گل پلازہ کی انتظامیہ


تحریر۔نظام الدین

سانحے گل پلازہ کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ایک پرچی گردش کرتی ہےجس پر5500 روپے مینٹیننس لکھا ہے۔
اورحیرت انگیز طور پرگل پلازہ کے صدر تنویر پاستا اور اس کے حواری آگ لگنے کی وجہ بتانے کے بجائے پرچی کی تردید میں لگ جاتے ہیں کہ”یہ جعلی ہے،
اصل مینٹیننس 1500ہے۔سوال سیدھا ہےجب عمارت میں لاشیں پڑی تھیں تو صدر کا مسئلہ آگ تھا یا اپنی جیب کا دفاع؟یہ وہ لمحہ تھا جب ذمہ دار لوگ حفاظتی ناکامیوں کا اعتراف کرتے مگر یہاں بحث پرچی پر اوردیگر فضولیات پر منتقل کر دی گئی؟1500سب کے لیے برابر تھا؟یا حساب کتاب چھپایا جا رہا تھا؟اگرواقعی مینٹیننس صرف 1500روپے تھی توبڑے شو روم اور چھوٹی دکانیں ایک ہی ریٹ پر؟گودام اور بیسمنٹ بھی 1500پر؟اے سی، بجلی، لفٹ استعمال کرنے والے بھی اسی لسٹ میں؟اور اگر ریٹ مختلف تھے تو صدر صرف ایک پرچی کیوں دکھا رہا تھا؟سچ یہ ہے گل پلازہ کے صدر اور اس کے کرتا دھرتاؤں کا مکمل مالی ریکارڈ آج تک منظرِ عام پر نہیں آیا۔اسٹال، فٹ پاتھ اور خفیہ وصولیاں
گل پلازہ کے اردگرد اسٹال لگتے تھے۔
یہاں بھی انتظامیہ کی وصولی ہوتی تھی سوال یہ ہے روزانہ یہاں سے کتنی رقم بھتہ کی معد میں وصول کی جاتی تھی؟فائر سیفٹی پر کتنی خرچ ہوئی؟ فائر الارم صفر، کیوں؟
ایمرجنسی پلان صفر؟تربیت یافتہ عملہ نا ہونے کے برابر،تو یہ انتظام نہیں بلکہ بھتہ مافیا بنتا ہے۔ بند گیٹوں میں قید لوگ چیخ رہے تھے،جو گل پلازہ کا خطرناک پہلو تھا کیونکہ دو کے سوا تمام گیٹس بند تھے،آگ پھیلنے پر بھی نہ کھولے گئےچابیاں انتظامیہ کے آفس میں تھیں یہ محض لاپرواہی نہیں یہ فیصلہ تھا۔ سوال یہ گیٹ کس کے حکم پر بند رکھے گئے؟ کس نے لوگوں کو اندر قید رکھا؟چابیاں ہوتے ہوئے دروازے کیوں نہ کھلے؟یہاں آگ حادثہ رہتی ہی نہیں،یہ قتل بالسبب بنتا ہے۔ بجلی بند کرنے کا حکم صدر نے دیا کہ کرنت لگنے سے زیادہ نقصان نہ ہو تا تو ایمرجنسی لائٹ کیوں نہیں تھیں ؟مارکیٹ انتظامیہ کا کام صرف رسید دینا نہیں تھا تمام حفاظتی انتظامات اس کی زمہ داری تھی پیسے لیے اور حفاظت نہ دی تو وہ انتظامیہ نہیں، ملزم ہے۔ یہ کہنا کہ”ہم بھی آگ بجھانے گئے تھے”قانون میں بریت نہیں بنتا۔ اتنے بڑے سانحے کے بعد گیٹ بند کرنے والوں کے نام منظر عام کیوں نہیں آئے؟اصل سوال یہ بھی نہیں کہ آگ کیسے لگی؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد انسانوں کو نکلنے کیوں نہ دیا گیا؟ گل پلازہ کی آگ نے شاپس نہیں جلائیں،اس نے نظام کی سچائی جلا کر رکھ دی۔جب پیسے لیے جائیں اور راستے بند رکھے جائیں تو وہ حادثہ نہیں ہوتا وہ انتظامی قتل ہوتا ہے۔اگر آج تنویر اور انتظامیہ سے جواب نہ مانگا گیا تو کل کراچی کے ہر پلازہ کا یہ ہی انجام ہوگا، ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں بلکہ مبینہ طور پر ایک دکان میں بچوں کے کھیلنے کے دوران لگی تو اکثر لوگوں نے یہ سمجھا آگ لگنے کی صورت میں انسان جل کر ہلاک ہوئے ؟مگر سائنسی حقائق بتاتے ہیں گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے 80 فیصد اموات دم گھٹنے سے ہوئیں ہیں، جلنے سے نہیں۔کیونکہ گل پلازہ کے تمام گیٹ اور بجلی بند ہونے سے ایگزٹ یعنی دھواں بلڈنگ سے خارج نہیں ہوسکا اس وجہ سے دھویں نے آکسیجن کو ختم کردیا جس سے کاربن مونو آکسائیڈ جیسی زہریلی گیس پیدا ہوئی جس نے وہاں موجودانسانوں کو چند منٹوں میں بے ہوش کر دیا یہ ہی وجہ ہے جب امدادی ٹیمیں اندر پہنچی تو بہت سے لوگ ظاہری طور پر بالکل ٹھیک نظر آئے لیکن وہ دھوئیں کی وجہ سے جان ہار چکے تھے، دنیا بھر میں جدید ترین عمارتوں کی سیڑھیوں یا لا بیوں میں ایسا خودکار نظام بنایا جاتا ہے جس میں دھواں داخل نہیں ہوتا ان راستوں میں ہوا کا دباؤ باہر کے مقابلے میں زیادہ رکھا جاتا ہے۔ سائنسی اصول ہے کہ ہواہمیشہ”ہائی پریشر”سے”لو پریشر”کی جانب جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ باہر کا دھواں ان سیڑھیوں کے اندر گھس ہی نہیں پاتا، اور وہاں رکھی اشیاءاور
لوگ محفوظ رہ جاتے ہیں۔ کیونکہ
آگ کو بھڑکنے کے لیے تین چیزیں چاہیے ہوتی ہیں
حرارت، ایندھن اور آکسیجن۔ اگر ان میں سے ایک بھی کم ہو جائے تو آگ نہیں لگتی۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم جدید آگ بجھانے کے خودکار نظام پر خرچ کرنے کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر کی قدیم مارکیٹوں میں اربوں کا مال موجود ہے، لیکن وہاں آگ بجھانے والا ایک ڈھنگ کا سلنڈر تک نہیں ہوتا۔سائنس کہتی ہے کہ آگ کو پہلے 2 سے 5 منٹ میں قابو کیا جا سکتا ہے۔ جب بات فائر بریگیڈ تک پہنچ جائے، تو سمجھیں کہ نقصان اب ناگزیر ہے۔ ہم حفاظتی انتظامات میں مجرمانہ غفلت برتتے ہیں اور پھر نقصان ہونے پر اسے “تقدیر” یا “اللہ کی مرضی” کہہ کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔
عمارتوں میں آگ لگنا اللہ کا عذاب نہیں بلکہ ہماری انتظامی غفلت ہے۔ ان سائنسی حقائق کو نظر انداز نہ کریں جو انسانی جانیں بچا سکتے ہیں۔ کچھ لوگ اس آتشزدگی کو تخریب کاری کہتے ہیں، اس آتشگی کی ایف آئی آر نبی بخش تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف سرکار کی مدعیت میں درج کرائی گئی ہے، جو ایک سوالیہ نشان ہے ؟؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *