گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے


تحریر۔نظام الدین

ایم کیو ایم کے سابقہ مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری عمران فاروق کا برطانیہ میں قتل چند پراسرار واقعات میں سے ایک ہے،حالیہ دنوں ان کی بیوہ شمائلہ عمران کے انتقال کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آیا ہے خاص طور پر وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کے حالیہ بیانات نے تو ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ،یہ مضمون بھی اسی حوالے سے ہے،
ایم کیو ایم کے مرکز
یعنی”نائن زیرو پر آفاق احمد جو مرکزی رابط کمیٹی کے رکن سے پہلے زون(A) کےانچارج تھے, وہاں امیراحمد انصاری بانی ایم کیو ایم کے پرسنل ٹیلیفون آپریٹر سے پہلے لائینز ایریایونٹ انچارج تھے،آفاق احمد ایم کیو ایم سےمنحرف ہونے کے کچھ دن بعد نائن زیرو پر امیر احمد انصاری کو فون کرکے بانی ایم کیو ایم سے کچھ بات کرنا چاہتے تھے؟کیونکہ”امیراحمد انصاری اور آفاق احمد دونوں انکم ٹیکس میں ایک ساتھ ملازمت کرتے تھے اس لیے آفاق احمد کو یقین تھا امیر احمد انصاری ان کی بانی ایم کیو ایم سے بات کرادیں گے مگر وہ آفاق احمد کا فون سن کر گھبرا گئے اور کسی بھی مرکزی رہنما سے آفاق احمد کے فون کال کا زکرتک نہیں کیا مگر جب اس فون کال کا مرکزی کابینہ کو علم ہوا تو امیر احمد انصاری کو سزا کے طور پر مرکز آنے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی پھر اس خالی نشست پر مصطفیٰ کمال کو تعینات کردیا گیا، مصطفیٰ کمال جوان جذباتی ہونے کے ساتھ غریب بھی تھے کچھ کرنے کی جستجو بھی رکھتے تھے،2002 میں انہیں سندھ اسمبلی سے الیکشن لڑوایا گیا 2003 میں صوبائی وزیر آئی ٹی اور پھر 2005 میں کراچی کا میئر (ناظم) منتخب ہوگئے اس کے ساتھ ایم کیو ایم کی طاقتور فیصلہ ساز “رابطہ کمیٹی” کا رکن بھی بن گئے لندن اور پاکستان کی پالیسی میں بھی اس کا عمل دخل شروع ہوگیا پارٹی کی آئی ٹی ونگ کو سنبھالے کے ساتھ انتخابی مہم چلانے کی ذمہ داریاں بھی حاصل ہو گئیں انہیں اکثر بانی ایم کیو ایم کے خصوصی نمائندے کے طور پر بیرونِ ملک مقیم ایم کیو ایم کے کارکنوں سے خطاب اور تنظیم سازی کے لیے بھیجا جانے لگا ان کے بارے میں یہ کہا جانے لگا کہ ایم کیو ایم کے یہ وہ رہنما ہیں جو ٹیلیفون آپریٹر سے اٹھ کر رابطہ کمیٹی سے سینیٹر پھر خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کی سربراہی تک جا پہنچے ان تمام مراعات اور اختیارات میں بانی ایم کیو ایم کا اہم کردار تھا یہ واحد ایم کیو ایم کے رہنما تھے جو سب سے زیادہ لندن جاتے تھے کچھ زرائع بتاتے ہیں جب جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کا اقتدار سنبھالا تو مصطفی کمال کے کچھ مقتدرہ قوتوں سے تعلقات استوار ہوگے تھے؟؟؟
1992 فوجی آپریشن ایم کیو ایم کے خلاف شروع ہونے سے پہلے بانی ایم کیو ایم لندن چلے گئے تھے آپریشن کے دوران پوری تنظیمی کمیٹی روپوش ہوگئی ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ساتھ عام مہاجروں میں مایوسی پھلنے لگی ایسے ماحول میں ڈاکٹر عمران فاروق نے روپوشی کے دوران ایم کیو ایم کے بکھرے تنظیمی ڈھانچے کو مستحکم کیا اور7 سال روپوش رہنے کے بعد 1999میں لندن میں نمودار ہوئے اور وہاں سے تنظیمی معاملات اپنے ہاتھ میں لینے شروع کیے تو سیاسی اور تنظیمی معاملات میں سب سے آگے مصطفی کمال کو دیکھا ڈاکٹر عمران فاروق مصطفی کمال کے کچھ اختیارات کم کرنا چاہتے تھے یہاں سے ڈاکٹر عمران فاروق اور مصطفی کمال میں اختلاف پیدا ہوئے مصطفی کمال کو خوف تھا ڈاکٹر عمران فاروق ان سے وہ تمام اختیارات چھین نہ لیں اس کشمکش میں ایم کیو ایم میں مختلف جرائم پیشہ عناصر کو شامل کیا جانے لگا،
اس صورت حال کا حل بانی ایم کیو ایم نے یہ نکلا ڈاکٹر عمران فاروق کو تنظیمی معاملات سے علیحدہ کردیا اسی کشمکش کے دوران 16 ستمبر 2010 شام ڈاکٹر عمران فاروق کو ان کی اپنی رہائشگاہ کے قریب قتل کردیا گیا، برطانوی پولیس نے اس کیس پر کام شروع کیا اور4000 سے زائد گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد حاصل کی وقوعہ سے ملنے والے خنجر پر موجود فنگر پرنٹ حاصل کیے گئے جب مجرم شناخت کے قابل ہوئے تو اس وقت تک وہ برطانیہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوچکے تھے یہ تمام شواہد اسکاٹ لینڈ یارڈ کی انسداد دہشت گردی کی کمانڈ، SO15 نے اکٹھے کیے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں جس شخص کو حملہ کرتے دیکھا گیا اس کو حملے سے پہلے کے دنوں میں ایڈگ ویئر کے آس پاس دکھایا گیا قتل کے دن کیش مشین استعمال کرتے دیکھے گئے 99p اسٹور میں داخل ہوتے اور قتل کے مقام سے برآمد ہونے والے چاقوں کا ایک پیکٹ خریدتے ہوئے بھی دیکھا گیا ۔جائے وقوعہ سے برآمد ہونے والی اشیاء کا فرانزک جائزہ لیا گیا، ایک انگوٹھے کا نشان، جو ڈاکٹر عمران فاروق کے گھر کے قریب ایک جھاڑی میں چھپائے گئے چاقو پر پایا گیا تھا،اس کوجب پروسیس کیا تو فرانزک افسران اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب ہوئے کہ پاکستان سے آنے والے یو کے اسٹوڈنٹ ویزا کی درخواست کے پرنٹ سے مماثل رکھنے والے مبینہ قاتل محسن علی اور کاشف کامران قتل کے فوراً بعد برطانوی ایئرپورٹ سے سری لنکا فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جنہیں بعد ازاں کسی نامعلوم مقام سے پاکستانی خفیہ ادارے نے گرفتار کرلیا، مگر اس دوران مختلف افواہیں گردش کرتی رہیں
(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *