تحریر: نعمان احمد دہلوی
اللہ تبارک و تعالیٰ سے محبت کا ایک خوبصورت اظہار یہ ہے کہ بندہ اپنے فرائض اور واجبات کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی اہتمام کرے۔ نوافل وہ اضافی عبادتیں ہیں جو فرض نہیں ہیں، لیکن ان کے ذریعے بندہ اللہ کے قریب ہوتا ہے اور اس کی رضا حاصل کرتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں نوافل کی بہت سی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں، خاص طور پر تہجد، تسبیحات، تلاوت قرآن اور دیگر نوافل۔ یہ عبادتیں نہ صرف گناہوں کی معافی کا سبب بنتی ہیں بلکہ بندے کی روحانی ترقی اور سکون قلب کا ذریعہ بھی ہیں۔ آج کل سردیوں کی لمبی راتیں اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہیں کہ ہم تہجد کو اپنی زندگی کا معمول بنا سکیں اور رو رو کر اللہ سے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی دعائیں مانگیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ” (سورۃ البقرہ: 158) یعنی جو شخص اضافی نیکی کرے تو اللہ اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے جاننے والا ہے۔ یہ آیت نوافل کی اہمیت کو واضح کرتی ہے کہ وہ اللہ کی شکر گزاری اور علم کی علامت ہیں۔ احادیث میں بھی نوافل کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے دوست بنا لیتا ہوں۔” (صحیح بخاری)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نوافل اللہ کی محبت اور دوستی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
نوافل فرائض میں کمیوں کو پورا کرتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اگر فرائض میں کمی ہو تو نوافل سے اسے پورا کیا جائے گا۔ (سنن ترمذی) قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: “وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا” (سورۃ الإسراء: 79) یعنی رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھو، یہ تمہارے لیے اضافی ہے، امید ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے گا۔ یہ آیت تہجد کی فضیلت کو بیان کرتی ہے کہ یہ مقام کی بلندی کا سبب ہے۔ احادیث میں بھی تہجد کی بہت تعریف کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے۔” (صحیح مسلم)۔ تہجد کے وقت اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں: “کوئی ہے جو مجھ سے مانگے تو دوں، کوئی ہے جو مجھے پکارے تو جواب دوں۔” (صحیح بخاری)۔ یہ وقت دعاؤں کی قبولیت کا ہے، جہاں بندہ رو رو کر اللہ سے اپنی زندگی کی بہتری مانگ سکتا ہے۔ تہجد گناہوں کی معافی، روحانی سکون اور اللہ کی قربت کا ذریعہ ہے۔
تسبیحات بھی نوافل کا اہم حصہ ہیں۔ تسبیحات یعنی سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر کہنا۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: “فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا” (سورۃ النصر: 3) یعنی اپنے رب کی تسبیح اور حمد کرو اور استغفار کرو۔ احادیث میں ہے کہ تسبیحات کے ذریعے درخت لگائے جاتے ہیں جنت میں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے سے جنت میں درخت لگتے ہیں۔” (مسند احمد)۔ تسبیحات تہجد میں شامل کرنے سے عبادت کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔
تلاوت قرآن نوافل کی روح ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا: “وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا” (سورۃ المزمل: 4) یعنی قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ تہجد میں تلاوت کی فضیلت یہ ہے کہ یہ دل کی صفائی اور تفکر کا سبب بنتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ رات کی تلاوت قریب تر ہوتی ہے غور و فکر کی طرف۔ تلاوت کے ایک حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ (سنن ترمذی)۔
دیگر نوافل جیسے اشراق، چاشت اور اوابین بھی اہم ہیں۔ اشراق کی نماز سورج نکلنے کے بعد پڑھی جاتی ہے اور اس کی فضیلت حج و عمرہ کے برابر ہے۔ (سنن ترمذی)۔ چاشت کی نماز دوپہر میں پڑھی جاتی ہے اور اس سے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ یہ سب نوافل بندے کو اللہ کی محبت میں ڈوبنے کا موقع دیتے ہیں۔
نوافل کو زندگی کا حصہ بنانا چاہیے، خاص طور پر تہجد کو۔ سردیوں کی لمبی راتیں اس کے لیے بہترین ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں نوافل ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے، آمین۔
اللہ سے دوستی کا راز