قسط-2
تحریر۔نظام الدین
پہلی قسط میں بتایا تھاکہ لائینز ایریا چائنا کٹنگ کے 7″ملازمین کے خلاف مقدمہ 2015 میں سابقہ سینیٹر مولانا تنویر الحق تھانوی کی درخواست پر نیب کی عدالت میں درج ہوا تھا اور 2025 میں سپریم کورٹ تک پہنچ گیا،جس کا فیصلہ آنا ابھی باقی ہے؟ اس پر میں پچلی قسط تفصیل سے لکھ چکا ہوں ، مگر لائینز ایریا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا نہیں ہوا کہ کوئی کرپشن یا چائنا کٹنگ کا کیس عدالت تک پہنچا ہو بلکہ متعدد مرتبہ لائینز ایریا سے متعلق کرپشن اقربا پروری اورازسر نوآبادکاری کے کیس اعلیٰ عدالتوں اور
حکمرانوں تک پہنچائے گئے یہ کیس اخبارات کی زینت بھی بنے، اور پھر لائینز ایریا آبادکاری کا معاملہ کوئی آج کا نہیں بلکہ ذولفقار علی بھٹو جب وزیراعظم بننے تو ان کی حکومت نے لائینز ایریا میں فلیٹوں کی اسکیم کے تحت آبادکاری کا آغاز کیا تھا مگر ذولفقار علی بھٹو کی حکومت برطرفی کے بعد، یہاں سے ظہور حسن بھوپالی منتخب ہوئے تو ایک بار پھر لائینز ایریا میں آبادکاری کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے آرکیٹیکچر یاسمین لاری سے لائینز ایریا ماسٹر پلان بنوایا اور دستور کی آٹھویں
ترمیم(ایم,ایل،او) “203” کے تحت تحفظ لائینز ایریا ری
ڈویلپمنٹ پروجیکٹ وجودمیں لایا گیا جس کے تحت 1974اور اس کے بعد آباد مکینوں کے اپنے حقوق کے مطابق مختلف کیٹگریز کے فارم جمع کیے گئے اے”کیٹگری 45گز کا پلاٹ 750روپےمیں لائینز ایریا کے اندر
بی”کیٹگریز 80 گز
300روپےمیں لائینز ایریا سے باہر ۔
سی”کیٹگریز 32۔16۔8 گزکے1000روپےمقرر کیے گئے جبکہ ZC اور MC کمرشل پلاٹ کی فروخت بزریعہ نیلامی رکھی گئی لائینز ایریا پروجیکٹ کے معمولات چلانےکےلئے چھوٹے بڑے کمرشل پلاٹوں کی نیلامی سے حاصل شدہ رقم یہاں ازسرنوترقیاتی کاموں پرخرچ کی جاتی تھی کسی بھی پلاٹ کو نیلامی سے پہلے ایگزیکٹو کمیٹی اور ایگزیکٹو بورڈ سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے پروجیکٹ ڈائریکٹر یا کسی اور ملازم کو پلاٹ نیلام کرنے یا کسی قسم کی پلی بارگین کرنے کے اختیارات حاصل نہیں ہوتے لیکن پروجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر بدعنوان ملازمین پروجیکٹ کے قیمتی پلاٹ ایگزیکٹو بورڈ اورایگزیکٹو کمیٹی
کی اجازت کے بغیر پروجیکٹ بائی لاز” کے خلاف فروخت کرتے رہے ہیں۔جو سراسر خلاف قانون ہے، بورڈ تشکیل دینےکا مقصد
پروجیکٹ میں کسی بھی قسم کی کرپشن کو روکنا مقصد تھا
لیکن نیب کے پلی بار گین جیسے قانون کا فاہدہ پروجیکٹ کے افسران نے اٹھایا ۔
اورجعلسازی کرکے زمین فروخت کرتے رہے ہیں یہ وہ حقائق ہیں جس سے نظر نہیں چرائی جاسکتی یہ نیب پر سوالیہ نشان ہے ؟؟ نیب آرڈیننس 1999سیکشن 15 اور 16کےتحت بدعنوانی کے مقدمات کی تفتیش اور سزا تجویز کر سکتا ہے۔مگر نیب کے پاس نا تو کسی بلڈرکو پروجیکٹ کی زمین دلوانے کے اختیارات ہیں اور نہ ہی کسی کی سروس ٹرمینیشن کا اختیار پلی بارگین
(سیکشن 25) کے تحت اگر کوئی شخص رقم واپس کرے، تو اسے
“رضاکارانہ تصفیہ” تصور کیا جاتا ہے مگر اس سے ملازمت کی حیثیت خود بخود ختم نہیں ہوتی،
جب تک متعلقہ محکمہ باقاعدہ انضباطی کارروائی نہ کرے۔
سندھ سرکاری رولز کے مطابق ان قواعد کے تحت صرف متعلقہ محکمہ، بورڈ، یا اتھارٹی کسی ملازم کو برطرف کر سکتی ہے،
وہ بھی تحقیقات اور شنوائی کے بعد۔نیب کی سفارش بذاتِ خود برطرفی کا حکم نہیں بن سکتی۔نیب کی سفارش پر برطرفی اگر بغیر محکمانہ کارروائی ہو، تو غیر قانونی تصور کی جائے گی۔ سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ پلی بارگین یا نیب تصفیہ کے بعد بھی ملازمت کا خاتمہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ نیب کا دائرہ تفتیش اوراحتساب تک محدود ہے؛وہ ملازمت ختم نہیں کر سکتا۔اگر نیب کے فیصلے کے نتیجے میں براہِ راست ملازمت ختم ہوئی، تو یہ اختیارات سے تجاوز ہے۔ جبکہ لائینز ایریا پروجیکٹ کے بائی لاز” کے خلاف ورزی اس بات کا ثبوت ہے کہ معاملے کا انتظامی تصفیہ کیا گیا، نہ کہ جرم کا حتمی تعین۔
لہٰذا افسران کو سخت سزا دینا اور بلڈر کو رعایت دینا انصاف کے توازن کے خلاف ہے
سپریم کورٹ اس بات کا جائزہ لے سکتی ہے کہ نیب نے قانون کے مطابق کارروائی کی یا نہیں یا معاملہ دوبارہ محکمانہ کارروائی کے لیے بھیجے چونکہ نیب نے اسی زمین پر پلی بارگین کرا کے بلڈر کو فایدہ پہنچایا، لہٰذا افسران کے خلاف دی گئی سزا متضاد اور غیر منصفانہ معلوم ہوتی ہے نیب نے زمین کے معاملے میں خود غیر شفاف عمل اختیار کیا؟، اسی طرح سپریم کورٹ کے کئی چیف جسٹس متعدد مرتبہ لائینز ایریا کی ازسرنو آبادکاری کے احکامات جاری کرتے رہے ہیں، سندھ ہائیکورٹ میں بھی متعدد بار اپیلیں درج کرائیں گئیں اور حکمرانوں کو بھی آبادکاری کے سلسلے میں خطوط لکھے گئے، مگر کسی سطح پر عمل درآمد نہیں ہوا اور نہ ہی ان اعلیٰ عدالتوں نے کبھی ان افسران سے لائینز ایریا ازسرنو کےکاموں میں تعطل اور بار بار عدالتوں کے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر ان افسران کے خلاف توہینِ عدالت کا نوٹس کیوں نہیں لیا اس سوال کا حق لائینز ایریا کے رہائشیوں کو حاصل ہے ؟؟؟؟
بستی ہی اپنی کیا ہے جہاں خراب میں؟
اک خواب ہیں جہاں سے گزر جائیں تو کیا؟