وزیراعلیٰ پنجاب اسسٹنٹ کمشنر و پیرا فورس رائیونڈکے نام

راستوں کے حقوق کے بارے میں قرآن و حدیث سے روشنی میں واضع احکامات ہیں کہ راستے سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹانا صدقہ ہے۔یعنی حضور ؑ نے اپنی اُمت کے مسلمانوں کو راستوں میں رکاٹیں ڈالنے سے منع فرمایاہے۔مسلمانوں کی سب سے محبوب عبادت نماز ہے جن مقامات پر نماز نہیں ہوتی اُن میں سے ایک راستے بھی ہیں۔اگر راستوں پرفرض عبادت میں شمار نماز ادا کرناجائز نہیں تو رزق کمانا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ وزیراعلیٰ حکومت پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ نے جہاں ریڈھی بازاروں کے قیام سے جائز روزی کمانے والوں کے لیے باوقاروسیع اہتما م کو پھیلاؤ پر گامزن کیا ہوا ہے وہاں راستوں سے ناجائز تجاوازات اور ریڈھیوں کو ہٹانے کے لیے پیرا فورس کا قیام شرعی اور اخلاقی طور پر سو فیصددرست کیا ہے۔حکومت پنجاب کی طرح میں بھی کسی غریب پاکستانی کے حلال رزق کا مخالفت نہیں ہوں مگر آپ کونظریہ مریم نواز صاحبہ کاپس منظر ضرور دیکھاتے ہوئے آگے بڑھتا ہوں۔جولوگ کہتے ہیں حکومت پنجاب اور پیرا فورس غریب عوام پر ظلم کر رہے ہیں ان کے شعورکی درستی ہو جائے گئی۔
(الکاسب حبیب اللہ)خدا کہتا ہے کہ اپنے ہاتھ سے روزی کمانے والا اس کا دوست ہے تو اس دوست کی نشانی یہ ہے کہ وہ شرعی اور اخلاقی تقاضوں پر مزدوری کمانے والا ہوگا۔ فرمان رسول اللہ ؑ ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔مگر کتنے مزدور آپ نے ایسے دیکھے ہیں جو اس طرح مزدوری کرتے ہیں کہ پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں؟عوامی گزرگاہوں پر ریڈھیوں سے راستے بند کرنے والے کتنے لوگ ہیں جو دُکان کرایہ بجلی بل نہ ادا کرنے کی وجہ سے اپنا سودا مہنگے کرایے اور بل ادا کرنے والے دوکانداروں سے کم قیمت پر فروخت کرتے ہیں؟خراب پھل پر اسٹیکر لگا کر ناقص سودا مہنگے داموں بیچنے والوں سے عام عوام کو کیا فائدہ ہے؟ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پراسلامی و اخلاقی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ان ریڈھی والوں کے ہر طرح کے ظلم کو نظرانداز کیوں کر دیتے ہیں؟
ریڈھی بانوں کی اکثریت مہنگے موبائل اچھی خوراک اچھا گھر اور پرائیویٹ سکول میں بچے پڑھانے والوں کی ہے پچیس فیصد کمزور حالات کے مالک ہوتے ہیں جن کے لیے حکومت پنجاب نے وسائل فراہم کرتے منصوبوں کا آغاز کیا ہوا ہے۔عوام کے زہنوں میں ایک تاثر گردش کرتا ہے کہ ریڈھی لگانے والا بڑا ہی تنگ دست برے حالات میں جینے والا انسان ہوتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کسی کے چھوٹے کام کی وجہ سے اس انسان کو تنگ دست سمجھنے لگتے ہیں۔ایک ریڈھی والا ایک دوکان دار سے زیادہ پرکشش منافع کماتا ہے اسی لیے وہ دُکان کرایہ اور بجلی بل جیسے اخراجات سے بچنے کے لیے جان بوجھ کرعوامی راستوں پر مشکلات پیدا کرتے ہیں ورنہ انہیں ریڈھی سے دکان کی ترقی پر جانے سے کون روکتا ہے؟ اسی طرح بھیک کا پیشہ اختیار کرنے والے بھی اس عقل مندی میں قید ہوتے ہیں کہ اس روزگارمیں دُکان کرایہ بجلی بل کے علاوہ سرمایہ بھی نہیں لگانا پڑتا۔
میری تحریر کا موضوع عوامی راستوں کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات پر آگاہی و نشاندہی فراہم کرنا ہے لہذا ہم اسی جانب چلتے ہوئے ایک ذاتی اور اہل محلہ کی شکایت بھی احکام بالا تک پہنچاتے چلیں تاکہ اس مسلے کا بھی مداوا ہو سکے۔مگر یہ بھی یاد رہے کہ رائیونڈ تبلیغی مرکز کے بازار سے مستقل بنیادوں پر ناجائز تجاوازات اور ریڈھیاں ہٹانے میں ماضی و حال میں تمام ادارے ناکامی سے دوچار رہے ہیں جس کی وجوہات میں پہلی یہ کہ روڑ سے منسلک دُکان مالکان پیسے لیکر سڑک کرائے پر دیتے ہیں اور دوسری وجہ جو ریڈھی والے دوران کاروائی پکڑے جاتے ہیں وہ پیسے دیکر چھوٹ جاتے ہیں اورپھر سے روڑ پر قابض ہو جاتے ہیں۔مقامی رہائشی افراد کو اس سے کوئی سروکار نہیں مگرسوال یہ ہے کہ سٹرک کی رکاوٹیں دُور کرنے کے لیے شریف شہریوں کی گلیوں میں کیوں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں؟کیا یہ لوگ ٹیکس پیڈ پاکستانی نہیں ہیں؟
ناجائز تجاوزات اور ریڈھی بانوں کی تکلیفوں سے برسوں کی شکار رائیونڈ تبلیغی مرکز گیٹ نمبر۹والے بازار سے وابستہ رہائشی گلیو ں کی معززمذہبی عوام وزیراعلیٰ حکومت پنجاب مریم نواز صاحبہ اسسٹنٹ کمشنرو پیرا فورس انچارج تحصیل رائیونڈ سے مطالبہ کرتی ہے کہ جب سٹرک پر لگی ریڈھیاں ہٹانے کے لیے کاروائیاں کی جاتی ہیں تو یہ ریڈھیوں والے مقامی رہائشی گلیوں میں پناہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے گلیوں کی بندش تکلیفوں سے دوچار کرتی ہے جس طرح مین سٹرک سے عام حالات میں ایمبولینس نہیں گزر سکتی اسی طرح جب ریڈھیوں والے گلیاں بند کرتے ہیں تو بوڑھے بچے مردعورتیں اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ جاتے ہیں جنہوں نے کئی بارشریفانہ انداز میں ریڈھی والوں سے منت سماج بھی کئی مگر وہ قوم پرستی کے منافقانہ اتحاد کی وجہ سے بدمعاشی کرتے ہوئے زبردستی گلیوں میں قابض رہتے ہیں۔برسوں سے مالکانہ حقوق رکھتے شریف حق پرست مقامی افراد نے اس زلت آمیز صورتحال سے جان چھڑوانے کے لیے مورخہ 22-10-2025کو پیرا فورس آفس اوراسسٹنٹ کمشنر تحصیل رائیونڈ آفس درخواست دائر کروائی جس کا ڈائری نمبر 1185ہے تین ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک مستقل بنیادوں پر اسسٹنٹ کمشنر رائیونڈ کی طرف سے اس کا حل نہ نکال کر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کی اداروں کے زریعے عوامی خدمت کے بیانے کو ابہام میں مبتلا کر دیا ہے۔اس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کو شکایت درج کروائی گئی جس کا نمبر 1555754جو 26جنوری 2026کو رجسٹر ہوئی۔اس پر بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی ہونی ہے۔اس لیے اشتہار بازی اور بیان بازی پر کان نہ دھریں عملی طور پر عوام کے مسائل رشوت شفارش سے ہی حل ہو رہے ہیں جواس سے محروم ہیں وہ مسائل کی زد میں ہیں۔غفلت سستی نظر اندازی تنقید کو جنم دیتی ہے اور اعلیٰ ظرفی اصلاح کا نتیجہ۔ پنجاب حکومت اور سرکاری اداروں کے افسران کی قابلیت پر یقین رکھتے ہوئے پھر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانیت و انسانیت کے جذبے سے متاثرہ عوام کی دادرسی کرکے سرخرو ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *