خطابیات۔عمرخطاب
تعلیم محض سکول یا کالج کی چار دیواری میں گھنٹیاں بجنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا سفر ہے جس کی بنیاد گھر سے شروع ہوتی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ والدین بچے کے پہلے اور حقیقی معلم ہوتے ہیں، اور ان کی شمولیت بچے کی تعلیمی کامیابی، خود اعتمادی اور سیکھنے کے شوق پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ والدین کی شمولیت اور طلبہ کی تعلیمی کامیابی کے درمیان گہرا مثبت تعلق ہے۔ جو والدین اپنے بچوں کی تعلیم میں فعال کردار ادا کرتے ہیں، ان کے بچے نہ صرف تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں بلکہ ان میں مسائل حل کرنے کی مہارت اور سماجی و جذباتی ترقی بھی دوسروں سے بہتر ہوتی ہے۔ والدین کی یہ شمولیت بچوں کے لیے ایک بیرونی تحریک کا کام کرتی ہے۔
ذرائع والدین کے لیے چند ایسے عملی اقدامات تجویز کرتے ہیں جن کے ذریعے وہ گھر پر بچے کی تعلیم میں معاونت کر سکتے ہیں۔ گھر میں ایک پرسکون اور منظم جگہ فراہم کرنا جہاں بچہ بغیر کسی مداخلت (جیسے ٹی وی یا موبائل) کے پڑھ سکے، اس کی توجہ اور حوصلہ افزائی کو بڑھاتا ہے۔ رٹہ لگانے کے بجائے بچے سے ایسے سوالات کرنا جو اسے سوچنے پر مجبور کریں، جیسے “آج آپ نے سب سے دلچسپ چیز کیا سیکھی؟” تعلیم کو روزمرہ زندگی سے جوڑنا، جیسے کھانا پکاتے ہوئے ریاضی (کسور) سکھانا، سیکھنے کو موثر بناتا ہے۔ گھر میں ایک چھوٹی لائبریری بنانا اور بچے کے ساتھ مل کر کتابیں پڑھنا اس کے ذخیرہ الفاظ اور سمجھ بوجھ میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ صرف نتائج کے بجائے بچے کی کوششوں اور محنت کی تعریف کرنا اس میں “نشوونما کا ذہنیت” پیدا کرتا ہے۔
والدین کا کردار صرف درسی کتابوں تک محدود نہیں ہے بلکہ بچے کی کردار سازی میں ان کا کردار کلیدی ہے۔ ماں کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ قرار دیا گیا ہے جہاں وہ اخلاقیات، سچائی اور ہمدردی جیسے بنیادی سبق سیکھتا ہے۔ اسی طرح والد کا مشفقانہ اور متحرک رویہ بچے کو خود اعتماد بناتا ہے اور اسے سماجی طور پر بہتر انسان بننے میں مدد دیتا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے بھی اولاد کی بہترین دینی و دنیاوی تعلیم و تربیت والدین پر فرض ہے تاکہ وہ معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔
بچے کی تعلیمی ترقی کے لیے والدین اور اساتذہ کا باہمی تعاون نہایت ضروری ہے۔ سکول کی میٹنگز میں شرکت کرنا، اساتذہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنا اور سکول کی پالیسیوں کو سمجھنا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بچے کو گھر اور سکول دونوں جگہوں پر یکساں رہنمائی مل رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، وہ بچے جن کے والدین سکول کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، ان میں سکول سے بیزاری اور غیر حاضری کا رجحان کم پایا جاتا ہے۔
اگرچہ والدین کے متحرک کردار کی راہ میں بعض اوقات رکاوٹیں بھی آتی ہیں، جن میں مصروف علمی و کاروباری شیڈول (وقت کی کمی) سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ بعض دیہی علاقوں میں والدین کی اپنی تعلیمی قابلیت کی کمی اور سکول سے دوری بھی ان کے فعال کردار میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ تاہم، جدید دور میں سوشل میڈیا اور فون کالز کے ذریعے اساتذہ سے رابطہ رکھنا ان رکاوٹوں کو کم کرنے کا ایک موثر طریقہ بن چکا ہے۔
تاہم والدین کا تعلیمی کردار محض سکول کی فیس ادا کرنے تک محدود نہیں ہے۔ گھر پر سیکھنے کا ماحول فراہم کرنا، بچے کی چھوٹی بڑی کامیابیوں کو سراہنا اور اساتذہ کے ساتھ تعاون کرنا وہ سرمایہ کاری ہے جو بچے کی شخصیت کو نکھارتی ہے اور اسے مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرتی ہے۔ والدین کی تھوڑی سی توجہ بچے کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور اسے ایک کامیاب انسان بنانے کے لیے کافی ہے۔