ایک گذارش۔۔ ایک التجا

عوام کواب خبردار ہوشیار ہوجانا چاہیے لگتاہے حکومت نے عوام سے ہر رعائت واپس لینے کا فیصلہ کرلیاہے جبھی تو اتنا خوف و ہراس پھیلاہواہے بہترتو یہی ہے کہ اگلی باری میری اور آپ کی بھی ہو سکتی ہے ٹریفک سمیت تمام قوانین کی پاسداری کریں تاکہ اپنے اور انپے اہل ِ خانہ کو مشکلات سے محفوظ رکھا جاسکے ویسے اکثریت کے خیال میں کم عمر بچوں پر ایف آئی آر درج کرکے گرفتار کرنا ظلم، زیادتی اور اختیارات سے تجاوزہے۔ایک رکشہ ڈرائیور چالان ہونے پر رو پڑا وہ رو روکر کہہ رہاتھا سفیدپوش ہوا بھیک نہیں مانگ سکتاسکون سے رزق ِ حلال کمانے دو خداجانتاہے بڑی عید کے بعد آج تک گوشت نہیں کھایاگھر میں آتا تک نہیں وسائل نہ ہونے کے باعث بیٹی کی تعلیم کا داخلہ نہ بھیج سکا اس کی تعلیم ادھوری ہونے کا قلق ہے جب عوام کی یہ حالت ہوتو حکومت کو مرحلہ وار اقدامات کرنا چاہیے تھے یک لخت سخت قوانین کے نفاذ نے عوام کی سٹی گم کردی ہے نئے ٹریفک قوانین سے صرف عام آدمی متاثرہورہاہے۔ یوں کہ ان کے نزدیک اس ملک کا سب بڑا مسئلہ صرف ہیلمٹ نہ پہننا ہے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت سے عام آدمی کاایک سوال ہے کہ کرپشن، بے روزگاری، مہنگی تعلیم، مہنگا علاج، بجلی،گیس کی لوڈشیڈنگ، صاف پانی کی عدم فراہمی، متشدد مذہبی لشکری جماعتیں و اشخاص، مکروہ ترین طبقاتی نظام، شخصی و اداراجاتی غیر آئینی حرکات، مہنگا ترین انصاف وہ بھی اگر خوش قسمتی سے زندگی میں مل جائے، لا قانونیت، غنڈہ گردی، اور سرمایہ داروں کی کھلی لوٹ مار جیسے مسائل کی موجودگی میں کیا نت نئے ٹریفک قوانین کا نفاذ ہی پاکستان کا سب سے بڑامسئلہ ہے جو پورے ملک کی کچہریاں، تھانے اور حوالات میں ہزاروں خجل خوارہورہے ہیں ۔ڈبل سواری پر 2000روپے جرمانہ،کم عمر موٹر سائیکل ڈرائیور پر والدین سمیت مقدمہ اور بھاری جرمانہ ریاستی دھشت گردی سے کم نہیں۔۔۔ اس سے رشوت کے ریٹ بڑھیں گے۔۔ عام لوگوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو گا اس لئے سکول جانے والے 14 سال + کی عمر کے بچوں کو صرف موٹر سائیکل چلانے کی خصوصی اجازت دینا چا ہیے جس کے لیے ایک ٹیسٹ لیکر، انہیں 4 سال کے لیے ڈرائیونگ لائیسنس جاری کیا جائے کروڑوں کی گاڑیوں میں پھرنے والوں سے کوئی پوچھنے کی جسارت کرسکتاہے کہ جولوگ عام آدمی پر بھاری جرمانوں کا مشورہ دے رہے ہیں ذرا موٹرسواروں سے بھی پوچھ لیں کہ وہ کن حالات میں کیسے اپناکاروبار کررہے ہیں اورکتنی مشکل سے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔ سکول/کالج جانے والے طلباء وطالبات کے لیے تعلیمی اداروں میں ٹریفک قوانین کے حوالے سے 8ویں اور اس سے اوپر کی کلاسز کے بچوں کے لئے خصوصی لیکچرز کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ہمارے ملک میں ٹرانسپورٹ کے کرائے اس قدر زیادہ ہیں کہ لوگ رکشہ،ٹیکسی افورڈنہیں کرسکتے جن کے زیادہ بچے ہیں وہ کیا کریں،اس طرح کے قوانین کے نفاذ سے معاشی پریشانیوں کے شکارہوں گے اور بد حال عوام کو مزید ذہنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑے گا ایک شہری کا رد ِ عمل تھا سہولتیں تو یہ حکمران دیتے نہیں اور قوانین/جرمانے یورپ والے لگاتے ہیں،، عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر اور غریبوں کا خون نچوڑ کر اداروں کو فقط پیسے جنریٹ کرنے کی مشین بنادیا گیاہے خوفناک بات تو یہ ہے کہ 5300ارب کی کرپشن کرنے والوں کو پوچھنے کی جرأت نہیں کرتا اور عام آدمی کو دیوار سے لگانے کیلئے قوانین کو ڈھال بنادیاگیاہے آج ہی کے اخبار میں پارلیمنٹری فورم کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ آبادی میں اضافہ، پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی تینوں بڑے چیلنجز ہیں، پاکستان میں عالمی بینک کے مطابق 45 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے پاکستان پاپولیشن سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی آبادی وسائل پر دباؤ ہے، پاکستان کو سالانہ 15 لاکھ نوکریاں درکار ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی بھی ہماری معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے، آبادی پر کنٹرول کیے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔ پاکستان میں پانی زخیرہ کے لیے کوئی بڑا ڈیم بھی نہیں بنایا گیا، آبادی سے واٹر سیکیورٹی اور فوڈ سیکیورٹی جڑی ہے، پاکستان میں بچوں کی بڑی تعداد غذائی قلت کا شکار ہے، بڑھتی آبادی جاب مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے، نئے گریجویٹس کے لیے نوکریاں نہیں مل رہیں۔ شیری رحمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں پالولیشن فنڈ میں مزید فنڈز فراہم کیے جانے چاہئیں۔
پوری دنیامیں یہ رائج ہے کہ اگر حکومت اپنے نامناسب فیصلوں پرہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے پر مصر رہتی ہے تو اس کے خلاف تمام تر سیاسی وابستگیاں سے بالاترہوکر پبلک مفادمیں ایک منظم آواز بن کر پرامن احتجاج کا رواج ہے کیونکہ قانون کا مقصد سزا نہیں … حفاظت مقصودہے لیکن ایک عجیب بات ایڈووکیٹ میاں داؤد کا ایکس پر پیغام میں کہی گئی ہے کہ ”چند ماہ بعد پتہ چلے گا کہ اصل ایشو یہ تھا کہ دراصل اشرافیہ کے کسی بڑے حصے دار کو oblige کرنا تھا تو اسے کہا کہ تم ہیلمٹ امپورٹ کرواؤ یا پروڈکشن کر لو، پنجاب حکومت سختی کرے گی اور تمہارے ہیلمٹ زیادہ سے زیادہ فروخت ہو جائیں گے“ ویسے جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی ہیلمنٹ کے لئے ایسی ہی زبردست کمپین چلائی گئی تھی بعد میں انکشاف ہوا کہ یہ ساری اکسرسائزکا مقصد کسی منظور ِ نظرکو نوارنا تھا خدا کرے اب کے بار ایسا نہ ہو ایک تجویزہے کہ چالان کرنے سے پہلے اگر پولیس شہری کو ہیلمٹ پکڑا دے تو آدھی مشکلات ویسے ہی ختم ہوجائیں۔
2000 روپے جرمانہ لے کر خزانے میں ڈالنے سے بہتر ہے کہ وہی رقم لگا کر موقع پر ہیلمٹ دے دیا جائے۔ اس سے نہ جھگڑا ہوگا، نہ وقت ضائع… اور سب سے بڑھ کر جان بھی محفوظ رہے گی۔ٹریفک پولیس نے 72 گھنٹوں میں 4,600 مقدمات درج کیے، 3,100 خلاف ورزی کرنے والے گرفتار،رسیدی ٹکٹوں سے 134 ملین روپے کمائے، 25,824 گاڑیاں بندکردی گئیں اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ نئے ٹریفک رولز پیسہ اکٹھا کرنے کا ذریعہ ہیں کیا غریبوں کا جرم یہ ہے کہ پاکستان میں کیوں پیدا ہوتے ہیں یہاں پر امیر لوگ ہی پیدا ہونے چاہیے اب غربت کو ختم کرنے کا حکومت نے ٹھان لیا ہے کچھ عرصے تک ہمارے ملک میں کوئی غریب نظر آئے گا شنیدہے کہ دنیا میں واحد پاکستان ایسا ملک ہے جہاں چالان اور جرمانے کا ٹارگٹ رکھا جاتا ہے پنجاب حکومت نے 11 ارب سے زائد رقم کا چالان جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے اور معمولی غلطی پر بھاری جرمانے کا مقصد عوام کی اصلاح نہیں بلکہ ریوینیو جمع کرنا مقصد ہے۔ اگر عوام کی اصلاح مقصد ہوتا تو 2000 جرمانے کرنے کی بجائے اگر پولیس 2000 لے کر ہیلمٹ دے دے اس طرح ہر بندے کے پاس ہیلمٹ بھی آجائے گا اور جرمانہ دینے کی تکلیف بھی نہ ہوتی۔
مگر ایسی حکومت قسمت والی قوم کو ملتی ہے یوں لگتا ہے جس درخت پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹے جا رہے ہیں اس لئے حکومت سے ایک گذارش۔۔ ایک التجاہے کہ نوجوانوں کا مستقبل خراب کرنے کی بجائے اس کا کوئی بہتر حل نکالا جائے کیونکہ حکومت وقت قوانین یورپ سے بھی سخت بنا کر صرف ظلم کر رہی ہے۔ اگر یہ ظلم نہیں تو پہلے یورپ والی سہولیات تو مہیاء کرو بچوں کا کریمنل ریکارڈ بنا کر انہیں ذلیل نہ کریں۔۔۔ غریب آدمی کے بچے پر دیا گیا ایک پرچہ اس غریب کے گھر کا سارا نظام تباہ کر دیتا ہے۔ معاشی خوشحالی کیلئے اقدامات کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے عوام تو پہلے ہی ملکی قرضوں کا بوجھ اٹھائے کمر تڑوا بیٹھے ہیں۔نئے ٹریفک رولز کے بعد پنجاب کے تھانے اور عدالتیں طالب علموں اور کم عمر نوجوانوں سے بھری پڑی ہیں متعدد گھروں سے طلباء موٹرسائیکل پر بہنوں، بھائیوں یا دوستوں کے ساتھ موٹرسائیکلوں پر کالج اور سکول جاتے ہیں جو اب نئے رولز کے باعث مقدمات کا نشانہ بن رہے ہیں،مقدمات سے زیادہ مسئلہ اب ان کے کریکٹر سرٹیفکیٹ کا ہے، پنجاب میں ٹرانسپورٹ کا ایسا کوئی مربوط نظام نہیں ہے کہ یہ طلباء بسوں کے ذریعے کالج اور سکول پہنچ سکیں،والدین کے لیے نئی مصیبت بن گئی ہے ایف آئی آر کوئی حل نہیں تربیت کریں مجرم نہ بنائیں بچوں کو تھانیں حوالات نہ دکھائیں نفرت پیدا نہ کریں اسی میں پاکستان کی بہتری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *