کم عمری کی شادی کا قانون: قائدِ جمعیت بلوچستان اور سینیٹر حضرت مولانا عبد الواسع کا دوٹوک مؤقف

تحریر : محمد حنیف کاکڑ راحت زئی

جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر اور سینیٹر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے 18 سال سے کم عمر شادی کو غیر اسلامی قرار دینے کے قانون پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون اسلامی تعلیمات اور شریعتِ مطہرہ کے صریحاً خلاف ہے۔

حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کے مطابق اسلام میں نکاح کی بنیاد عمر نہیں بلکہ بلوغت ہے، اور جب مرد و عورت بلوغت کو پہنچ جائیں تو والدین پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ ان کا نکاح کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام نے نکاح کو آسان اور زنا کو مشکل بنانے کی تعلیم دی ہے، جبکہ یہ قانون معاشرے میں فتنہ، بے راہ روی اور اخلاقی بگاڑ کو فروغ دے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے، لہٰذا یہاں اسلامی تعلیمات و قوانین کا نفاذ ہونا چاہیے، نہ کہ مغربی سوچ اور غیر اسلامی قوانین کو زبردستی مسلط کیا جائے۔ حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کے مطابق جلد اور بروقت شادی کے بے شمار سماجی، اخلاقی اور معاشرتی فوائد ہیں، جن کے نتیجے میں فحاشی، بے حیائی اور دیگر برائیاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے کم عمر بچوں کی شادی کی ممانعت کے بل پر دستخط کے بعد یہ بل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یاد رہے کہ یہ بل گزشتہ ہفتے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور ہوا، جسے قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی اور سینیٹ میں شیری رحمان نے پیش کیا۔

جمعیت علماء اسلام نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس بل کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ اس حساس اور دینی نوعیت کے معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی حاصل کی جائے، تاہم یہ تجویز مسترد کر دی گئی، جس پر جماعت نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے مزید کہا کہ اس قانون کی ایک خطرناک شق یہ ہے کہ اس میں نہ صرف نکاح کو جرم قرار دیا گیا ہے بلکہ والدین، سرپرست اور نکاح خواں کو بھی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو کہ اسلامی معاشرتی نظام پر براہِ راست حملہ ہے۔
قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچوں کے نکاح کا اندراج ایک قابلِ سزا جرم ہوگا، اور نکاح رجسٹرار اس اندراج کے مجاز نہیں ہوں گے۔ مزید یہ کہ 18 سال سے زائد عمر کے مرد کی کم عمر لڑکی سے شادی پر کم از کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ تین سال قیدِ بامشقت اور جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
آخر میں حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ جمعیت علماء اسلام اس غیر اسلامی قانون کے خلاف ہر آئینی، جمہوری اور عوامی فورم پر جدوجہد جاری رکھے گی، اور اسلامی تعلیمات کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *