تحریر : محمد حنیف کاکڑ راحت زئی
آج پوری دنیا میں عالمی یومِ تعلیم منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے عزم کی تجدید کرنا ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان، خصوصاً عالمی اور ایشیائی تعلیمی معیار کے تناظر میں، آج بھی ایک تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے۔ ہماری کوئی بھی یونیورسٹی نہ صرف دنیا بلکہ ایشیاء کی سطح پر بھی نمایاں مقام حاصل نہیں کر سکی، جو ہمارے تعلیمی نظام کی کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔
اگر بات صوبہ بلوچستان کی کی جائے تو یہاں تعلیمی نظام کی حالت مزید ابتر نظر آتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات میں تعلیم کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، نصاب فرسودہ ہے اور سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اساتذہ کرام، جو کسی بھی قوم کے معمار ہوتے ہیں، خود عدم توجہی اور محرومی کا شکار ہیں۔
بلوچستان میں اساتذہ کرام کی نہ صرف سماجی حیثیت کو مجروح کیا جا رہا ہے بلکہ ان کے آئینی و قانونی حقوق بھی سلب کیے جا رہے ہیں۔ بجٹ میں شامل ان کے جائز اور ضروری فنڈز، بالخصوص ڈی آر اے (DRA) جیسے بنیادی مالی حقوق، طویل عرصے سے ادا نہیں کیے جا رہے۔ صوبائی حکومت اساتذہ کے مسائل کے حل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے سے قاصر نظر آتی ہے، جس کے باعث تعلیمی نظام میں بہتری کی امید رکھنا محض ایک خوش فہمی بن چکا ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان، خاص طور پر بلوچستان میں اساتذہ کی تنخواہیں نہایت کم ہیں۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ کو نہ صرف معقول اور باعزت تنخواہیں دی جاتی ہیں بلکہ انہیں معاشرے میں سب سے زیادہ احترام بھی حاصل ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مضبوط قومیں اسلحے سے نہیں بلکہ تعلیم اور استاد کے احترام سے بنتی ہیں۔
جب تک تعلیم کو قومی ترجیح نہیں بنایا جاتا، اساتذہ کے مسائل حل نہیں کیے جاتے اور تعلیمی بجٹ کو سنجیدگی سے نہیں بڑھایا جاتا، اس وقت تک ترقی، خوشحالی اور عالمی برادری میں باوقار مقام کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ عالمی یومِ تعلیم کا تقاضا یہی ہے کہ ہم نعروں کے بجائے عملی اقدامات کریں اور تعلیم کو واقعی وہ مقام دیں جس کی وہ حقدار ہے۔