​ڈیرہ غازی خان ،تونسہ شریف ،کوہ سلیمان میں بینظیر انکم سپورٹ یا استحصال کا منظم جال؟

تحریر ڈیرہ غازی خان بیوروچیف چوھدری احمد سے )

​ڈیرہ غازی خان ،تونسہ شریف ،کوہ سلیمان میں بینظیر انکم سپورٹ یا استحصال کا منظم جال؟
​تحصیل تونسہ،کوہ سلیمان ڈی جی خان گرد و نواح میں غریب خواتین کی تذلیل، کروڑوں کی کٹوتی اور انتظامیہ کی مبینہ چشم پوشی۔
ملی بھگت ؟
​ڈیرہ غازی خان بیوروچیف چوھدری احمد )

​ڈیرہ غازی خان/تونسہ شریف: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) جس کا مقصد معاشرے کے کچلے ہوئے طبقات اور بے سہارا خواتین کو معاشی تحفظ فراہم کرنا تھا، اب تونسہ شریف اور گردونواح میں بدعنوانی، ایجنٹ مافیا اور انسانی حقوق کی پامالی کا مرکز بن چکا ہے۔ 2025-26 کے وفاقی بجٹ میں 716 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کیے جانے کے باوجود، تونسہ کی گلیوں اور پوشیدہ کونوں میں غریب عورتوں کی عزتِ نفس کو چند ہزار روپوں کے عوض نیلام کیا جا رہا ہے۔

​کٹوتی کا “ٹیکس”: غریب کا نوالہ چھیننے والے سرگرم
​تحصیل تونسہ میں رجسٹرڈ 80 ہزار کے قریب مستحق خواتین کے اکاؤنٹس میں جہاں 13,500 روپے کی قسط اور بچوں کے وظائف منتقل ہو رہے ہیں، وہیں ناخواندگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایجنٹ فی خاتون 3 سے 6 ہزار روپے تک “بھتہ” وصول کر رہے ہیں۔ کئی خواتین جن کی رقم وظائف ملا کر 50 ہزار سے تجاوز کر جاتی ہے، انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے حق پر کتنا بڑا ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔

​بدعنوانی کا نیٹ ورک: “عبدالمناف ماڈل” اور ڈیوائس ہولڈرز
​ذرائع کے مطابق، وہوا، کھڈ بزدار اور کوتانی جیسے دور دراز علاقوں میں مانیٹرنگ کا نظام ہی کرپشن کا ذریعہ بن گیا ہے۔ مبینہ طور پر ایک نائب قاصد عبدالمناف کو مانیٹرنگ پر مامور کیا گیا ہے جس کا ہدف ریٹیلرز سے روزانہ 30 سے 50 ہزار روپے وصول کرنا بتایا جاتا ہے۔ تونسہ میں کام کرنے والی 120 سے زائد ڈیوائسز کے مالکان سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے پیشگی لے کر انہیں لوٹ مار کا “لائسنس” دے دیا گیا ہے۔

​جیل میں قید انصاف: سم کارڈ کے حصول میں دشواریاں
​تونسہ شریف میں وائلٹ سم کا حصول کسی امتحان سے کم نہیں۔ بی آئی ایس پی کے عملے اور زونگ کے نمائندے (شہزاد نامی اہلکار) پر الزامات ہیں کہ وہ صرف بااثر افراد یا سفارشی کارڈز کو ترجیح دیتے ہیں۔ دور دراز سے آئی خواتین سارا دن ذلیل و خوار ہوتی ہیں، جبکہ “پسِ پردہ” ڈیل کرنے والوں کے کام منٹوں میں ہو جاتے ہیں۔

​بے ہوشی، ہراسانی اور انسانیت سوز مناظر
​تپتی دھوپ میں گھنٹوں انتظار اور سہولیات کے فقدان کے باعث کئی خواتین بے ہوش ہو چکی ہیں۔ عوامی مطالبہ ہے کہ ان ادائیگیوں کو بند کمروں یا گاڑیوں کے بجائے کھلی جگہوں، جیسے کہ بڑے اسٹیڈیم، میں منتقل کیا جائے جہاں کیمروں کی نگرانی اور پولیس کی موجودگی میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔

​بڑی لوٹ مار: صرف ایک تحصیل میں کروڑوں روپے ماہانہ کی غیر قانونی کٹوتی۔
​سفارشی کلچر: سم کارڈز کے حصول میں غریب خواتین سے بدتمیزی اور اقربا پروری۔
​مانیٹرنگ کا فقدان: اسسٹنٹ ڈائریکٹر تونسہ کو مخصوص علاقوں میں جانے سے روکنے کے انکشافات۔
​سوالیہ نشان: سم کارڈز پر ہونے والے کروڑوں کے اخراجات کا فائدہ کیا، اگر ادائیگی اب بھی شناختی کارڈ پر ہی ہونی ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *