پولیس کی خاتون سے مبینہ گینگ ریپ کے خلاف جے یو آئی کا بڑا احتجاج، عدالتی تحقیقات اور سخت سزا کا مطالبہ۔۔۔
جیکب آباد (رپورٹ: اے جی بلوچ) پولیس اہلکاروں کی جانب سے نوجوان خاتون آسیہ کھوسو کے ساتھ جیکب آباد ضلع کے آر ڈی 52 تھانے میں ایک ہفتے تک مبینہ گینگ ریپ جیسے سنگین اور انسانیت سوز واقعے کے خلاف جمعیت علماءِ اسلام (جے یو آئی) کی جانب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت ضلعی امیر ڈاکٹر اے جی انصاری، ضلعی جنرل سیکریٹری مولانا سلیم اللہ بروہی، حافظ محمد رمضان سومرو، حاجی محمد عباس بلوچ، اسداللہ حیدری اور دیگر رہنماؤں نے کی۔
احتجاجی مظاہرہ جے یو آئی کی ضلعی دفتر جیکب آباد سے نکالا گیا، جس میں کارکنان، رہنما اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرہ شہر کے مختلف راستوں سے گزرا، جہاں شرکاء نے پولیس زیادتیوں اور خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔بعد ازاں احتجاج پريس کلب جیکب آباد کے سامنے دھرنے کی شکل اختیار کر گیا۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے واقعے کو انتہائی دردناک، شرمناک اور انسانیت سوز قرار دیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ پولیس کا فرض عوام کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ہے، لیکن اگر یہی اہلکار اس قسم کے وحشیانہ جرائم میں ملوث ہوں تو یہ پورے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
جے یو آئی کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری اور شفاف عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، ملوث پولیس اہلکاروں کو بلا تاخیر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں سخت ترین اور عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر متاثرہ خاتون کو انصاف فراہم نہ کیا گیا اور ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور باقاعدہ تحریک چلائی جائے گی۔ رہنماؤں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ پولیس نظام سے کالی بھیڑوں کو فوری طور پر نکالا جائے تاکہ معاشرے میں اعتماد بحال ہو سکے۔