خاموشی بطور حکمتِ عملی؟ انڈس واٹرز ٹریٹی، PCA کے احکامات اور بھارت کی مسلسل عدم تعمیل

انڈس واٹرز ٹریٹی (IWT) محض پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک معاہدہ نہیں، بلکہ یہ بین الاقوامی قانون، معاہداتی وفاداری اور تنازعات کے پرامن حل کی ایک مضبوط مثال سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ پیش رفت نے اس معاہدے کی روح، سالمیت اور بھارت کے طرزِ عمل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مستقل ثالثی عدالت (Permanent Court of Arbitration – PCA) کی جانب سے 29 جنوری 2026 کو جاری کیا گیا پروسیجرل آرڈر نمبر 19 اس سلسلے میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے نہ صرف اپنے دائرہ اختیار کی واضح تصدیق کی بلکہ بھارت کو بگلیہار اور کشینگنہ ہائیڈرو پاور منصوبوں سے متعلق اہم عملی ڈیٹا فراہم کرنے کا پابند بھی بنایا۔

اس عدالتی حکم کے مطابق بھارت کو 9 فروری 2026 تک پانی کے ذخائر، آپریشنل لاگ بکس اور تکنیکی تجزیات پر مشتمل معلومات فراہم کرنا تھیں۔ یہ ڈیٹا اس لیے ناگزیر تھا کہ ان منصوبوں کی انڈس واٹرز ٹریٹی سے مطابقت یا عدم مطابقت کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ مگر طے شدہ ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود بھارت نے نہ کوئی جواب جمع کرایا، نہ ہی مطلوبہ معلومات فراہم کیں۔ یہ طرزِ عمل محض ثالثی کارروائی سے عدم شمولیت نہیں بلکہ طریقہ کار کی حسنِ نیت (good faith) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

پروسیجرل آرڈر نمبر 19 کی سب سے اہم قانونی جہت یہ ہے کہ PCA نے واضح طور پر کہا کہ انڈس واٹرز ٹریٹی کے تحت قائم تنازعہ حل کا طریقہ کار فریقِ مخالف کی غیر موجودگی یا عدم تعاون کے باوجود مکمل طور پر فعال رہتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، کوئی بھی ریاست یک طرفہ طور پر غیر حاضر ہو کر یا خاموشی اختیار کر کے معاہداتی ذمہ داریوں کو معطل نہیں کر سکتی۔ یہ اصول بین الاقوامی قانون کے معروف ضابطے pacta sunt servanda کی عملی تعبیر ہے، جس کے تحت معاہدات کی پابندی لازم ہوتی ہے۔

بھارت کی خاموشی کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ عدالت نے ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری مکمل طور پر بھارت پر عائد کی، کیونکہ بگلیہار اور کشینگنہ منصوبوں کا عملی ڈیٹا صرف اسی کے قبضے میں ہے۔ ایسے حالات میں معلومات فراہم نہ کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت منفی قانونی نتائج (adverse inferences) کی راہ ہموار کرتا ہے۔ یعنی عدالت یہ نتیجہ اخذ کر سکتی ہے کہ اگر ڈیٹا پیش کیا جاتا تو وہ بھارت کے مؤقف کے حق میں نہ ہوتا۔ اس صورتحال میں پاکستان کا ثبوتی اور قانونی مؤقف مزید مضبوط ہوتا ہے، جبکہ بھارت کے تکنیکی یا قانونی جواز کی ساکھ کمزور پڑتی ہے۔

یہ خاموشی کوئی واحد واقعہ نہیں۔ اکتوبر 2025 میں اقوام متحدہ کے اسپیشل رپورٹرز نے انسانی حقوق اور ریاستی ذمہ داریوں سے متعلق بھارت سے سوالات اٹھائے اور 16 دسمبر 2025 تک جواب طلب کیا۔ آج اس ڈیڈ لائن کو گزرے 55 دن ہو چکے ہیں، مگر نئی دہلی کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔ چاہے معاملہ ثالثی عدالت کا ہو یا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے میکانزم کا، بھارت کا رویہ ایک واضح اور مستقل پیٹرن کی نشاندہی کرتا ہے: بین الاقوامی نگرانی اور جوابدہی سے گریز۔

اگر اس طرزِ عمل کو اگست 2025 کے کورٹ آف آربیٹریشن کے ایوارڈ اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کے تناظر میں دیکھا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ یہ تمام دستاویزات انڈس واٹرز ٹریٹی کی بنیاد پر تشریح، شفافیت اور ادارہ جاتی شمولیت پر زور دیتی ہیں، جبکہ بھارت کا ردِعمل سیاسی مظاہرے اور خاموشی تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ عدم شمولیت کو خود مختاری کے اظہار کے طور پر پیش کرنا ایک وقتی بیانیہ تو ہو سکتا ہے، مگر اس کے طویل المدتی نتائج کہیں زیادہ سنگین ہیں۔

بین الاقوامی قانون میں خاموشی طاقت کی علامت نہیں سمجھی جاتی، بلکہ اکثر اسے انتخابی رویہ سمجھا جاتا ہے جو منفی نتائج کو دعوت دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ریاست کی قانونی ساکھ متاثر ہوتی ہے، عالمی فورمز پر اعتماد کمزور پڑتا ہے اور ثالثی و کثیر فریقی اداروں میں سخت نگرانی بڑھ جاتی ہے۔ بھارت کے لیے بھی یہی خطرات اب واضح ہوتے جا رہے ہیں۔

اس کے برعکس، پاکستان کا کردار ایک تعمیل پسند معاہدہ کار (compliant treaty party) کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جو ثالثی کارروائیوں میں فائلنگ کے ساتھ حاضر ہے اور قانونی راستے اختیار کر رہا ہے۔ PCA کے احکامات اور بھارت کی غیر شمولیت مل کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ انڈس واٹرز ٹریٹی کی پائیداری طاقت، شور یا سیاسی نعروں پر نہیں بلکہ قانون، شفافیت اور ادارہ جاتی شمولیت پر منحصر ہے۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ بھارت خاموش کیوں ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس خاموشی کی قیمت کیا ہو گی۔ بین الاقوامی قانون کی تاریخ گواہ ہے کہ معاہدات کو “ایئرپلین موڈ” پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ ڈیڈ لائنز، احکامات اور سوالات کو نظر انداز کرنا وقتی طور پر ممکن ہو سکتا ہے، مگر ریکارڈ آخرکار خود لکھا جاتا ہے—اور وہ ریکارڈ خاموشی کو دلیل نہیں بلکہ کمزوری کے طور پر محفوظ کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *