ہم ایک عجیب تضاد کے ساتھ زندہ قوم ہیں۔ زبان جس کی آئینِ پاکستان میں ضمانت دی گئی، جسے “قومی زبان” کا درجہ دے کر ریاستی، تعلیمی اور انتظامی نظام کی بنیاد بنانا تھا، وہی اردو آج اپنے ہی گھر میں بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ یہ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر اسے تسلیم کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں اب بھی کسی شخص کی تعلیم، ذہانت یا باشعوری کا معیار اس کی مادری یا قومی زبان نہیں بلکہ انگریزی بولنے کی صلاحیت سمجھی جاتی ہے۔معاشرے میں یہ رویہ اس قدر گہرا ہو چکا ہے کہ ایک عام فہم اور باادب انسان بھی صرف اس بنا پر کمتر سمجھا جاتا ہے کہ وہ انگریزی روانی سے نہیں بول پاتا۔ اداروں میں، دفاتر میں، انٹرویوز میں، حتیٰ کہ روزمرہ کے تعلقات میں بھی زبان کو شخصیت کا پیمانہ بنا دیا گیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اچھائی، برائی، شعور، کردار اور صلاحیت کا زبان جاننے یا نہ جاننے سے کوئی تعلق نہیں۔ کردار کا تعین اخلاق کرتا ہے، ذہانت کا تعین سوچ کرتی ہے، اور قابلیت کا تعلق محنت سے ہوتا ہے — زبان صرف اظہار کا ذریعہ ہے، انسان کا معیار نہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک پر نظر ڈالیں تو وہاں قومی زبان ہی شناخت بھی ہوتی ہے اور عزت کا معیار بھی۔ چین، جاپان، فرانس، جرمنی، ترکی — کسی ایک ملک کی مثال پیش کر دیں جہاں انگریزی نہ جاننے والے کو کمتر سمجھا جاتا ہو۔ ان قوموں نے ترقی اس لیے کی کہ انہوں نے اپنی زبان کو علم، ٹیکنالوجی اور ریاستی نظام کی بنیاد بنایا۔ زبان کو سہارا دیا تو زبان نے قوم کو آگے بڑھایا۔
مگر ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اردو کو محض تقریروں، اخبارات اور چند مخصوص تقریبات تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ریاست ہو یا نظامِ تعلیم — دونوں نے عملی سطح پر اردو کو اُس مقام تک کبھی نہیں پہنچایا جس کا وعدہ آئین نے کیا تھا۔ سرکاری دفتری کارروائی اب بھی بڑی حد تک انگریزی میں ہے، اعلیٰ تعلیم کے دروازے انگریزی کے بغیر نہیں کھلتے، اور نجی اداروں میں تو والدین تک کو احساسِ کمتری میں مبتلا کر کے انگریزی معیارِ زندگی بنا دی گئی ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہم اپنی ہی زبان سے فاصلہ رکھ کر ترقی کا خواب دیکھتے رہیں گے؟ جب تک اردو کو علم، ٹیکنالوجی، عدالتوں، انتظامیہ اور تعلیم کا حقیقی ذریعہ نہیں بنایا جائے گا، تب تک یہ منافقت برقرار رہے گی کہ “قومی زبان اردو ہے مگر کام سب انگریزی میں ہوگا۔”
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم زبان کو شعور کا معیار سمجھنے کی غلط روش ترک کریں۔ انگریزی سیکھنا غلط نہیں، مگر اسے شخصیت کا معیار بنانا نہ صرف سماجی ناانصافی ہے بلکہ فکری پسماندگی بھی۔ معاشرے کو اس سوچ سے نکلنا ہوگا کہ جو جتنا انگریزی جانتا ہے وہ اتنا ہی باشعور ہے۔ باشعور وہ ہے جو انسانوں کی قدر پہچانتا ہو، اپنا کلچر اور اپنی زبان جانتا ہو، اور اپنے ملک کی شناخت پر فخر کرتا ہو۔اردو صرف زبان نہیں — یہ ہماری تاریخ، ادب، تہذیب اور اجتماعی شناخت ہے۔ اسے کمزور کرنا خود اپنی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے مترادف ہے۔ اگر ہم واقعی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑا ہونا چاہتے ہیں تو اپنی زبان کو وقار دینا ہوگا، اسے علم و آگہی کا ذریعہ بنانا ہوگا، اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ زبان نہیں، سوچ انسان کو بڑا بناتی ہے۔
قومی زبان اور سماجی شعور کا بحران