تحریر : محمد حنیف کاکڑ راحت زئی
این اے 251 میں 18 دسمبر کو 22 پولنگ اسٹیشنز پر ہونے والا انتخاب محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ایسا مرحلہ ہے جو دینی، اخلاقی اور قومی ذمے داریوں کا تقاضا کرتا ہے۔ ایسے مواقع قوموں کی سمت کا تعین کرتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے رائے دہی جیسے عمل کو محض ایک حق نہیں بلکہ ایک امانت قرار دیا ہے۔
اس حلقے میں بسنے والے تمام دینی طبقے سے تعلق رکھنے والے حضرات—حفاظِ کرام، علمائے دین، مفتیانِ عظام، شیوخُ الحدیث اور تبلیغی حضرات—اسی طرح تمام مرد و خواتین ووٹرز کی یہ مشترکہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اس انتخاب میں شعور، دیانت اور تقویٰ کے ساتھ حصہ لیں۔ ووٹ کا درست استعمال نہ صرف فرد کی آخرت سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات ہمیں یہ واضح پیغام دیتی ہیں کہ امانت ہمیشہ اسی شخص کے سپرد کی جائے جو علم، تقویٰ اور کردار میں دوسروں سے برتر ہو۔ ایسے نازک وقت میں یہ لازم ہے کہ رائے دہی کا معیار ذاتی پسند و ناپسند یا وقتی مفادات کے بجائے دینی اصولوں پر قائم ہو۔ جو امیدوار اسلامی تعلیمات کا علمبردار، ختمِ نبوت ﷺ کا محافظ اور دین کے نفاذ کے لیے عملی جدوجہد کا حامل ہو، وہی ووٹ کا اصل حق دار ہوتا ہے۔
جمعیت علماء اسلام کی جدوجہد اور اس راہ میں دی جانے والی قربانیاں تاریخ کا روشن باب ہیں۔ شہید شمس الدینؒ کی قربانیاں آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، جنہوں نے دین کے غلبے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ انہی قربانیوں کے تسلسل میں ان کے بھائی مولانا سید سمیع الدین صاحب دینِ اسلام، اسلامی اقدار اور ختمِ نبوت ﷺ کے تحفظ کے لیے ثابت قدمی سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کی کامیابی دراصل اس فکری اور نظریاتی جدوجہد کی کامیابی ہے جس کا آغاز شہداء نے کیا تھا۔
لہٰذا یہ توقع بجا ہے کہ این اے 251 کے باشعور عوام، بالخصوص دینی طبقہ، اس تاریخی موقع پر اپنی ذمے داری کا احساس کرتے ہوئے مولانا سید سمیع الدین صاحب کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرے گا اور ان کی کامیابی کے لیے دعاگو بھی رہے گا۔ اس انتخاب میں لیا گیا درست فیصلہ نہ صرف حال بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہوگا۔ امانت کو امانت دار تک پہنچانا ہی ایک باشعور قوم کی پہچان ہے۔