بچوں کی تربیت اورتعلیمی نظام کا کردار!

تحریر: ظفر اقبال ظفر
ہر ترقی یافتہ ملک کے پیچھے عمدہ نظام تعلیم ہوتا ہے جو تربیت کے زریعے اپنی قومی زبان میں ترقی سے منفرد مقام حاصل کرتے ہیں آج دنیا میں سچائی اور امانت داری میں پہلے نمبر پر آنے والے ملک جاپان کے نظام تعلیم پر غور کریں تو علم ہوتا ہے کہ جاپانی تعلیمی ٹائم ٹیبل پانچ سے چھ گھنٹے کے اوقات کار میں محدود ہے۔طالب علموں پر ہوم ورک گھرلے جانے پرپابندی ہے یعنی سکول کا کام سکول میں ہی مکمل کروایا جاتا ہے۔یعنی وہ تعلیمی چورجو اپنی نالائقی زدہ کمزوریاں ہوم ورک دے کر والدین پر ڈال دیتے ہیں اس کا راستہ بند کیا گیا ہے۔ ٹیچر کی قابلیت کا پہلا امتحان ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ تعلیم دینے سے پہلے تعلیم کا تعارف اور محبت طالب علم کے دل و دماغ میں اُتارتا ہے اگر طالب علم تعلیم سے بھاگ رہا ہے تو سمجھیں اسے حقیقی استاد نہیں ملا۔جاپانی تعلیمی نظام میں بیشتر سالانہ اوقات کار میں کوئی نصاب ہے ہی نہیں۔بچوں میں تخلیقی اصلا حتیں سوالات اور جوابات کے زریعے پیدا کی جاتیں ہیں۔اس کے علاو ہ والدین پر لازم ہے کہ بچوں کو عام پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سکول لایا جائے گا اس اصول کی وجہ سے تمام طالب علم اپنے آپ کو سب کے برابر سمجھتے ہیں تاکہ کسی امیر میں تکبر نہ پیدا ہو اور کسی غریب میں احساس کمتری نہ پیدا ہو۔سب اچھا انسان ہونے کو فخرکی بات سمجھیں۔اگر کوئی بچہ ذاتی گاڑی پر سکول آتا ہے تو پرنسپل اسے گیٹ سے ہی واپس بھیج دیتے ہیں۔ ملکی وقومی نظم و ضبط کی پاسداری کرنا سب پر فرض ہے۔یہ اصول وضوابط بچے کی ابتدائی عمر میں ہی تعلیمی نظام کے ذریعے شخصیت سازی میں کردار اداکرتے ہیں اس کے علاوہ بچے پر لازم ہے کہ وہ فنون لطیفہ میں سے ادب، پینٹنگ، آرٹ، مصوری، میوزک، و دیگر مشغلوں میں سے اپنی پسند کی وابستگی رکھتے ہوئے لازمی مہارت حاصل کریں جو شخصیت سازی کی وجہ بنتا ہے۔ جاپانی تعلیمی اداروں میں ہر چالیس منٹ کے بعد بریک لی جاتی ہے جیسے ریسرچ سے منسلک کیا جاتا ہے۔تاکہ طالب علم ایجادات کا مشاہدہ کرتے ہوئے اپنی قابلیت سے نئی ایجادات پر کام کریں جس کی وجہ سے جدت کا عمل جاری رہتا ہے۔علم جاننے تک ہی محدود نہیں رہتا وہ کرنے کے مقصد کو عملی صورت میں پیش کرنے کا نام ہے۔ترقی یافتہ ممالک کے پیچھے تعلیم کا ہی ہاتھ ہے اور تعلیم بھی وہ جو خود ترقی کے تقاضوں سے وابستہ رہتی ہے تبھی دیگر شعبہ جات میں انقلابی تبدیلیاں رونماہوتی ہیں یہ لوگ دنیا کومنفرد معیار ی سہلوتیں دیتے ہوئے معاشی طاقت میں جینے کے مزے لیتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کو مفت یا انتہائی سستا و آسان رکھا جاتا ہے ٹیچرز اور تعلیمی اداروں کے اخراجات حکومتیں مہیا کرتی ہیں پھر یہاں سے کامیاب ہونے والے بچے اپنے ملک کو ترقی کا نتیجہ دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں انتظامی امور پر فائز لوگوں کو ان کی قابلیت کی بجائے سیاسی خدمات دیکھ کر عہدوں پر بیٹھا دیا جاتا ہے۔ جبکہ شعبہ تعلیم میں ماہر تعلیم لوگوں کوہی وزارت سے لیکر تمام اصلاحی زمہ داریوں پر اختیارات دئیے جانے چاہیں۔ایسا نہ ہو سکنے کی وجہ سے ملک بھر میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے کاروبارکی شکل اختیار کر چکے ہیں اچھی تعلیم مہنگی تعلیم بن چکی ہے جس کی منزل نوکر بننے والی نوکری سے جڑی ہوئی ہے۔ہر صاحب اولاد والدین حصول تعلیم کے لیے مشکل ترین مسائل میں مبتلا ہیں بچوں کی داخلہ فیس ماہانہ فیس پیپر منی کتابوں کاپیوں پنسل یونیفارم ٹرانسپورٹ بچوں کی پوکٹ منی لنچ ہوم ورک ٹیوشن فیس سکول ٹور ایکٹیوٹی جیسے اخراجات کے بھاری بوجھ کے ساتھ روزانہ ماں کا باپ کی سکول چھوڑنے لانے کی ڈیوٹی بھی شامل حال ہے سارے اخراجات کو جمع کیا جائے تووالدین کی زندگی اور زندگی کا سرمایہ داو پہ لگا رہتا ہے اس کے باوجود جب بچہ کسی ڈگری تک پہنچتا ہے تو اس کی نوکری کے لیے بھاری رشوت و شفارش کی ضرورت پڑتی ہے۔
پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اتنی بڑی قربانیاں دینے کے باوجود جب صوبے بھر میں کوئی بچہ اول پوزیشن پر آتا ہے تو وہ کسی سرکاری سکول میں پڑھنے والے کسی غریب مزدور کا بچہ ہوتا ہے کیونکہ اسے فیل ہونا سکول سے نہیں زندگی سے فیل ہونے کے احساس میں مبتلا کرکے محنت کرواتا ہے جبکہ پرائیویٹ سکولوں میں بچے فیل نہیں ہوتے ساری کلاس پوزیشن لیکراگلی کلاس میں منتقل ہو جاتی ہے۔اس کے باوجود ہمارا ملک و معاشرہ اگر چہ کم سہی مگر جتنی بھی اچھی اور درست سمت پر چل رہا ہے اس کی وجہ اچھے استاد ہی ہیں جو اپنی اعلیٰ ظرفی سے شاگرد کو اپنے کندھوں پر بیٹھا کر کہتے ہیں دیکھو تمہارا قد تو مجھ سے بھی بڑا ہو گیا۔آج بھی ایسے استاد ہیں جو اپنے تنخواہ سے کمزور بچوں کے خالی زہن کو چراغ سمجھ کراپنی قربانی کا تیل بھرکے معاشرے کے اندھیروں میں انسانیت کی روشنی پھیلاتے ہیں۔ان کی تربیت اپنے طالب علموں کوانسانیت کا درس سیکھاتی ہے۔احساس کی دولت سے دل کی جیب بھرنے والے استاد بناتے ہیں کہ بریک کے وقت کسی کے ٹفن سے سوکھی روٹی نکلے تو اس کو کمتر سمجھنے کی بجائے اپنی گھی والی روٹی پر یوں شکرادا کرنا ہے کہ اس کو بانٹ لیا جائے۔
کسی غریب دوست کے پھٹے کپڑے دیکھ کر اپنے کپڑے دے کر بھرم رکھنے والے کوخدا عزت کا لباس پہناتا ہے۔ کسی افسردہ چہرے کو اپنی مسکراہٹ دینے کے لیے کہنا پڑتا ہے کہ تم نہ ہنسے تو میں رو پڑوں گا۔تربیت سیکھاتی ہے کہ میں نے اپنے جیب خرچ سے اپنے دوست کی چھوٹی سی ضرورت پوری کرکے بڑی نیکی کما نی ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ دوسروں کی دل آزاری سے بچنے کے لیے مزاق کرنے اور مزاق اُڑانے میں فرق کیسے رکھا جاتا ہے۔ تربیت سیکھاتی ہے کہ آپ کے لیے دعا کرنے والے ہاتھوں کا بوسہ لینا قبولیت کو جلدی پورا کروا لیتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ اپنی ضرورت کا نوالہ کسی بھوکے کے منہ میں ڈالنے سے رزق خودآپ کے حق میں برکت کی دعائیں کرنے لگتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ اپنے جوتے کسی کے ننگے پاؤں میں پہنانے سے آپ کی ضرورتیں آپ کی جانب چلنے لگتی ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ نیک اعمال لکھنے والے قلم سے بھی زیادہ قیمتی وہ قلم ہے جوکسی کے علم سیکھنے میں آپ بطور تحفہ پیش کرتے ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ کسی محروم بچے کو اپنے کھلونے دینے سے اُسے خوشی اور آپ کو سکون ملتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ کسی ضرورت مند کی مدد کرکے اُسے چوری کرنے سے بچانا بھی کردار سازی کا طریقہ ہوتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ کیڑوں مکوڑوں پرندوں کو کھانا ڈالنا تمہارے لیے خدا کے دئیے ہوئے رزق کی شکرگزاری ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ اچھی نیت اور سوچ رکھنے والے کی زبان سے ادا ہونے والے لفظ زخمی دلوں پر مرہم کاکام کرتے ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ انسان وہ ہیں جو دوسروں کا درد اپنے سینے میں محسوس کرتے ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ جس طرح خدا کو کسی نے نہیں دیکھاوہ اپنی رحمت اورقدرت سے پہچانا جاتا ہے ایسے ہی انسان بھی اپنی زبان اور کردار سے پہچانا جاتا ہے۔تعلیم و تربیت اکیلے آگے نکلنے کی بجائے دوسروں کو ساتھ لیکر چلنے کا نام ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *