تحریک انصاف (PTI) کی اندرونی سیاست میں ایک بڑی ہلچل اس وقت سامنے آئی ہے جب پارٹی کے دو مرکزی رہنماؤں، عمر ایوب خان اور شبلی فراز نے پارٹی کی سیاسی کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس فیصلے نے سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
ذیل میں اس صورتحال پر ایک مختصر رپورٹ پیش ہے:
تحریک انصاف میں بڑی تبدیلی: عمر ایوب اور شبلی فراز کا استعفیٰ
پاکستان تحریک انصاف، جو اس وقت کئی قانونی اور سیاسی محاذوں پر نبرد آزما ہے، اسے ایک بار پھر اندرونی اختلافات یا حکمتِ عملی کی تبدیلی کا سامنا ہے۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف شبلی فراز نے سیاسی کمیٹی سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
استعفیٰ کی وجوہات
ذرائع کے مطابق، ان استعفوں کے پیچھے کچھ اہم عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں:
- پارٹی کے اندرونی فیصلے: کہا جا رہا ہے کہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی میں حالیہ کچھ فیصلوں پر دونوں رہنماؤں کو تحفظات تھے۔
- نئی حکمتِ عملی: کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان پارٹی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں تاکہ موجودہ سیاسی دباؤ کا بہتر مقابلہ کیا جا سکے۔
- قانونی بوجھ: عمر ایوب اور شبلی فراز دونوں ہی متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی تمام تر توجہ قانونی چارہ جوئی اور پارلیمانی کردار پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔
سیاسی کمیٹی کا مستقبل
ان اہم استعفوں کے بعد اب تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کی ازسرِ نو تشکیل متوقع ہے۔ پارٹی کی قیادت اب ایسے چہروں کی تلاش میں ہے جو موجودہ حالات میں زیادہ جارحانہ یا مختلف انداز میں پارٹی کا بیانیہ آگے بڑھا سکیں۔
اثرات
عمر ایوب اور شبلی فراز پی ٹی آئی کے وفادار اور بانی چیئرمین کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا کمیٹی سے نکلنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پارٹی کے اندر “فیصلہ سازی” کے عمل میں کچھ بڑی تبدیلیاں آنے والی ہیں۔