پولیس کا نظام سوالیہ نشان ؟

تحریر۔نظام الدین

یکم دسمبر 2025 کو سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ، اے ائی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو، ڈی آئی جی ویسٹ اور ڈی آئی جی سی آئی اے کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ اسمگل شدہ منشیات کا ایک بڑا زخیرہ پکڑ کر سرکاری
مال خانے میں جمع کردیا گیاہے، مگر دوسرے دن اس منشیات کا بڑا حصہ سرکاری مال خانے سے غائب ہونے کی اطلاع کے بعد ڈی ایس پی سی ائی اے محمد واصف قریشی سب انسپیکٹر اعجاز بٹ اور دیگر پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کی”خبر “شاید بہت ممکن ہے خفیہ اداروں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہو؟کہتے ہیں مجرم کتنا ہوشیار کیونہ ہو وہ کہیں نہ کہیں جرم کا سراغ ضرور چھوڑ دیتا ہے 5 کلو مٹھائی بینک میں کون جمع کراتا ہے ؟
خفیہ اداروں نے “شاید؟ ممکن ہے اس کوڈ میسج کو ڈی کوڈ کیا ہو کیونکہ طویل عرصے سے کراچی کے کچھ پولیس افسران اور منشیات فروشوں کے درمیان موبائل فون پر کچھ عجیب و غریب گفتگو گردشِ کررہی تھی اور ممکن ہے خفیہ اداروں نے ان گفتگو کو سمجھ لیا ہو مثال کے طور پر”سفیدا “یعنی ایک نشہ”کرسٹل
“کافی,افیون اور چرس کے کوڈ,”سامان “منشیات کی”کھیپ, “کپڑا لفظ ہیروئن کے پیکٹوں کے لیے استعمال ہوتا تھا ، “بڑے بھائی اور “انکل پولیس افسران کے لیے استعمال ہونے والا کوڈ تھا “ڈاکٹر صاحب چھوٹے پولیس اہلکار کے لیے استعمال ہوتا تھا “موسم خراب ہے کا مطلب چھاپہ مارنے والی ٹیم یعنی خفیہ ایجنسی متحرک ہے مال ابھی نہ نکالو ، “بارش کا مطلب اوپر انکوائری شروع ہوگئی ہے پیسوں کے لین دین کے لیے انتہائی دلچسپ کوڈز تھے
“پانچ کلو مٹھائی” اس کا مطلب 5 کروڑ روپے تھا۔1کلو مٹھائی ایک کروڑ روپے “کاغذات نوٹوں کے بنڈلز کے لیے
“پرساد رشوت میں دیے جانے والے حصے کو کہا جاتا
“باراتیوں کی گاڑی” وہ گاڑی جس میں منشیات ہوتی تھی اور جسے پولیس پروٹیکشن حاصل ہوتی تھی”گرین سگنل” راستہ صاف ہونے کی اطلاع۔ خفیہ ایجنسی ،
نے ان کوڈز میسج کو ڈی کوڈ کیاتو معلوم ہوا “5 کلو مٹھائی بینک میں جمع کروا دی” ماہرین نے سمجھ لیا کہ کوئی بھی شخص 5 کلو مٹھائی بینک میں جمع نہیں کرواتا، یہ رقم کا کوڈ ہے۔گرفتار بیٹر نے دورانِ تفتیش ان تمام کوڈ ورڈز کا مطلب اگل دیا اور تصدیق کی کہ کون سا لفظ کس مقصد کے لیے تھا۔
یہ کوڈ ورڈز اب چارج شیٹ کا حصہ ہیں تاکہ عدالت کو بتایا جا سکے کہ ملزمان کتنی مہارت اور چالاکی سے جرائم کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
اس نیٹ ورک کا سب سے خفیہ حصہ جہاں سے منشیات کی تقسیم اور رشوت کی رقم کا انتظام ہوتا تھا خفیہ اداروں نے ان مقامات پر چھاپے مار کر اہم شواہد اکٹھے کیے ہیں
کوڈ “چھوٹا بنگلہ”
خیابانِ سحر، ڈی ایچ اے فیز 6 میں واقع ایک کرائے کا بنگلہ یہ ایک ڈی ایس پی کا نجی دفتر تھا۔ یہاں زیادہ تر “مٹھائی (رقم) کی گنتی ہوتی تھی اور بڑے منشیات فروشوں کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کی جاتی تھیں۔ یہاں سے خالی بیگ اور کچھ ایسی دستاویزات ملی جن میں حاجی سلام کے نیٹ ورک کی تفصیلات درج تھیں۔ “ورکشاپ” سہراب گوٹھ کے قریب ایک ٹرانسپورٹ یارڈ کے اندر بنا ہوا دفتر۔ یہ داد شاہ کے زیرِ انتظام تھا، لیکن اسے “ورکشاپ کہا جاتا تھا۔ یہاں وہ گاڑیاں لائی جاتی تھیں جن کے خفیہ خانوں میں منشیات چھپائی جاتی تھی۔”ڈاکٹر” یعنی چھوتے رینک کے پولیس کی ٹیم اکثر یہاں آ کر مال کا معائنہ کرتی تھی اور اسے “کلیئرنس دیتی تھی”کچن” کا کوڈ بلاک 13،گلستانِ جوہر میں ایک فلیٹ اسے “کچن” اس لیے کہا جاتا تھا کیونکہ یہاں منشیات کی پیکنگ بدلی جاتی تھی اور اسے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔
چھاپے کے دوران یہاں سے ڈیجیٹل ترازو اور پیکنگ مٹیریل ملا جس پر کچھ پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں کے نشانات لگے ہوئے تھے۔
“بارڈر پوسٹ”
کراچی اور حب کے سرحدی علاقے میں ایک چھوٹا پولٹری فارم۔یہ وہ جگہ تھی جہاں بلوچستان سے آنے والا مال سب سے پہلے اتارا جاتا تھا۔ اسے “بارڈر پوسٹ” کہا جاتا تھا کیونکہ یہاں سے آگے کراچی شہر میں مال پہنچانے کی ذمہ داری ڈی ایس پی رینگ کے آفسر کی ہوتی تھی۔ان سیف ہاؤسز کی سیکیورٹی
ان مقامات کی حفاظت کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے گھروں کے باہر لگے تھے جن کا رخ اکثر گلی کی طرف ہوتا تھا لیکن ان کا ڈیٹا باقاعدگی سے مٹا دیا جاتا تھا۔ان سیف ہاؤسز کے باہر وردی والے پولیس اہلکاروں کے بجائے سادہ لباس میں مسلح “بیٹرز” پہرہ دیتے تھے تاکہ شک نہ ہو۔ خفیہ اداروں نے ان تمام چاروں مقامات کو سیل کر دیا اور ان کے مالکان کو شاملِ تفتیش کر لیا ان گھروں کے کرایہ نامے بھی پولیس افسران کے فرنٹ مینوں کے نام پر نکلے ہیں، جو ان کے خلاف عدالت میں ایک ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔
خفیہ اداروں کی حالیہ تلاشی کے دوران ان افسران کے زیرِ استعمال خفیہ بینک لاکرز سے جو برآمدگی ہوئی ہے، اس نے تفتیش کا رخ مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ یہ لاکرز محض بچت کے لیے نہیں بلکہ منشیات کی کالی کمائی کو چھپانے کے لیے “منی والٹس” کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔
یہ لاکرز کراچی کے دو بڑے نجی بینکوں کی برانچز میں موجود تھےڈی ایچ اے فیز 4 برانچ یہ لاکر ڈی ایس پی رینگ کے ایک قریبی عزیز کے نام پر تھا۔ بہادرآباد برانچ یہ لاکر ایک سب انسپکٹر کے فرنٹ مین “کاشف” کے نام پر رجسٹرڈ تھا۔
جب عدالتی حکم پر ان لاکرز کو کھولا گیا تو درج ذیل اشیاء 120 تولے سے زائد سونا بسکٹ اور زیورات کی شکل میں برآمد ہوا۔ جس کی مالیت کروڑوں میں ہے۔
غیر ملکی کرنسی 50,000 امریکی ڈالر نقد۔30,000 سعودی ریا اور کچھ درہم۔
پراپرٹی کے کاغذات کراچی کے ڈی ایچ اے سٹی اور بحریہ ٹاؤن میں موجود 5 پلاٹوں کی اصل فائلیں اور ٹرانسفر لیٹرز۔
تفتیش میں پتا چلا کہ ملزمان اپنی گفتگو میں ان لاکرز کو بڑی “الماری کہتے تھے۔ جب بھی کوئی بڑی ڈیل ہوتی، تو نقد رقم کو سونے یا ڈالر میں تبدیل کر کے اس “الماری میں منتقل کر دیا جاتا تھا تاکہ افراطِ زر یا روپے کی قدر گرنے سے ان کی کالی کمائی پر اثر نہ پڑے۔
خفیہ ایجنسی اس بات پر حیران ہے کہ ایک پولیس افسر کے فرنٹ مین، جس کی اپنی کوئی بڑی آمدن نہیں تھی، اسے اتنے بڑے لاکرز کیسے الاٹ کیے گئے اور ان میں اتنی بڑی مقدار میں سونا اور کرنسی لانے پر بینک کے سیکیورٹی سسٹم نے کیوں الرٹ نہیں کیا۔ان برانچز کے “لاکر انچارجز” کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا گیا ہے تاکہ یہ پتا چلایا جا سکے کہ افسران کتنی بار اور کن اوقات میں ان لاکرز کو آپریٹ کرتے تھے۔ یہ تمام سونا، کرنسی اور پلاٹوں کی فائلیں ریاست نے اپنے قبضے میں لے لی تاکہ ان شواہد کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کا الگ سے ریفرنس تیار کیا جاسکے ۔ لاکر سے ایک ایسی خفیہ ڈائری بھی ملی ہے جس میں کراچی کے دیگر 10 پولیس افسران کے نام اور ان کے”حصوں” کی تفصیل لکھی ہوئی ہے۔ اس خفیہ ڈائری نے کراچی پولیس کے اندر موجود “کرپشن کے نیٹ ورک” کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ڈائری میں درج نام مختلف علاقوں کے
“بااثر سیاست دانوں کے ہیں جو منشیات کی ترسیل میں سہولت کاری فراہم کرتے تھے۔ ڈائری میں موجود”حصے دار افسران کے نام
ڈائری میں براہِ راست ناموں کے بجائے عہدوں اور علاقوں کے مخفف استعمال کیے گئے تھے، جنہیں تفتیش کاروں نے ڈی کوڈ کر لیا ہے:
ملیر کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار کا نام سامنے آیا ہے جو بلوچستان سے آنے والی گاڑیوں کو “پروٹیکشن فراہم کرنے کے عوض بھاری ماہانہ وصول کرتا تھا سہراب گوٹھ اور سپر ہائی وے کے بیلٹ پر تعینات ایک ڈی ایس پی کا نام درج ہے، جسے ڈائری میں “گراؤنڈ ماسٹر” لکھا گیا ہے۔ اس کا کام منشیات کے ٹرکوں کو شہر میں داخل کروانا تھا۔” لیاری کے ایک طاقتور ایس ایچ او کا ذکر ہے جسے “مقامی ڈسٹری بیوشن”
کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ڈائری کے ایک مخصوص صفحے پر ان افراد کے نام درج ہیں جو روزانہ اور ہفتہ وار بنیادوں پر اڈوں سے منشیات بھیجنے کی اجازت وصول کرتے تھے ایک سابق پولیس اہلکار جو نجی طور پر ان افسران کے لیے ‘کولیکشن’کرتا تھا اسے ساحلی پٹی سے ہونے والی اسمگلنگ کی نگرانی کا کام سونپا گیا تھا۔ منشی یہ شخص تمام “آمد و خرچ” کا حساب رکھتا تھا اور اسے ہی اس ڈائری کا خالق سمجھا جاتا ہے ڈائری میں “مٹھائی” (رقم) کی تقسیم کا ایک فارمولا لکھا ہوا تھا:
40% “بڑے صاحب” سیاسی سرپرستوں کے لیے۔30%آپریشنل ٹیم کے لئے 20% مقامی تھانوں اور ناکوں کے عملے کو خاموش رکھنے کے لیے
10% متفرق اخراجات قانونی فیس اور میڈیا مینجمنٹ کے لیے۔
ڈائری کے آخری صفحات پر کچھ خطرناک نوٹ لکھے ہوئے تھے، جیسے
اگر اے این ایف یا رینجرز متحرک ہو تو مال’ورکشاپ سیف ہاؤس سے باہر نہ نکلے۔”میڈیا کے مخصوص لڑکوں کو ماہانہ رقم وقت پر پہنچا دی جائے تاکہ وہ پرفارمنس جعلی کارروائیوں کو ہائی لائٹ کرتے رہیں۔ڈائری میں7 پولیس افسران کے جو نام سامنے آئے ان پولیس افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر کے انٹیلی جنس بیورو کے حوالے کر دیا گیاان تمام افسران کے گزشتہ 3 سال کے اثاثوں کی ازسرِ نو جانچ شروع کر دی گئی ڈائری کو ایک “میٹریل ایویڈنس” ٹھوس ثبوت کے طور پر عدالت میں جمع کروادیا گیا ہے
اس کیس کے سلسلے میں محکمہ ایکسائیز اور نارکوٹکس کے ایک سینیئر افسر سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا ان منشیات کا بڑا حصہ ڈیفینس، کلفٹن یا دوسرے پوش علاقوں کے پرائیویٹ کالج اور اسکولوں میں استعمال ہونے کی شکایات آئیں ہیں جبکہ
بیرونی ملک فروخت ہونے والی منشیات کی رقم پاکستان لانے کے بجائے وہیں جائیدادوں کی شکل میں منتقل کردی جاتی ہے ،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *