انسانی حقوق اور دنیا

انسانی حقوق کا تصور آج کی دنیا میں ایک بلند بانگ نعرہ بن چکا ہے۔ عالمی ادارے، طاقتور ممالک، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور میڈیا سب زبان پر انسانی وقار، آزادی اور انصاف کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں، مگر جب عمل کی باری آتی ہے تو یہی دنیا حیران کن حد تک خاموش دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسانی حقوق واقعی عالمی ضمیر کا حصہ ہیں تو پھر ان کا اطلاق کمزور اور مظلوم اقوام پر کیوں نہیں ہوتا؟ آج کی دنیا میں اگر ہم انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو تضادات واضح نظر آتے ہیں۔ فلسطین، کشمیر، یمن، سوڈان اور دیگر خطوں میں معصوم شہریوں، بچوں اور عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، بستیاں اجاڑی جا رہی ہیں، اسپتال اور اسکول نشانہ بن رہے ہیں، مگر عالمی طاقتیں یا تو خاموش ہیں یا پھر محض رسمی بیانات تک محدود۔ انسانی حقوق کا علمبردار کہلانے والی دنیا ان مظالم پر عملی اقدام کرنے سے قاصر کیوں ہے؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج انسانی حقوق بھی مفادات کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، جہاں مفاد ہو وہاں آنکھ بند کر لی جاتی ہے اور جہاں مفاد نہ ہو وہاں انسانی حقوق کا شور مچایا جاتا ہے، یہی دوہرا معیار عالمی نظام کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ کسی ملک پر پابندیاں لگانا ہوں تو انسانی حقوق یاد آ جاتے ہیں اور کسی طاقتور اتحادی کی بات ہو تو وہی حقوق پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ جیسے عالمی ادارے جن کا قیام ہی عالمی امن اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عمل میں آیا تھا، آج بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں، قراردادیں منظور ہوتی ہیں مگر ان پر عملدرآمد کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں، ویٹو پاور جیسے اختیارات نے انصاف کو چند طاقتور ممالک کا یرغمال بنا دیا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ مظلوم کی فریاد فائلوں میں دب کر رہ جاتی ہے۔ میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے قابلِ غور ہے، بعض انسانی المیوں کو نمایاں کیا جاتا ہے جبکہ بعض کو دانستہ نظرانداز کر دیا جاتا ہے، یہ انتخابی ہمدردی نہ صرف صحافتی اقدار کے منافی ہے بلکہ عالمی ضمیر کو بھی مجروح کرتی ہے، انسانی حقوق اگر واقعی عالمگیر ہیں تو ان کی کوریج بھی غیر جانبدار اور مساوی ہونی چاہیے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک اس دوہرے معیار کا سب سے زیادہ شکار ہیں، ایک طرف دہشت گردی، غربت اور داخلی مسائل، دوسری طرف انسانی حقوق کے نام پر دباؤ، حالانکہ دنیا کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پاکستان نے لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کی، دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دیں اور وسائل کی کمی کے باوجود انسانی جانوں کے تحفظ کی کوشش کی، مگر عالمی سطح پر ان حقائق کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کا تحفظ صرف تقاریر، رپورٹس اور عالمی دن منانے سے ممکن نہیں، اس کے لیے عملی اقدامات، غیر جانبدار رویہ اور طاقتور کے خلاف بھی سچ بولنے کی جرات درکار ہے، جب تک انصاف کا معیار سب کے لیے ایک نہیں ہوگا انسانی حقوق محض ایک خوبصورت نعرہ ہی رہیں گے۔ آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا دنیا واقعی انسانی حقوق کے تحفظ میں سنجیدہ ہے یا یہ تصور بھی عالمی سیاست کا ایک ہتھیار بن چکا ہے، اگر عالمی برادری نے اپنا رویہ نہ بدلا تو تاریخ گواہ رہے گی کہ انسانیت چیختی رہی اور دنیا صرف بولتی رہی، عمل پھر بھی کم ہی رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *