کراچی کو وفاق کا حصہ بنائیں — پاکستان کا دل بچائیں

تحریر: نعمان احمد دہلوی
پاکستان کا سب سے بڑا شہر، معاشی دارالحکومت اور بحری تجارت کا مرکز ہے۔ یہ شہر ملک کی تقریباً 70 فیصد درآمدات اور برآمدات کا دروازہ ہے، یہاں کی بندرگاہ قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور یہاں کی آبادی تین کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ مگر افسوس کہ اس عظیم الشان شہر کو سندھ کی صوبائی حکومت کے زیرِ انتظام رکھا گیا ہے، جو اپنی نااہلی، بدعنوانی اور سیاسی انتقام کی وجہ سے کراچی کی ترقی کو مسلسل روک رہی ہے۔ سندھ حکومت کی ناقص کارکردگی نے کراچی کو کچرے کے ڈھیر، نالیوں کے دلدل، اور بنیادی سہولیات سے محروم ایک شہر بنا دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ مطالبہ اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ کراچی کو فوری طور پر وفاق کا حصہ بنایا جائے، اور وفاق ایک سادہ نوٹیفکیشن کے ذریعے اس شہر پر براہِ راست کنٹرول قائم کر سکتا ہے۔
کراچی کی اہمیت پر کوئی دو رائے نہیں۔ یہ شہر پاکستان کی معاشی زندگی کا نبض ہے۔ یہاں سے ٹیکسوں کی بھاری رقم وفاقی خزانے میں جاتی ہے، مگر بدلے میں شہر کو نہ مناسب ترقیاتی فنڈز ملتے ہیں نہ ہی انتظامی استحکام۔ سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کو نظر انداز کیا جاتا ہے، جہاں ترجیحات سندھ کے دیہی علاقوں کو دی جاتی ہیں، جبکہ شہر کے مسائل جیسے پانی کی قلت، ٹریفک، گندگی، اور امن و امان کی خرابی کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ حالیہ سانحات، جیسے گل پلازہ کی آگ اور دیگر حادثات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ صوبائی حکومت کی صلاحیت اور ارادہ دونوں ناکام ہیں۔ یہ نااہلی صرف انتظامی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے، جہاں ایک جماعت اپنے سیاسی مفادات کے لیے شہر کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھیں تو کراچی 1948 میں وفاقی دارالحکومت کا درجہ رکھتا تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد یہ پاکستان کا دارالحکومت بنا اور 1959 تک وفاقی علاقہ رہا۔ اس دوران شہر نے ترقی کی نئی منزلیں طے کیں۔ 1960 کی دہائی میں ایک یونٹ اسکیم کے تحت یہ سندھ کا حصہ بنا، مگر اس کی معاشی اہمیت کم نہ ہوئی۔ آج بھی کراچی کو وفاقی علاقہ بنانے کا مطالبہ کوئی نئی بات نہیں۔ دیگر سیاسی حلقے مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ کراچی کو وفاق کے ماتحت کر کے اسے مالیاتی دارالحکومت کا درجہ دیا جائے۔ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ سندھ حکومت ناکام ہو چکی ہے، اور کراچی کو پاکستان کے مفاد میں وفاقی علاقہ بنانا ضروری ہے۔
آئینی اعتبار سے یہ ممکن ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 وفاق کو صوبوں پر ہدایات جاری کرنے اور بعض حالات میں انتظامی کنٹرول قائم کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔ آرٹیکل 148 کے تحت وفاقی حکومت صوبوں کو ہدایات دے سکتی ہے کہ وہ وفاقی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور قومی مفادات کا تحفظ کریں۔ آرٹیکل 149 وفاق کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ امن و امان، معاشی استحکام، یا دیگر خطرات کی صورت میں صوبائی امور میں مداخلت کر سکے۔ یہ نوٹیفکیشن وفاقی حکومت کی ایگزیکٹو اتھارٹی کے تحت جاری کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں بعض انتظامی اقدامات میں دیکھا گیا ہے۔ یہ کوئی آئینی ترمیم کا معاملہ نہیں، بلکہ ایگزیکٹو ایکشن ہے جو فوری طور پر ممکن ہے۔
اگر کراچی وفاقی علاقہ بن جائے تو کیا فوائد ہوں گے؟ سب سے پہلے، شہر کو براہِ راست وفاقی وسائل اور توجہ ملے گی۔ ترقیاتی منصوبے تیز ہوں گے، بندرگاہ، ایئرپورٹ، اور انفراسٹرکچر کی بہتری ممکن ہوگی۔ دوسرا، انتظامی استحکام آئے گا، کیونکہ وفاقی بیوروکریسی زیادہ موثر اور غیر جانبدار ہوتی ہے۔ تیسرا، مقامی حکومت کو مضبوط بنایا جا سکے گا، جہاں کراچی کے شہری اپنے مسائل خود حل کر سکیں گے۔ چوتھا، معاشی ترقی میں اضافہ ہو گا، کیونکہ کراچی کو مالیاتی دارالحکومت بنانے سے سرمایہ کاری بڑھے گی، اور یہ شہر نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کا مالیاتی مرکز بن سکتا ہے۔
یہ مطالبہ کوئی تقسیمِ سندھ یا صوبائی سطح کا تنازع نہیں، بلکہ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔ کراچی پاکستان کا دل ہے، اور اس دل کی حفاظت وفاق کی ذمہ داری ہے۔ اگر سندھ حکومت اس دل کو سنبھالنے سے قاصر ہے تو وفاق کو آگے بڑھنا چاہیے۔ ایک سادہ نوٹیفکیشن سے یہ عمل شروع کیا جا سکتا ہے، جو کراچی کو نئی زندگی دے گا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر کراچی کے لیے کام کریں۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری ایکشن لے، اور کراچی کو وفاق کا حصہ بنا کر اسے وہ ترقی دے جو اس کا حق ہے۔ یہ نہ صرف کراچی کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو گا۔ کراچی کو وفاقی علاقہ بنائیں، پاکستان کو مضبوط بنائیں! اللہ پاک کراچی کی حفاظت فرمائے۔ آمین،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *