راولپنڈی (راشد محمود ستی) لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں معروف قانون دان راجہ اجمل ستی ایڈوکیٹ نے سڑکوں کے منصوبوں میں مبینہ 10 ارب روپے کی بےضابطگیوں کا بڑا سکینڈل بے نقاب کر دیا۔ ٹھیکیدار محمد ارشاد کی جانب سے دائر رِٹ پر جسٹس جواد حسن نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر مری، ڈپٹی کمشنر چکوال، ڈپٹی کمشنر جہلم اور پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران کو تمام ریکارڈ سمیت آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم جاری کر دیا۔اجمل ستی ایڈوکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ راولپنڈی، جہلم، چکوال اور مری میں تقریباً 10 ارب روپے مالیت کی سڑکوں کی سکیموں کے ورک آرڈر مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض من پسند ٹھیکیداروں کو رات کے اندھیرے میں گھر بلا کر جاری کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اور مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت سے ٹینڈر ہی جاری نہیں کیے گئے اور اس عمل سے صوبائی خزانے کو تقریباً 4 سے 5 ارب روپے کا بھاری نقصان ہوا۔درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ چونکہ یہ ایک “میگا کرپشن سکینڈل” ہے، لہٰذا اس معاملے کی شفاف تفتیش کے لیے ایک اعلیٰ سطحی جے آئی ٹی تشکیل دی جائے تاکہ اصل حقائق اور ذمہ داروں کو سامنے لایا جا سکے۔ اجمل ستی ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس کیس کو نیب میں بھی لے کر جائیں گے۔
عجب کرپشن کی غضب کہانی