لاہور ( اے بی این نیوز )پی ٹی آئی کی کال پر اب عوام کان نہیں دھرتے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ اگر جیل میں بیٹھنا پڑے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں، کیا میری ذمہ داری جیل کے باہر بیٹھنا ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ فساد، انتشار اور گالم گلوچ کی سیاست کو اب ختم ہونا ہوگا۔
مریم نواز نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو دانستہ دشمنی میں بدلا گیا۔ ماضی میں پاکستان نالائقی کے ایک مشکل دور سے گزرا۔ پچھلے چند برسوں میں نوجوانوں کو فتنہ و فساد کی تربیت دی گئی، املاک جلانا اور توڑ پھوڑ کو سیاست کا نام دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فساد اور انتشار پی ٹی آئی کا وطیرہ بن چکا تھا، لوگوں کو یہ سکھایا گیا کہ جلاؤ گھیراؤ ہی سیاست ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2018 سے 2022 تک عوام نے عدم برداشت، گالم گلوچ اور کردار کشی کا کلچر دیکھا۔ سیاسی مخالفین کو چور ڈاکو کہنا معمول بنا دیا گیا۔ جلسوں میں خواتین کے خلاف نامناسب زبان اور رویے کو فروغ دیا گیا۔ کسی کی عزت اچھالنا آسان بنا دیا گیا اور اخلاقیات کو سیاست سے نکال دیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ عوام کو یہ تاثر دیا گیا کہ قومی املاک کو نقصان پہنچانا سیاست ہے، جس کے نتیجے میں ترقی کی علامتوں، تاریخی مقامات اور قومی ورثے کو جلایا اور توڑا گیا۔ میٹرو بس، گرین بیلٹس اور عوامی سہولیات کو نقصان پہنچانے کی ترغیب دی گئی۔ ہم قومی املاک کو جلانے نہیں بلکہ سنوارنے اور محفوظ کرنے کی بات کرتے ہیں۔ قائداعظم کی نشانیوں اور شہداء کی یادگاروں کو نقصان پہنچانا انتہائی افسوسناک عمل ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ عوام کو سیاسی تقسیم سکھائی گئی، جو ہمارے ساتھ ہے وہ درست اور جو دوسری طرف ہے وہ دشمن۔ سیاسی اختلاف کو نفرت میں بدلنے کی سوچ پروان چڑھائی گئی۔ بچوں کے ہاتھ میں کتاب اور قلم کے بجائے تشدد اور انتشار کا راستہ دکھایا گیا۔ نئی نسل کو جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کرنا سکھایا گیا، حتیٰ کہ پولیس اہلکاروں کی توہین کو بھی جائز قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نئی نسل کو ان کی تاریخ، ثقافت، روایت اور کلچر سے جوڑنا چاہتے ہیں۔ ایک غلط بیانیہ دیا گیا کہ کارکردگی اہم نہیں، صرف بیانیہ کافی ہے چاہے وہ جھوٹ پر مبنی ہو۔ کارکردگی کے بجائے بیانیے کی سیاست نے پاکستان کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا۔ قوم نے اس سوچ کا خمیازہ بھگتا اور اس نقصان کی تلافی میں برسوں لگیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ عوام اس سیاست سے تنگ آ چکے ہیں، اسی لیے جلسوں کی کال پر لوگ باہر نہیں نکل رہے۔ لاہور میں تین دن تک کال دی گئی مگر عوام نے شرکت نہیں کی۔ بار بار شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کالز دی گئیں لیکن عوام نے کسی پر کان نہیں دھرا۔ اس کے برعکس عوام نے مثبت سرگرمیوں اور تقریبات میں بھرپور شرکت کی۔ نیو ایئر، کرسمس، بسنت، کیٹل شو اور میلہ چراغاں جیسے ایونٹس کو عوامی پذیرائی ملی۔ تہوار اور فیسٹیولز عوام کے لیے خوشی، سکون اور یکجہتی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں گٹر کے ڈھکن چوری کرنے والوں کے لیے سخت قانون سازی کی جا رہی ہے۔ گٹر کا ڈھکن چرانے پر 10 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ پنجاب حکومت نے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کیا ہے۔ سیفٹی گائیڈ لائنز، ایس او پیز اور حفاظتی ضوابط پر عمل ہر شہری کی ذمہ داری ہے، حکومت نے شہریوں کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
انہوں نے کہا کہ بسنت کا تعلق پنجاب کی زراعت، فصلوں اور ثقافتی شناخت سے جڑا ہے۔ زرد رنگ بسنت کی پہچان ہے جو زندگی، خوشحالی اور نئے آغاز کی علامت ہے۔ پنجاب میں بسنت کے لیے مکمل لیگل فریم ورک نافذ کر دیا گیا ہے، فلائنگ رولز واضح ہیں۔ پتنگ اور ڈور کے سائز، مواد اور معیار کا تعین قانون کے تحت کیا گیا ہے۔ صرف کاٹن ڈور کی اجازت ہے جبکہ غیر قانونی مواد پر مکمل پابندی عائد ہے۔