آسک اکیڈمی رائیونڈنے تعلیمی میدان میں کارکردگی کا پرچم لہرا دیا۔

تعلیمی ترقی کے پُل عبور کرتے طالب علموں کے لیے تقسیم ایوارڈز تقریب کاپرُوقار انعقادکیا گیا!
مرکزی پریس کلب رائیونڈ کے پلیٹ فارم سے شریک رائٹر کالم نگار ظفر اقبال ظفر کے قلمی تاثرات
تحریر: ظفر اقبال ظفر
آسک اکیڈمی رائیونڈ اپنی منفرد تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر مثالی اہمیت کے ادارے کی حیثیت الگ پہچان رکھتا ہے۔
اس سکول کے روح رواں محترم اظہر خان صاحب نے رائیونڈ میں اس تعلیمی ادارے کے قیام سے تعلیمی معیار کی جو شناخت بنالی ہے اُس نے باشعور والدین کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔آج کے دور میں والدین اپنے بچوں کے شاندارمستقبل پر سب سے زیادہ وقت محنت اور سرمایہ قربان کر رہے ہیں اگر کوئی تعلیمی ادارہ ان کی قربانیوں کا صلہ نہیں دیتا ہے تو بچوں کے زہنی اور والدین کی مقدس قربانیوں کو رائیگاں کرنے مجرم ٹھہرتا ہے۔علم انبیاء اکرام کی میراث ہے جو اس انسانی دنیا میں خدا کی سب سے عظیم نعمت کا درجہ رکھتا ہے۔درس و تدریس کے اس شعبے سے بددیانتی ناانصافی کرنے والے لوگ بچوں اوروالدین کے ہی نہیں خدا کے بھی قصوروار ٹھہرتے ہیں کیونکہ وہ علم کے ساتھ اپنا کردار پیش کررہے ہوتے ہیں۔اسی تناظر میں محترم اظہر خان صاحب نے آسک اکیڈمی میں جن ٹیچرز کا انتخاب کیا ہوا ہے وہ نہ صرف ماہر تعلیم ہیں بلکہ اپنے حسن سلوک سے علم کے ساتھ تربیت کی بھی زمہ داری نبھا رہے ہیں جس کی وجہ سے بچوں کا چھٹی والے دن بھی سکول آنے کو جی چاہتا ہے۔
دور حاضر کے جدید تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دنیاوی علمی مہارت دینے کے ساتھ ساتھ دینی علوم سے بھی وابستہ کیا جاتا ہے۔تاکہ بچے معیاری زہنی نشوونما کے ساتھ رُوحانی خصوصیات سے بھی ہمکنار رہیں۔
تقریب کے اختتام پر الوداعی مصافے میں میں دو ٹیچرز سے چند منٹ کی گفتگو سے منسلک رہا جس میں یہ اخذ ہوا کہ درس و تدریس کا شعبہ جتنا مقدس اور قابل اہمیت ہے اس کے لیے عظیم سوچ و کردار والے ہی لوگ چنے جاتے ہیں جس کے لیے میں کہہ سکتا ہوں کہ آج علاقے میں صفہ اول کی تعلیمی شناخت کا معیار بنانے میں آسک اکیڈمی رائیونڈ کا گلشن انہی پھولوں کی مرہون منت سے شاداب ہے جس کی خوشبو نے علاقے کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔
بندہ ناچیز نے ادب کا طالب علم رائٹر ہونے کی حیثیت سے اسلامیت انسانیت پاکستانیت کے تناظر میں لکھی گئی اصلاحی پیغام دیتی اپنی کتاب ظفریات آسک اکیڈمی رائیونڈ کے تما م ٹیچرز کے ذوق مطالعہ کا اعزاز پانے کے لیے محترم اظہر خان صاحب کو پیش کی۔
مرکزی پریس کلب رائیونڈکے لیے عزت و وقار کا جذبہ رکھنے والے سنیئر صحافی ظفر ساجد صاحب نے دامن وقت میں کم گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرنے کا موقع فراہم کروایا جس میں استاد کی اہمیت و قدر پر مبنی شاعر پاکستان علامہ اقبال ؒکی حیات طالب علمی سے منسلک واقعہ کی یاد تازہ کی کہ جب انگریز گورنر نے علامہ اقبال ؒ سے دوران گفتگو آپ کے علم و دانش سے متاثر ہو کر آپ کو سر کے خطاب سے نوازنے کی پیشکش کی تو آپ نے کہا کہ پہلے یہ عزت و خطاب میرے استاد مولوی میر حسن صاحب کو دیا جائے اس کے بعد ہی میں اسے قبول کروں گا جس کے جواب میں انگریز گورنر نے کہا کہ ہم نے تو آپ کے استاد کی کوئی علمی کتاب نہیں دیکھی جس کے جواب میں علامہ اقبال ؒ نے کہا کہ آپ کے سامنے اقبال کی صورت میں جو علم و دانش کی کتاب کھڑی ہے یہ انہی کی قابلیت کی دلیل ہے اس شہادت کے بعد پہلے سر کا خطاب علامہ اقبال ؒ کے استاد کو دیا گیا پھر شاگرد کو نوازیا گیا۔
تربیت کے حوالے سے والدین کو بتایا گیا کہ بچے وہ نہیں کرتے جو انہیں کہا جاتا ہے بچے وہ کرتے ہیں جودیکھتے ہیں لہذا والدین کو بچوں کی زہن سازی کرنے کے لیے اپنے عظیم کردار کا مظاہرہ کرتے رہنا چاہیے جب آسک اکیڈمی رائیونڈ جیسے ادارے کے ٹیچرز معیاری تعلیم دیتے ہیں تو والدین کی بھی زمہ داری ہے کہ وہ معیاری تربیت دیں ان دونوں مقدس ہستیوں کی محنت کے اشتراک سے ایک ایسا بچہ معاشرے کے لیے تیار ہوتا ہے جو انسانیت کا حقیقی تعارف دنیا کو کرواتاہے تب لوگ اس کے ٹیچرز اور والدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
قابل عزت و ادب ٹیچرز کو سلام عقیدت پیش کرتے ہوئے والدین کو تعلیمی کامیابی کر مبارکباد بچوں کی مزید ترقی و کامیابی کے لیے ڈھیروں نیک خواہشات اور دعاؤں کے پھول حاظرین محفل کے دامن دل میں انڈیل کر خود ایک خوشبودار احساس سمیٹ کر واپس لوٹ آیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *