تحریر: محمد حنیف کاکڑ راحت زئی
تحصیل مسلم باغ کو ضلع کا درجہ دینے کا مطالبہ کوئی وقتی، جذباتی یا شخصی خواہش نہیں بلکہ ایک دیرینہ عوامی، انتظامی اور اصولی تقاضا ہے، جو خطے کی زمینی حقائق، آبادی کے پھیلاؤ اور عوامی ضروریات کی بنیاد پر سامنے آیا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر اور سینیٹر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے ہمیشہ اس مطالبے کی خلوصِ نیت، اصولی سوچ اور عوامی مفاد کے تناظر میں بھرپور حمایت کی ہے۔
حضرت مولانا عبد الواسع صاحب مختلف سیاسی، سماجی اور عوامی فورمز پر اس مسئلے کو مؤثر انداز میں اجاگر کرتے رہے ہیں۔ بااثر شخصیات اور متعلقہ حکومتی حلقوں سے ملاقاتوں میں بھی انہوں نے تحصیل مسلم باغ کو ضلع بنانے کی ضرورت اور اہمیت پر واضح مؤقف اختیار کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جدوجہد کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوامی سہولت اور بہتر انتظامی نظام کے قیام کے لیے ہے۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ضلع قلعہ سیف اللہ ایک وسیع رقبے، پسماندہ اور دور دراز علاقوں پر مشتمل ضلع ہے۔ محدود وسائل، فنڈز کی کمی اور انتظامی دباؤ کے باعث تمام علاقوں میں یکساں ترقی ممکن نہیں ہو پاتی۔ ایسے میں تحصیل مسلم باغ کو ضلع کا درجہ دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے تاکہ انتظامی امور میں بہتری، عوامی مسائل کے فوری حل اور ترقیاتی منصوبوں کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔
اگر تحصیل مسلم باغ کو ضلع بنایا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، صحت کے شعبے میں اسپتالوں کی بہتری، تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن، اسکولوں اور کالجوں کی ترقی، اسکالرشپس، بنیادی سہولیات کی فراہمی، سرکاری ملازمتوں کے مواقع اور مجموعی ترقیاتی توازن میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ یہ تمام عوامل نہ صرف مسلم باغ بلکہ پورے خطے کے لیے خوشحالی اور استحکام کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
حال ہی میں ایک نجی اور تنظیمی اجلاس کے دوران حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ تحصیل مسلم باغ کو ضلع کا درجہ ملنا صرف مسلم باغ نہیں بلکہ قلعہ سیف اللہ کے عوام کے لیے بھی خوش آئند ثابت ہوگا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ مسلم باغ ہو یا قلعہ سیف اللہ، دونوں کے عوام ان کے اپنے ہیں اور وہ علاقائی یا سیاسی تقسیم سے بالاتر ہو کر عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ دنوں میں بعض نادان، نااہل اور سیاسی طور پر ناپختہ عناصر سوشل و ڈیجیٹل میڈیا پر منفی، بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈا کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ یہ پروپیگنڈا نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ عوامی شعور کی توہین کے مترادف بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے اپنے سیاسی دور میں اس خطے کے لیے بجلی، سڑکوں، تعلیمی اداروں، اسکولوں، کالجوں، کیڈٹ کالج اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی صورت میں جو تاریخی خدمات سرانجام دی ہیں، وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان خدمات کی گواہی خود علاقے کے عوام دیتے ہیں، جنہوں نے عملی طور پر ان ترقیاتی ثمرات سے فائدہ اٹھایا ہے۔
لہٰذا حقائق، کارکردگی اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تحصیل مسلم باغ کو ضلع بنانے کے سب سے بڑے، مخلص اور سنجیدہ حامی جمعیت علماء اسلام ہے۔ چاہے مسلم باغ ہو یا قلعہ سیف اللہ، دونوں علاقوں میں جمعیت علماء اسلام کو عوامی اعتماد اور مقبولیت حاصل ہے، کیونکہ یہ جماعت نہ صرف اسلامی اقدار کی علمبردار ہے بلکہ خدمتِ خلق اور عوامی مسائل کے حل میں بھی ایک نمایاں، مسلسل اور قابلِ فخر کردار ادا کر رہی ہے۔