صحافت کا بدلتا چہرہ

سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کو آسان بنایا، وہیں سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر کو بھی دھندلا کر دیا ہے۔ آج کا قاری صرف اخبار یا ٹی وی پر انحصار نہیں کرتا بلکہ چند سیکنڈ میں فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، یوٹیوب اور واٹس ایپ کے ذریعے خبریں حاصل کر لیتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ خبر جلدی مل رہی ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ خبر سچی ہے یا نہیں؟ماضی میں صحافت کا ایک واضح معیار تھا۔ خبر چھپنے سے پہلے ایڈیٹر، سب ایڈیٹر اور رپورٹر کی کئی سطحوں سے گزرتی تھی۔ آج سوشل میڈیا کے دور میں ایک تصویر، ایک جملہ یا چند سیکنڈ کی ویڈیو بغیر تصدیق کے لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ یہی فیک نیوز ہے، جو خاموشی سے معاشرے میں زہر گھول رہی ہے۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی سیاسی تقسیم، معاشی دباؤ اور سماجی بے چینی موجود ہے، فیک نیوز جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے۔ کبھی کسی کی جھوٹی گرفتاری کی خبر، کبھی کسی کے انتقال کی افواہ، اور کبھی اداروں کے خلاف من گھڑت کہانیاں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں اور اصل مسئلہ پسِ پشت چلا جاتا ہے۔بدقسمتی سے کچھ نام نہاد یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا پیجز نے خبر کو کاروبار بنا لیا ہے۔ جتنی سنسنی، جتنی لڑائی، اتنے زیادہ ویوز اور اتنی ہی زیادہ کمائی۔ سچ بولنے والا پیچھے رہ جاتا ہے جبکہ جھوٹ بیچنے والا مقبول ہو جاتا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف صحافت بلکہ سماجی اقدار کے لیے بھی خطرناک ہے۔اصل صحافت آج بھی موجود ہے، مگر دباؤ میں ہے۔ رپورٹر میدان میں محنت کرتا ہے، مگر اس کی خبر سوشل میڈیا کی افواہوں کے شور میں دب جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا صحافت کا دشمن ہے؟ نہیں، اصل دشمن غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔ اگر یہی پلیٹ فارم سچ، تحقیق اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہو تو یہ صحافت کا سب سے بڑا مددگار بن سکتا ہے۔ریاست، اداروں اور خود صحافیوں کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانا ہو گی۔ میڈیا ہاؤسز کو ریٹنگ کی دوڑ سے نکل کر ساکھ کو ترجیح دینا ہو گی صحافیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تصدیق کے بغیر خبر آگے نہ بڑھائیں، چاہے خبر کتنی ہی “بریکنگ” کیوں نہ ہو۔عوام کا کردار بھی کم اہم نہیں۔ ہر وہ خبر جو موبائل پر آئے، سچ نہیں ہوتی۔ شیئر کرنے سے پہلے رکیں، سوچیں اور تصدیق کریں۔ ایک غلط خبر شیئر کرنا بھی جرم کے برابر ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے نتائج کسی کی عزت، جان یا ملک کے امن سے جڑے ہو سکتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سوشل میڈیا نے صحافت کو ختم نہیں کیا، بلکہ اس کا امتحان لیا ہے۔ جو صحافت سچ، دیانت اور عوامی مفاد پر قائم رہے گی، وہی زندہ رہے گی۔ باقی سب وقتی شور ہے، جو وقت کے ساتھ خود ختم ہو جائے گا۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور قوم یہ فیصلہ کریں کہ ہمیں سچ کے ساتھ کھڑا ہونا ہے یا جھوٹ کے تماشے کا حصہ بننا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *