تحریر: ایم اعجاز چانڈیو مہرانوی
دنیا بھر میں ہر سال 9 دسمبر کرپشن کے خلاف عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد یہ ہے کہ معاشروں میں بدعنوانی کے نقصانات سے آگاہی پیدا کی جائے اور لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ کرپشن محض ایک اخلاقی برائی نہیں بلکہ ایک ایسی لعنت ہے جو اداروں کی بنیادیں ہلا دیتی ہے، انصاف کو کمزور کرتی ہے اور عام انسان کے حقوق کو نگل جاتی ہے۔
مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کرپشن دن منانے سے کرپشن ختم ہوسکتی ہے؟
کیا صرف سیمینار، پوسٹرز، ریلیاں اور تقریریں اس ناسور کا علاج ہیں؟
سچ تو یہ ہے کہ ہزاروں دن منانے سے بہتر ہے کہ ایک دن میں کرپشن کے خاتمے کے لیے عملی قدم اٹھایا جائے۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں رشوت، سفارش، اقربا پروری، جعلی بھرتیاں اور اختیارات کا غلط استعمال اس قدر عام ہوچکا ہے کہ بہت سے لوگ اسے معمول سمجھنے لگے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ اہل لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں اور نااہل لوگ منصبوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ عوام کا اعتماد اداروں سے اٹھ جاتا ہے، اور انصاف کا معیار کمزور ہوجاتا ہے۔
اگر ہم واقعی کرپشن کے خاتمے کے خواہش مند ہیں تو پھر ہمیں ان چیزوں کی ضرورت ہے:
قانون کی بالادستی ہر فرد پر یکساں ہو
اداروں میں شفاف احتساب کا نظام ہو
مضبوط اور بااختیار نگرانی کا عمل موجود ہو
عوام میں یہ شعور ہو کہ رشوت دینا بھی اتنا ہی جرم ہے جتنا رشوت لینا
کرپشن کسی ایک بیان، جلسے یا عالمی دن سے نہیں جاتی؛ یہ روزانہ کی بنیاد پر دیانت، اصول پسندی اور قانون پر عمل سے ختم ہوتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ 9 دسمبر کو کیا ہوا—اصل سوال یہ ہے کہ 9 دسمبر سے آگے ہم کیا کرنے کو تیار ہیں؟
کیا ہم نے اپنے اداروں میں بہتری لانے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھایا؟
کیا ہم نے رشوت کے خلاف کوئی مضبوط فیصلہ کیا؟
یا پھر ہر سال کی طرح یہ دن بھی رسمی سرگرمیوں تک محدود رہ گیا؟
اگر ہم یہ طے کرلیں کہ:
“کرپشن کے خلاف دن نہیں، کرپشن کے خلاف نظام ضروری ہے”
تو یقین جانئے، ملک خود بخود ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔ ایسے معاشروں کو جشن منانے کی ضرورت نہیں پڑتی، ان کے کردار اور عمل خود دنیا کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔
آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہے:
ملک اداروں سے بنتے ہیں، ادارے قانون سے مضبوط ہوتے ہیں، اور قانون ایمانداری سے قائم رہتا ہے۔