عنوان؛ شبِ برات کی فضیلت اور شریعت کی حدود

تحریر؛ نعمان احمد دہلوی
شبِ برات، یعنی شعبان المعظم کی پندرہویں رات، امتِ مسلمہ میں ایک مقدس اور بابرکت رات کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اسے “لیلۃ البراءۃ” یعنی راتِ بریت اور نجات بھی کہا جاتا ہے۔ علماءِ اکرام اور اکابرین اس رات کی فضیلت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں تسلیم کرتے ہیں، مگر وہ اسے بدعت اور رسومات سے پاک رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ رات اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور مغفرت کی رات ہے، لیکن اس کی فضیلت انفرادی عبادت سے حاصل کی جائے، اجتماعی تقریبات یا رسومِ بدعت سے نہیں۔
قرآنِ مجید میں شبِ برات کا کوئی خاص ذکر نہیں ہے، جیسا کہ شبِ قدر کا واضح بیان ہے (سورۃ القدر)۔ تاہم، قرآن پاک میں راتوں کی عبادت، استغفار اور توبہ کی ترغیب عام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔:
“وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا” (الفرقان: 64)
یعنی وہ لوگ جو اپنے رب کے لیے سجدہ اور قیام کرتے ہوئے رات گزارتے ہیں۔
اسی طرح توبہ اور مغفرت کی آیات متعدد ہیں، جیسے:
“قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا” (الزمر: 53)
یہ آیات ہر وقت توبہ کی دعوت دیتی ہیں، اور شبِ برات جیسی راتوں میں ان کی تلاوت اور عمل زیادہ بابرکت ہوتا ہے۔
حدیثِ نبوی ﷺ میں شبِ برات کی فضیلت متعدد روایات سے ثابت ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نازل ہوتا ہے اور اپنی مخلوق کو بخشتا ہے، سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔”
(مسند احمد، ابن حبان، بیہقی شعب الایمان)
یہ روایت متعدد طریقوں سے آئی ہے، اور محدثین نے اسے مجموعی طور پر حسن اور قابلِ استدلال قرار دیا ہے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات کو اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور مومنوں کو بخشتا ہے، اور کافروں اور مشرکوں کو چھوڑ دیتا ہے۔”
(طبرانی، ابن حبان)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“پانچ راتوں میں دعا رد نہیں ہوتی: جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، نصف شعبان کی رات، عیدین کی رات اور عرفہ کی رات۔”
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے شعبان کے متعلق فرمایا:
“یہ وہ مہینہ ہے جس میں اعمال اللہ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، پس میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزہ کی حالت میں ہوں۔”
(نسائی)
دارالعلوم کے فتاویٰ اور مضامین میں واضح کیا گیا ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہوتی ہے، رزق اور عمریں لکھی جاتی ہیں، اور گناہگاروں کو معافی ملتی ہے۔ تاہم، وہ تاکید کرتے ہیں کہ یہ فضیلت انفرادی طور پر حاصل کی جائے۔ اجتماعی طور پر مساجد میں خاص اجتماع، چراغانی، مٹھائیاں تقسیم کرنا، آتش بازی یا دیگر رسوم بدعت ہیں اور ان سے اجتناب لازم ہے۔
عمل کی تجاویز علماءِاکرام کے نزدیک یہ ہیں:
رات کو قدرِ استطاعت جاگ کر نفل نماز، قرآن کی تلاوت، استغفار، درود شریف اور دعائیں کریں۔
15 شعبان کا روزہ رکھیں (ایامِ بیض کے روزوں میں شمار ہوتا ہے)۔
قبرستان جا کر مردوں کے لیے ایصالِ ثواب کریں، جیسا کہ نبی ﷺ نے ایک بار جنت البقیع میں دعا فرمائی۔
خاندان کے ساتھ گھر میں سکون سے عبادت کریں، شور شرابے اور فضول خرچی سے بچیں۔
کہ “شبِ برات اللہ کی رحمت کی دعوت ہے، اسے ضائع نہ کریں، مگر شریعت کی حدود میں رہیں۔”
آج کے دور میں جب رسومات نے اصل کو ڈھانپ لیا ہے، علماءِ اکرام کی یہ تعلیم کہ انفرادی توجہ اور اخلاص سے اللہ کی مغفرت طلب کی جائے، بہت اہم ہے۔ یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی رحمت وسیع ہے، اور توبہ کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس بابرکت رات کی قدر کرنے اور اس کی برکات سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *