سیاسی ڈائری ڈیرہ غازی خان سے چوھدری احمد ) پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب سے سوال ؟

پیپلز پارٹی کارکنوں کے بغیر نہیں چل سکتی — سردار دوست محمد خان کھوسہ کو نظرانداز کرنا سیاسی خودکشی ہے!

وفاقی اقتدار میں شراکت، مگر ڈیرہ غازی خان میں خاموشی — کیا پیپلز پارٹی اپنے اصل چہرے کو بھول چکی ہے ؟

سیاست اگر یادداشت سے خالی ہو جائے تو وہ اقتدار تو پا لیتی ہے، مگر تاریخ ہار جاتی ہے۔
اور پیپلز پارٹی… جس کی بنیاد ہی قربانی، کارکن اور عوام تھے آج اسی کارکن سے نظریں چرا رہی ہے۔

ڈیرہ غازی خان میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ پیپلز پارٹی آخر کس سہارے پر کھڑی ہے؟
وہ کارکن جو دھوپ میں جھنڈا اٹھائے کھڑا رہا؟
وہ ووٹر جس نے دباؤ، خوف اور لالچ کے باوجود تیر پر مہر لگائی؟
یا وہ قیادت جو اب فائلوں اور کمروں تک محدود ہو چکی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ سردار دوست محمد خان کھوسہ وہ نام ہے جس کے ساتھ آج بھی پیپلز پارٹی کی پہچان جڑی ہے۔
انتخابی نتائج جو بھی ہوں، مگر عوامی فیصلہ آج بھی گلیوں، دیہات اور یونین کونسلوں میں صاف نظر آتا ہے۔
یہ وہ سیاستدان ہے جسے عوام نے شکست نہیں دی —
یہ وہ سچ ہے جسے پارٹی نے تسلیم نہیں کیا۔

وفاق میں حکومت کا حصہ بننے کے بعد پیپلز پارٹی کے پاس سنہری موقع تھا کہ وہ جنوبی پنجاب، خصوصاً ڈیرہ غازی خان میں خود کو مضبوط کرتی۔
مگر ہوا کیا؟
نہ ورکر کنونشن، نہ سیاسی رابطہ، نہ اعتماد، نہ وسائل۔

سوال یہ نہیں کہ سردار دوست محمد خان کھوسہ کو عہدہ دیا جائے یا نہیں —
سوال یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی اپنے وفادار چہرے کو پہچاننے کے لیے تیار ہے یا نہیں؟

سیاست محض بیانات سے نہیں چلتی،
سیاست چلتی ہے اعتماد، عزت اور اختیار سے۔
اگر سردار دوست محمد خان کھوسہ کو مؤثر کردار اور عملی سپورٹ نہ دی گئی تو یہ نقصان صرف ایک فرد کا نہیں ہوگا
یہ نقصان ایک پوری سیاسی سوچ کا ہوگا۔

جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی آج بھی زندہ ہے،
مگر یہ زندگی کارکنوں کے سہارے ہے،
اور ان کارکنوں کی امید کا نام ہے ڈی جی خان سے سردار دوست محمد خان کھوسہ۔

اگر پارٹی نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں،
تو تاریخ ایک سخت جملہ لکھے گی:
پیپلز پارٹی اقتدار میں تھی، مگر اپنے کارکن سے کٹ چکی تھی۔

مگرجو قاری کو یاد رہے؟

پارٹیاں الیکشن جیت کر بنتی ہیں، مگر زندہ کارکنوں سے رہتی ہیں — اور پیپلز پارٹی کو یہ سبق دوبارہ یاد کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *