خدمت کو سیاست بنانے والے رہنما — حضرت مولانا عبدالواسع صاحب

تحریر : محمد حنیف کاکڑ راحت زئی

سیاست اگر خلوص، دیانت اور عوامی خدمت کے جذبے سے خالی ہو تو محض اقتدار کی کشمکش بن کر رہ جاتی ہے، مگر جب سیاست عبادت کا روپ دھار لے تو وہ قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں حضرت مولانا عبدالواسع صاحب ایسی ہی ایک درخشاں مثال ہیں جنہوں نے سیاست کو ذاتی مفاد نہیں بلکہ عوامی خدمت کا مقدس فریضہ سمجھا۔

جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر کی حیثیت سے حضرت مولانا عبدالواسع صاحب کی پوری سیاسی و سماجی زندگی مسلسل جدوجہد، قربانی اور بلا تفریق خدمت سے عبارت ہے۔ ان کی سوچ ہمیشہ وسیع، ان کا وژن ہمہ گیر اور ان کی ترجیح عام آدمی رہا ہے۔ ضلع قلعہ سیف اللہ ہو یا بلوچستان کا کوئی دور افتادہ خطہ، محسن جمعیت کی یہی کوشش رہی کہ ترقی کے ثمرات ہر دروازے تک پہنچیں اور بنیادی سہولیات کسی ایک طبقے تک محدود نہ رہیں۔

ضلع قلعہ سیف اللہ میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، عوامی فلاحی اقدامات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری اس امر کی واضح گواہی دیتے ہیں کہ حضرت مولانا عبدالواسع صاحب محض وعدوں پر یقین نہیں رکھتے بلکہ عملی کام کو سیاست کی اصل روح سمجھتے ہیں۔ ان کے دور میں کیے گئے ترقیاتی اقدامات آج بھی عوام کے لیے سہولت، آسائش اور امید کا ذریعہ ہیں۔ یہ وہ خدمات ہیں جن کی مثال دینا آسان، مگر دہرانا مشکل ہے۔

چار دہائیوں سے زائد سیاسی تجربہ رکھنے والے حضرت مولانا عبدالواسع صاحب نے ہر دور میں جمعیت علمائے اسلام کی مؤثر اور باوقار نمائندگی کی۔ صوبائی اسمبلی کی رکنیت ہو، سینیئر ہو، صوبائی وزارت ہو یا وفاقی وزیر کی حیثیت، انہوں نے ہر منصب کو عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ حال ہی میں چھ سال کے لیے سینیٹر منتخب ہونا اس اعتماد کا تسلسل ہے جو عوام اور جماعت دونوں کو ان کی قیادت پر حاصل ہے۔

حضرت مولانا عبدالواسع صاحب کی سیاسی عظمت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ہر فورم پر پارٹی کے آئین و منشور کا جرات، استقامت اور فہم و فراست کے ساتھ دفاع کیا۔ سیاسی، مذہبی، قومی یا بین الاقوامی سطح—انہوں نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ جماعت کے بزرگ، وفادار اور مدبر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں، جن کی موجودگی جمعیت علمائے اسلام کے لیے باعثِ استحکام ہے۔

عوامی خدمت کو زندگی کا مقصد بنانے والے خیراندیش ؤ غریب پرور لیڈر نے اپنی ذات سے بالاتر ہو کر ہمیشہ جماعت کے اجتماعی مفاد کو مقدم رکھا۔ پارٹی قیادت کا ان پر اعتماد اور صوبائی امیر کی حیثیت سے انتخاب دراصل ان کی طویل جدوجہد، قربانیوں اور سیاسی بصیرت کا اعتراف ہے۔ مشکل حالات میں بھی انہوں نے صبر، حکمت اور تدبر کے ساتھ قیادت کی اور جماعت کو بلوچستان میں ایک مضبوط اور مؤثر مقام دلایا۔

یقیناً ایسے رہنما وقت کی گرد میں گم نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے اوراق پر روشن نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ حضرت مولانا عبدالواسع صاحب کی زندگی سیاسی کارکنان کے لیے مشعلِ راہ اور نئی نسل کے لیے عملی مثال ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عافیت اور طویل عمر عطا فرمائے اور ان کا سایہ جمعیت علمائے اسلام اور عوام پر ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *