16 دسمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے
جو صرف یاد نہیں بلکہ احتساب کا تقاضا کرتا ہے۔
اسی دن 1971 میں پاکستان دو لخت ہوا۔
ڈھاکہ کا سانحہ ہماری سیاسی
اور عسکری ناکامیوں کی علامت بن گیا۔
سوال یہ ہے کہ اس سانحے کے بعد
ہم نے بطور ریاست کیا سیکھا؟
کیا قومی فیصلوں میں سنجیدگی آئی؟
یا ہم نے تاریخ کو صرف کتابوں تک محدود رکھا؟
وقت گزرا اور 16 دسمبر نے
2014 میں ایک اور قیامت دکھا دی۔آرمی پبلک اسکول پشاور میںمعصوم بچوں کا خون بہا دیا گیا۔اس سانحے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا۔اعلانات تو بہت ہوئے
مگر اس پر مکمل عمل درآمدآج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔اس کے بعد بھی تعلیمی اداروں میں حادثات اور سکیورٹی خدشات سامنے آتے رہے۔کیا ہم نے ان سانحات سے کوئی سبق سیکھا؟حکومت وقت کی ذمہ داری ہےکہ پالیسیوں کو صرف کاغذ تک محدود نہ رکھے۔ریاست کو بچوں کے تحفظ کواولین ترجیح بنانا ہو