قلم اور قانون کا سنگم — ایک امید افزا آغاز

گوجرانوالہ جم خانہ میں پاکستان کالمسٹ ایسوسی ایشن اور گوجرانوالہ ڈسٹرکٹ بار کے اشتراک سے منعقد ہونے والا حالیہ اجلاس بظاہر ایک معمول کی نشست محسوس ہو سکتا تھا، مگر حقیقت میں یہ اجتماع اپنے اندر ایک گہرا پیغام، ایک مضبوط عزم اور ایک ایسی مشترکہ سوچ سموئے ہوئے تھا جو اگر عملی صورت اختیار کر لے تو معاشرتی اصلاح کی سمت ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ محض چند معزز شخصیات کی ملاقات نہیں تھی بلکہ فکر، قلم اور قانون کے باہمی اشتراک کا وہ عملی اظہار تھا جس کی کمی ہم برسوں سے اپنے معاشرے میں محسوس کرتے آ رہے ہیں۔

پاکستان کالمسٹ ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس پروگرام میں گوجرانوالہ ڈسٹرکٹ بار کے صدر رانا فرحان علی خان اور جنرل سیکرٹری چوہدری حق نواز ہنجراء کی شرکت نے اس اجتماع کو غیر معمولی وقار اور معنویت عطا کی۔ یوں یہ نشست محض اہلِ قلم تک محدود نہ رہی بلکہ اہلِ قانون کی شمولیت نے اسے ایک سنجیدہ اور نتیجہ خیز مکالمے میں بدل دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں قلم کی سیاہی اور قانون کی روشنائی ایک ہی صفحے پر آ کر معاشرتی بگاڑ کے خلاف یک آواز ہو گئیں۔

ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں معاشرہ بے شمار مسائل کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ منشیات کا پھیلاؤ، غنڈہ گردی، پولیس گردی، وکالت گردی، اخلاقی انحطاط اور سماجی بے حسی جیسے ناسور ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ان مسائل پر گفتگو تو بہت ہوتی ہے، قراردادیں بھی پاس ہوتی ہیں، سیمینار بھی منعقد ہوتے ہیں، مگر عملی سطح پر ٹھوس اور مربوط جدوجہد کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں گوجرانوالہ جم خانہ میں ہونے والا یہ اجلاس محض باتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں عملی تعاون اور مشترکہ جدوجہد کا واضح عندیہ دیا گیا۔

اس نشست میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا کہ معاشرتی برائیوں کا خاتمہ صرف نعروں، تقاریر یا وقتی جوش سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے مسلسل محنت، فکری رہنمائی اور قانونی عملداری کا مضبوط نظام درکار ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جہاں اہلِ قلم اور اہلِ قانون ایک دوسرے کے قریب آئے۔ کالم نگاروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف مسائل کی نشاندہی کریں گے بلکہ عوامی شعور کو بھی بیدار کریں گے، جبکہ وکلا نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کے لیے وہ ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ قلم اور قانون، بظاہر دو مختلف شعبے ہونے کے باوجود، دراصل ایک ہی مقصد کے لیے کام کرتے ہیں۔ قلم ذہنوں کو بدلتا ہے، سوچ کو جلا بخشتا ہے اور حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرتا ہے، جبکہ قانون اسی شعور کو عملی شکل دیتے ہوئے انصاف کی راہ ہموار کرتا ہے۔ جب قلم تنہا ہوتا ہے تو اس کی آواز اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے، اور جب قانون اکیلا ہوتا ہے تو اس پر طاقتور طبقات کا دباؤ حاوی ہو جاتا ہے۔ لیکن جب یہ دونوں یکجا ہو جائیں تو معاشرتی اصلاح محض ایک خواب نہیں رہتی بلکہ ایک قابلِ حصول حقیقت بن جاتی ہے۔

اجلاس کے دوران منشیات کے مسئلے پر خاص طور پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ منشیات آج ہمارے نوجوانوں کو تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ تعلیمی ادارے ہوں یا گلی محلوں کے کونے، یہ زہر خاموشی سے پھیل رہا ہے اور ہم اکثر بے بسی کا اظہار کر کے خاموش ہو جاتے ہیں۔ اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ کالم نگار منشیات کے نقصانات کو اجاگر کریں، اس کے پس پردہ عوامل کو بے نقاب کریں اور حکومتی اداروں کو جواب دہ بنائیں، جبکہ وکلا اس حوالے سے قانونی کارروائیوں کو مؤثر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اسی طرح غنڈہ گردی اور مختلف شکلوں میں سامنے آنے والی طاقت کی زیادتی پر بھی کھل کر بات ہوئی۔ یہ تسلیم کیا گیا کہ جب قانون کمزور پڑ جائے اور قلم خاموش ہو جائے تو طاقتور عناصر کھل کر میدان میں آ جاتے ہیں۔ پولیس گردی اور وکالت گردی جیسے الفاظ کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرے میں قانون کے نام پر ہونے والی زیادتیوں نے عوام کا اعتماد مجروح کیا ہے۔ اس تناظر میں اہلِ قانون کی موجودگی میں یہ بات طے پائی کہ قانون کا استعمال ظلم کے لیے نہیں بلکہ مظلوم کی داد رسی کے لیے ہونا چاہیے۔

یہ اجلاس اس اعتبار سے بھی اہم تھا کہ اس میں محض شکایات یا تنقید پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ آئندہ کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل پر بھی اتفاقِ رائے پیدا کیا گیا۔ باہمی رابطے، مشاورت اور مشترکہ پروگرامز کے ذریعے معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کا عزم کیا گیا۔ یہ طے پایا کہ جہاں قلم کی ضرورت ہوگی وہاں کالم نگار اپنی ذمہ داری نبھائیں گے، اور جہاں قانون کی عملداری درکار ہوگی وہاں وکلا شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

درحقیقت یہ اجلاس ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ معاشرتی اصلاح کسی ایک فرد یا ادارے کے بس کی بات نہیں۔ یہ ایک اجتماعی جدوجہد ہے جس میں ہر ذی شعور فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ اہلِ قلم اور اہلِ قانون اگر واقعی اپنے عہد پر قائم رہیں تو وہ نہ صرف مسائل کی نشاندہی کر سکتے ہیں بلکہ عملی تبدیلی کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں میں دانشوروں اور قانونی ماہرین نے مل کر کام کیا، وہاں مثبت تبدیلی ناگزیر ہو گئی۔

گوجرانوالہ جم خانہ میں ہونے والا یہ اجتماع دراصل ایک امید کی کرن ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب مایوسی، بداعتمادی اور انتشار ہمارے معاشرے پر چھایا ہوا ہے، اس طرح کی نشستیں ہمیں یہ یقین دلاتی ہیں کہ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ اگر نیت صاف ہو، سوچ واضح ہو اور جدوجہد مشترکہ ہو تو بڑے سے بڑا بگاڑ بھی درست کیا جا سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ اجلاس محض ایک دن یا ایک مقام تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اس کے اثرات تحریروں میں نظر آنے چاہئیں، عدالتوں میں جھلکنے چاہئیں اور سب سے بڑھ کر عوام کے رویّوں میں تبدیلی کی صورت میں سامنے آنے چاہئیں۔ جب قلم اپنی فکری طاقت سے شعور بیدار کرے گا اور قانون اپنی قوت سے انصاف کی راہ ہموار کرے گا تو معاشرتی اصلاح محض نعرہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت بن جائے گی۔ یہی اس اجلاس کا اصل پیغام تھا اور یہی ہماری اجتماعی ذمہ داری بھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *