گُلابوں کا کفن

( زیب بنگلانی)
وطن کی مٹی پر جب جب جمہوریت پر وار ہوا، تب تب ایک نرم دل مگر فولادی عزم رکھنے والی بیٹی نے اپنے نازک ہاتھوں سے اس دھرتی کے زخموں پر مرہم رکھا۔ اس نے آمریت کو للکارا، جھوٹے مقدمے سہے، جیلیں کاٹیں، جلاوطنی برداشت کی، مگر اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹی۔ وہ تھیں شہید محترمہ بینظیر بھٹو — وہ ناری جو قوم کی بیٹی کہلائی، جو شہادت کے مقام پر فائز ہوئی۔
27 دسمبر وہ المناک دن ہے، جب راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جمہوریت کی یہ سپاہی خون میں نہا گئی۔ اس کا خون، اس کی قربانی، عوام کے حقوق اور جمہوریت کی بنیادوں میں ہمیشہ کے لیے جذب ہو گئی۔ “گلابوں کا کفن” صرف ایک شاعرانه استعارہ نہیں بلکہ اُس پیاری قائد کا خراجِ عقیدت ہے، جس نے اپنے خون سے اس دھرتی کی آبیاری کی۔
بینظیر کی شہادت صرف ایک سیاسی سانحہ نہیں، بلکہ ایک قومی المیہ ہے۔ اس کی جدوجہد، اس کی قربانی اور اس کی فہم و فراست آج بھی ایک مثال ہے۔
آج جبکہ سیاست مفاد پرستی کی نذر ہو رہی ہے، شهید رانی بینظیر جیسے کرداروں کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس عظیم رہنما کے مشن، اس کے افکار اور اصولوں کو اپنائیں۔
بینظیر صرف ایک نام نہیں، وہ جمہوریت، ہمت، محبت اور قربانی کی روشن علامت ہے۔
اور اُس کے لیے “گلابوں کا کفن” جمہوریت کا وہ پرچم ہے جو ہمیشہ سر بلند رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *