سیاست کے ایوانوں سے انسانیت کی خدمت تک ایک درخشاں سفر۔
بہادر گڑھ کھوسہ گروپ کا انمول ہیرا
( ڈیرہ غازی خان سے تحریر: چوہدری احمد )



سیاست کو عبادت بنانے والا درویش صفت رہنما
کوہِ سلیمان کے پہاڑوں سے میدانی علاقوں تک خدمت کا سفر
پانی، سڑکیں، سیلابی ریلیف — سب کچھ ذاتی وسائل سے
غریب مریضوں کے علاج پر لاکھوں روپے ماہانہ خرچ
طلبہ کے لیے مفت بسیں، میڈیکل تعلیم کے اخراجات برداشت
مزدوروں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا — عاجزی کی مثال
پولو کے قومی ایوارڈ یافتہ کھلاڑی
مساجد، مدارس، لنگرخانے اور بچیوں کی شادیاں — خاموش خدمت
نیکی چھپا کر رکھنے والا رہنما
ڈیرہ غازی خان کی دھرتی نے کئی سیاستدان اور جاگیردار پیدا کیے، مگر کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عہدوں سے زیادہ اپنے کردار، خدمت اور عوامی ہمدردی کے باعث پہچانی جاتی ہیں۔ بہادر گڑھ کے تاریخی کھوسہ ہاؤس سے تعلق رکھنے والے نواب سردار محمد محسن خان کھوسہ انہی درخشاں ناموں میں شامل ہیں، جن کے لیے سیاست اقتدار نہیں بلکہ دکھی انسانیت کی خدمت کا ذریعہ ہے۔
✦ خدمتِ خلق: جب سیاست عبادت بن جائے
سردار محسن خان کھوسہ متعدد بار رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہو کر یہ ثابت کر چکے ہیں کہ حقیقی قیادت وہی ہے جو عوام کے درمیان رہے۔ ان کی کھلی کچہریاں رسمی کارروائی نہیں بلکہ مظلوموں کی داد رسی اور فوری حل کی زندہ مثال ہیں۔
ان کی سیاست کا محور ذاتی مفاد نہیں بلکہ انسانی وقار اور عوامی سہولت ہے۔
✦ کوہِ سلیمان کا خاموش مسیحا
کوہِ سلیمان کے سنگلاخ پہاڑ ہوں یا ڈیرہ غازی خان کے دور افتادہ دیہات — سردار محسن خان کھوسہ کی سخاوت ہر جگہ بولتی ہے۔
پانی کی فراہمی:
برسوں سے اپنے ذاتی واٹر ٹینکروں کے ذریعے مفت پانی پہنچانا ان کا مستقل مشن ہے۔
راستوں کی تعمیر:
جہاں سرکاری مشینری نہ پہنچ سکی، وہاں انہوں نے کروڑوں روپے ذاتی خرچ سے سڑکیں اور راستے بنوا کر لوگوں کی زندگی بدل دی۔
سیلابی ریلیف:
قدرتی آفات میں وہ محض بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ نہروں کی صفائی، نکاسیٔ آب، مشینری کی فراہمی اور متاثرین کے لیے پکے مکانات کی تعمیر میں عملی کردار ادا کیا۔
✦ صحت اور تعلیم: خاموش انقلاب
سردار محسن خان کھوسہ کے تعاون سے وسیب کے سینکڑوں مریض مہنگے علاج سے مستفید ہو چکے ہیں۔ دل کے آپریشن ہوں یا کینسر جیسے مہلک امراض — بڑے اسپتالوں تک رسائی، ادویات اور ڈاکٹروں کے اخراجات وہ باقاعدگی سے برداشت کرتے ہیں۔
ہر ماہ لاکھوں روپے کے بل غریب مریضوں کی مد میں ادا کیے جاتے ہیں جبکہ کئی خاندانوں کے چولہے انہی کی سخاوت سے جل رہے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں بھی ان کی خدمات مثالی ہیں۔ لاہور اور ملتان میں زیرِ تعلیم درجنوں طلبہ کے میڈیکل اخراجات وہ خاموشی سے اٹھا رہے ہیں۔
شاہ صدر دین اور سیمنٹ فیکٹری ایریا سے ڈی جی خان شہر تک صرف طلبہ کے لیے چلنے والی ان کی دو ذاتی بسیں ہزاروں بچوں کے تعلیمی سفر کو آسان بنا رہی ہیں۔ ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز ان کے دور اندیش وژن کا مظہر ہیں۔
✦ عاجزی اور سادگی: نواب مگر درویش
نوابی پس منظر کے باوجود سردار محسن خان کھوسہ کی زندگی سادگی کی تصویر ہے۔ وہ مزدوروں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں، برتن خود دھوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر پتھر توڑنے اور ویلڈنگ جیسے کاموں سے بھی نہیں گھبراتے۔
یہی عاجزی انہیں عوام کے دلوں کا حکمران بناتی ہے۔
✦ کھیل اور صحت: پولو کے شہسوار
سماجی خدمت کے ساتھ ساتھ وہ کھیلوں کے میدان میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ پولو کے بہترین کھلاڑی کے طور پر کئی قومی ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔ ہائیکنگ، تیراکی اور گھڑ سواری ان کی فٹنس کا راز ہیں جو نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
✦ مذہبی و سماجی خدمات
درجنوں مساجد، مدارس اور اسکولوں میں سولر سسٹمز
مدارس ،مساجد کے مدرسین کی ماہانہ تنخواہوں کا انتظام
بہادر گڑھ اور زندہ پیر میں روزانہ لنگرخانے
سینکڑوں مستحق بچیوں کی شادیاں مکمل رازداری سے
خلاصۂ کلام
سردار محمد محسن خان کھوسہ ایک ایسا تناور درخت ہیں جس کا سایہ ہر اس شخص کو ملتا ہے جو حالات کی دھوپ میں جھلس رہا ہو۔ وہ خاموشی سے جلنے والی وہ شمع ہیں جو معاشرے کے اندھیروں کو روشن کر رہی ہے۔
سب سے بڑی بات یہ کہ انہوں نے کبھی اپنی نیکیوں کی تشہیر نہیں کی بلکہ اپنے عزیزوں، ملازمین اور علاقہ مکینوں کو ہمیشہ یہی کہتے ہیں:
“میرا ذکر نہ کرو — بس انسانیت کی خدمت ہوتی رہنی چاہیے۔”
سردار محمد محسن خان کھوسہ — ایک نام، ہزاروں زندگیاں اور بے شمار دعائیں!