گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے

قسط 2
تحریر۔نظام الدین

برطانوی پولیس نے 16ستمبر 2010عمران فاروق کے قتل میں براہِ راست ملوث محسن علی اورکاشف کامران کی نشاندھی کی تھی پاکستانی اداروں نے محسن علی کو سہولت کارخالد شمیم سمیت چمن بارڈر سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا مزید تفتیش کے بعد ایک اور سہولت کار معظم علی کوبھی گرفتار کرلیا،
“جبکہ کاشف کامران کی کبھی گرفتاری ظاہر نہیں کی؟ اس کے بارے میں مختلف حقائق تبصرے اور دعوے میڈیا کے ذریعے سامنے آتے رہے،ان گرفتارملزمان نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان میں بتایا،بانی ایم کیو ایم کے ٹیلی فون خطاب کے بعد ایم کیو ایم لندن کے ایک رہنما محمد انور نےکہا تقریر غور سے سنیں قائد نے آپ کے لیے اس تقریر میں ایک پیغام چھوڑا ہے کہ عمران فاروق پارٹی میں ایک گروپ بنارہا ہے اس لیے انہیں روکنا ضروری ہے اور انہیں راستے سے ہٹانے کاانتخاب 17 ستمبر سے ایک دن پہلے رکھا گیا ہے تاکہ بانی کی سالگرہ پر تحفہ پیش کیاجاسکے اس کام میں خرچ ہونے والی رقم بانی کے بھتیجے افتخار حسین نے بیجھ دی ہے؟قصہ مختصر اس طرح پاکستانی عدالت نے 10 سال بعد بانی ایم کیو ایم سمیت افتخار حسین، محمد انوراورگم شدہ “کاشف کامران”کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے باقی کو عمر قید سزاسنائی برطانوی حکومت نے قتل کے ثبوت 9 سال بعد فراہم کیےاس تاخیر کے باعث یہ کیس ایک کلاسک پولیٹیکل قتل بن گیا؟ سوال یہ ہے آخر قتل کے ثبوت برطانیہ نے 9 سال تک کولڈ اسٹوریج میں ڈالے کیون رکھے؟ برطانیہ سے دو قاتلوں کا فرار ہونا اور ایک کا منظر سے غائب ہوجانا پولیس کی نااہلی تھی یا ناکامی؟یا پھر پتلی تماشہ کی ڈوریں دو ممالک کے مقتدرہ کے ہاتھوں میں تھیں؟جس میں ڈاکٹر عمران فاروق کی جان گئی، انصاف کو جان بوجھ کر ادھورا چھوڑا گیا؟اور اس پرانی راکھ کو کچھ عرصے بعدکریدنے کے لیے مصطفی کمال جیسے دیگر بڑھ بولے
سیاست سے نابلد کا تماشہ لگا کر رکھا تاکہ کبھی بدلتے سیاسی حالات میں لندن سیٹ اپ پر دباؤ بڑھایا جاسکے؟میں جذبات یا کسی فریق کی وکالت کے بغیر یہ بات واضح کررہا ہوں بانی ایم کیو ایم کےخلاف عصرِ حاضر کے ان نادر مقدمات میں شمار ہوتا ہے جن میں فرد،نظریہ، ریاستی سلامتی اور عالمی سیاست اس طرح باہم الجھ گئے ہیں کہ سادہ بیانیہ ممکن نہیں رہا۔ یہ معاملہ نہ تو مکمل طور پر مظلومیت کی داستان ہےاور نہ ہی محض دہشت گردی کا سیدھا مقدمہ، بلکہ یہ انسانی کمزوریوں، فکری تضادات طاقت ور ریاستی نظام کی سختی کا مرکب ہے یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ سیاسی پناہ کسی شخص کےکردار کی پاکیزگی کا سرٹیفکیٹ نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس بات کا اعتراف ہوتی ہے،درخواست گزار کو اپنے ملک میں ریاستی اداروں،حکومت یا طاقتور افراد کی جانب سے جان،آزادی یا انصاف کے حق کو لاحق خطرات ہیں، بین الاقوامی قانونِ کے مطابق ایسا شخص سیاسی پناہ کااہل ہو سکتا ہے، بانی ایم کیو ایم پر درجنوں بار سنگین الزامات لگائے گئے،قتل، بغاوت،دہشت گردی جیسے الفاظ استعمال ہوئے،مگر اکثر کیسز منطقی انجام تک نہیں پہنچے یاپھر برطانوی عدالت میں پیش ہی نہیں کیے گئے وہ سیاسی بیانات تک محدود رہے، یہ وہ نکتہ ہے جو بانی ایم کیو ایم کے سیاسی پناہ کے مؤقف کو مضبوط کرتا ہے۔اگر کوئی ریاست یا اس کے طاقتور حلقے
مسلسل کسی فردکو عوامی سطح پر مجرم ثابت کرنے کی کوشش کریں مگر عدالت میں ثبوت پیش نہ کریں
تو یہاں ایک قانونی تضاد پیدا ہوتا ہےایک طرف کہا جاتا ہےبانی ایم کیو ایم انتہائی خطرناک مجرم ہے؟ دوسری طرف برطانیہ میں کبھی ٹھوس ثبوت کے ساتھ مقدمہ نہیں چلایا گیا؟
بین الاقوامی قانون پوچھتا ہے اگر ایک شخص پر اتنے جرائم ہیں،تو ثبوت کہاں ہیں؟یہ سوال الزام لگانے والوں کے لیے نقصان دہ اور پناہ کے دعوے کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی بیانات الٹا اثر ڈالتے ہیں جب پاکستانی سیاسی رہنما یاریاستی ادارےعدالت کے بجائے میڈیا میں بات کریں تحقیقات کے بجائے بیانیہ بنائیں الزام تو لگائیں، مگر قانونی کوئی نتیجہ نہ نکالیں تو وہ نادانستہ طور پر یہ ثابت کر دیتے ہیں یہ معاملہ قانون سے زیادہ سیاسی ہےاور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پہ برطانیہ جیسے ممالک مقدمہ چلانے سے
معذرت کرلیتے ہیں اور مصطفی کمال جیسے سیاسی نابلد بانی کی سیاسی پناہ کے مؤقف کو مظبوط کردیتے ہیں؟ اور ریاستی ادارے جھنجلاہٹ میں سزا مہاجروں کو دینے لگ جاتے ہیں؟ پہلی قسط میں بھی کچھ اسی طرح کے پہلوؤں کو اجاگر کیا تو کچھ دوستوں نے اپنی رائے سے نوازا سب سے پہلے سارجہ سے کراچی یونیورسٹی کے سابقہ
“اے پی ایم ایس او” کے آرگنائزر شعیب زئی نے اپنی رائے سے آگاہ کیا امریکہ ہیوسٹن سے جرنلسٹ ارشد احمد خان نے اس مضمون میں دلچسپی کا اظہار کیا اور پاکستان سمیت کراچی کے مختلف دوستوں نے کراچی کے حالات کا زمہ دار ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو ٹھرایا” کیوں؟ کیونکہ مہاجر سندھی کے نام پر حکومت اورسیاست کرنے والوں نےکراچی کی ہر گلی دشمن کی گلی بنا ڈالی ہے اس لیے کہ کراچی کی ہر گلی میں”لٹنے قتل” ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ میں ان تمام دوستوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی کی قیادت، اور کراچی میں اہم عہدوں پر فائز رہنے والے اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ اہلکار اگر آخرت میں دوسرے الزامات سے بری ہو بھی گئے تو کراچی کی قتل و غارت گری ان کی آخرت کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کافی ہوگی، اور یہ لوگ جہنم کا ایندھن ضرور بنیں گے۔،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *