عوام بنام منتخب نمائندے

کوٹلی ستیاں کے عوام آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں،اور یہ محرومی صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کی غلطی ہے۔ تحصیل میں منتخب عوامی نمائندے کا باقاعدہ پبلک آفس نہ ہونا،عوام اور نمائندے کے درمیان ایک بڑی دیوار بن چکا ہے ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث کرپشن کی شکایات کھلے عام زبان زدِ عام ہیں۔گیس جیسے بنیادی منصوبے صرف وعدوں تک محدود ہیں،عملی اقدامات کا کہیں نام و نشان نظر نہیں آتا۔کوٹلی ستیاں، جو ضلع مری کی ایک تحصیل ہے،اس کے باوجود موٹروے ٹول پلازے پر ٹول ٹیکس کی وصولی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے، مگر عوامی نمائندوں کی جانب سے کوئی مؤثر آواز بلند نہیں ہوتی۔گاؤں درنوئیاں میں قائم پرائمری گرلز سکول دیر گراں جنوبی جہاں سرکاری اساتذہ نے آنے سے انکار کر دیا، تالے لگے سکول اور سسکتے بچے
ایک بڑے سوالیہ نشان کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
یہ ایک پسماندہ تحصیل ہے
جہاں آج بھی موبائل سروس ناقص، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور سرکاری ٹھیکہ جات چند اہلکاروں کے لیے کمائی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ
کوٹلی ستیاں کے عوام آخر کب تک انتظار کریں گے؟
کیا ان کا حق صرف وعدے ہی رہیں گے یا کبھی عملی اقدامات بھی دیکھنے کو ملیں گے؟اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور منتخب نمائندےکوٹلی ستیاں کو بھی پاکستان کے نقشے پر
ترقی یافتہ تحصیل کے طور پر دیکھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *