سوشل میڈیا آج ہماری روزمرہ زندگی کا سب سے طاقتور جزو بن چکا ہے۔
تعلیم سے سیاست تک، ذوق سے مزاج تک—ہر چیز اس کے زیرِ اثر ہے۔نئی نسل خاص طور پر اس کی سب سے بڑی صارف بھی ہے اور متاثر بھی۔
نوجوان روزانہ کئی گھنٹے موبائل اسکرین پر گزارتے ہیں۔لائکس، کمنٹس اور ویوز اُن کی خود اعتمادی کا پیمانہ بن گئے ہیں۔جس سے اکثر ذہنی دباؤ، الجھن اور احساسِ کمتری جنم لیتا ہے۔موازنے کی اس مصنوعی دوڑ نے فطری اعتماد کم کر دیا ہے۔دوسری طرف غلط اور بے بنیاد معلومات کی یلغار نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔جھوٹی خبریں لمحوں میں وائرل ہوتی ہیں اور لوگ بغیر تحقیق کے یقین کر لیتے ہیں۔معاشرہ سچ اور افواہ کے فرق سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔یہ خطرہ صرف نوجوانوں تک محدود نہیں بلکہ ہر عمر کے افراد تک پھیل چکا ہے۔
اس وقت سب سے بڑی ضرورت میڈیا لٹریسی ہے۔
تعلیمی اداروں میں بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ کون سی خبر قابلِ بھروسہ ہے۔
والدین کو بھی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنا چاہیے۔حکومت کو فیک نیوز کے خلاف مضبوط قوانین اور موثر نگرانی کا نظام بنانا ہوگا۔لیکن ساتھ ہی اظہارِ رائے کی آزادی بھی برقرار رہنی چاہیے۔سوشل میڈیا کو روکنا ممکن نہیں، لیکن اسے سمجھ کر استعمال کرنا ضروری ہے۔اگر نوجوان حقیقت اور دکھاوے میں فرق پہچان لیں تو یہ پلیٹ فارم طاقت بھی بن سکتا ہے۔اصل چیلنج یہ ہے کہ سوشل میڈیا ہمیں نہ چلائے،بلکہ ہم اسے شعور کے ساتھ استعمال کرنا سیکھیں۔
سوشل میڈیا کا بڑھتا اثر