بنت نذر

تحریر-نظام الدین

میں نے یہ بنت نذر کا عنوان محترمہ شمائلہ سے مستعار لیا ہے اسی نام سے ان کے کالم اخبارات میں شائع ہوتے تھے وہ کراچی کے ایک پسماندہ علاقے لائینز ایریا میں شمائلہ نذر کا نام لےکر پیدا ہوئیں اور لندن میں شمائلہ عمران فاروق کے نام سے منسوب ہوکر لندن کے سرد موسم میں دو بیٹوں کو تنہاں چھوڑ گئیں ،
شمائلہ عمران فاروق نہ صرف ایک سیاسی رہنما کی اہلیہ تھیں بلکہ وہ ایک ایسی خاتون بھی تھیں جنہوں نے شوہر کے المناک قتل کے بعد
تنہائی، بیماری اور کرب کے ساتھ زندگی گزاری۔ وہ لندن کے گائز اسپتال میں اپنے بیٹے کے ساتھ میڈیکل اپوائنٹمنٹ پر آتے ہوئے کمزوری کے باعث گر پڑیں تھیں اسپتال کے عملے نے انہیں وہیل چیئر پر اسپتال پہنچایا جہاں کینسر کے موذی مرض سے خاموشی سے جنگ لڑی اور آخرکار ربِ حقیقی سے جا ملیں۔ یہ خبر صرف ایک انتقال نہیں، بلکہ ایک ادھوری داستان،ایک ٹوٹا ہوا خاندان اور ایک لمبا دکھ اپنے ساتھ لے کر آئی وہ جبڑے کے فور اسٹیچ کینسر کے سبب بول نہیں سکتی تھیں صرف ایک کان سے جزوی طور پر سن سکتی تھیں ،دراصل یہ منہ کے کینسر کی ایک قسم ہے جو جبڑے میں پیدا ہوتا ہے، جس میں گانٹھ، سوجن، چبانے، نگلنے یا بولنے میں دشواری، مسلسل درد یا زخم، اور کان میں درد یا بے حسی جیسی علامات شامل ہوتی ہیں. اس کی علامات میں ہونٹوں، زبان، گال، مسوڑھوں اور تالو کے کینسر جیسی علامات بھی شامل ہو سکتی ہیں، اور اس کی وجہ خلیوں میں ڈی این اے کی تبدیلیاں ہیں جو بے قابو ہو کر ٹیومر بناتی ہیں. وقت سے پہلے اس کی تخصیص زندگی کو بہتر بنانے میں مدد ضرور کرتی ہے، کیونکہ
راقم اپنی شریک حیات کے کینسر میں مبتلا ہونے کے باعث معلومات رکھتا ہے،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *