بلکہ ایک مسلسل احساس ہے جو ہر دل میں زندہ ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر ہمیں یہ عہد یاد دلاتا ہے کہ ہم نہ صرف کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ اس وقت تک کھڑے رہیں گے جب تک وہ آزادی کی فضا میں سانس نہیں لیتے۔ پاکستان اور اہل کشمیر کے درمیان محبت، وفاداری اور رفاقت کا یہ رشتہ ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا۔ ان شاءاللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *