ازقلم: ناصر چوہدری سیالکوٹ
دنیا ہر سال 9 دسمبر کو ورلڈ کرپشن ڈے مناتی ہے۔ اس دن کا مقصد صرف تقریریں کرنا، سیمینارز سجانا یا روایتی بیانات جاری کرنا نہیں، بلکہ یہ احساس دلانا ہے کہ کرپشن ہمارے اجتماعی وجود کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی ہے۔ افسوس کہ کرپشن آج دنیا اور خصوصاً پاکستان کے لیے کسی دیمک سے کم نہیں رہی—جو بظاہر دکھائی نہیں دیتی مگر پورا نظام چاٹ جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 2.6 ٹریلین ڈالر کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ اتنی خطیر رقم اگر تعلیم، صحت، پانی، خوراک اور انسانی فلاح پر خرچ ہو تو دنیا کی تصویر ہی بدل جائے۔ لیکن اس کے برعکس یہ دولت چند طاقتور ہاتھوں کے ذریعے مختلف راستوں سے غیرقانونی اکاؤنٹس میں چلی جاتی ہے، کہیں کمیشن کی صورت میں، کہیں جعلی ٹھیکوں کی شکل میں، اور کہیں بین الاقوامی کمپنیوں کی سودے بازیوں میں۔
دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک میں کرپشن ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ بدعنوانی سے نہ صرف معاشی بدحالی جنم لیتی ہے بلکہ عوام کا اداروں سے اعتماد بھی اٹھ جاتا ہے۔
اب آتے ہیں پاکستان کی طرف—وہ ملک جہاں کرپشن کے قصے صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ آج بھی ہر شعبے میں ایک زندہ حقیقت ہیں۔ اندازوں کے مطابق پاکستان میں ہر سال 10 سے 15 کھرب روپے کرپشن، بدعنوانی، ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کی صورت میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ یعنی اتنی رقم جس سے ملک کا قرض کم کیا جا سکتا ہے، ہزاروں اسکول بنا سکتے ہیں، اسپتال کھڑے کیے جا سکتے ہیں اور لاکھوں نوجوانوں کو روزگار دیا جا سکتا ہے۔
مگر افسوس! یہاں ترقیاتی فنڈز جعلی منصوبوں میں غائب ہو جاتے ہیں، سرکاری خریداری میں کمیشن کی داستانیں زبان زدِ عام ہیں، اربوں روپے کے میگا پروجیکٹس میں بے ضابطگیاں سامنے آتی ہیں اور منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرونِ ملک محلوں اور جائیدادوں کا جال پھیلتا چلا جاتا ہے۔
کرپشن کے یہ سلسلے صرف سیاست یا سرکاری اداروں تک محدود نہیں رہے۔ ریونیو، پولیس، میونسپل ادارے، زمینوں کے معاملات، ٹیکس کا نظام—ہر جگہ بدعنوانی کا سایہ نظر آتا ہے۔ معاشرہ جب اس برائی کو معمول سمجھ کر قبول کر لیتا ہے تو پھر تبدیلی کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں۔
ورلڈ کرپشن ڈے ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ کرپشن کے خلاف جنگ صرف قوانین سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے ارادے، کردار اور اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے۔ قومی سطح پر شفاف ادارے، سخت احتساب، ڈیجیٹل نظام، اور سب سے بڑھ کر عوام کی بیداری ناگزیر ہے۔
ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کرپشن کو منطقی جواز دینے کے بجائے اس کے خلاف آواز بنیں۔ جب تک لوگ اپنے حصے کی ایمانداری ادا نہیں کریں گے—چاہے وہ ایک افسر ہو، سیاستدان، تاجر، صحافی یا عام شہری—تب تک کوئی نظام کوئی قانون قوم کو بدعنوانی کے دلدل سے نہیں نکال سکتا۔
ورلڈ کرپشن ڈے محض ایک دن نہیں، ایک یاد دہانی ہے کہ قومیں کرپشن سے نہیں، ایمانداری سے بنتی ہیں۔